فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14080
 بازدید امروز : 25
 کل بازدید : 29973
 بازدیدکنندگان آنلاين : 1
 زمان بازدید : 1/5000
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

اباعبداللہ الحسین علیہ السلام فضائل کا مظہر

موضوع:اباعبداللہ الحسین  علیہ السلام فضائل کا مظہر

قال الله تبارک و تعالي «مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَکَرٍ أوْ أنثي وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحيِيَنَّهُ حَياهً طَيِّبَهً».[1]

سرنامہ کلام

آج دومحرم الحرام ہے کہ جس دن اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کربلا کی  سرزمین پرداخل ہوئے۔میں  امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث نقل کر کے اس سے اباعبدالحسین علیہ السلام کی صفات اورخصوصیات  کے بارے استفادہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ سب جانتے ہیں کہ  انسان کادل اوراس کی  روح،بیرونی  عوامل سے  متاثرہوتے ہیں۔بعض ایسے انسان ہیں کہ جن کہ دلوں پر شیطان کا قبضہ ہوتا ہے  اوربعض ایسے ہیں کہ فرشتے اورملائکہ کی ان کےدلوں  پرحکمرانی ہے۔قرآن کریم بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہوا نظرآتا ہے:«هَلْ أنَبِّئُکُمْ عَلي مَنْ تَنَزَّلَ الشَّياطين»[2]؛کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں بتاوں کہ شیطان کس پرنازل ہوتا ہے؟«تَنَزَّلُ عَلي کُلِّ أفّاکٍ أثيمٍ»[3]؛ان  انسانوں  کےدلو ں  پر کہ جوجھوٹے ہیں۔«أفّاک»؛یعنی  جھوٹ اورکذب، یعنی  سچ نہیں بولتے اور«أثيم»یعنی گناہگار ہیں،یعنی شیطان ان لوگوں پرنازل ہوتا ہے۔البتہ شیطان تین مرحلوں میں انسانوں کے دلوں  پرنازل ہوتا ہے:پہلے مرحلے میں اسے وسوسہ کرتا ہے، دورسے اسے کنٹرول کرتا ہے؛«إنَّ الشَّياطينَ لَيْوحْونَ إلي أوْليائِهِمْ»[4]یعنی  دورسے انہیں کنٹرول کرتا ہے اوروسوسہ کرتا ہے اب اگروہ دیکھتا ہے کہ  یہ انسان اس کے آگے سرتسلیم خم ہے تواس کے دل پرنازل ہوجاتا ہے۔فرماتاہے:تَنَزَّلُ الشَّياطينیعنی ان پرنازل ہوتے ہیں اوران دلوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے:«فَهُوَ لَهُ قَرينٌ»[5]یعنی اس کے  ہمراہ ہوجاتا ہے اوراسے کسی جگہ  پر بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس کے مقابلے میں  وہ فرشتے ہیں ۔خدا قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فرشتے بھی  یہ تین حالتیں رکھتے ہیں: یا درود بھیجتے ہیں اورمومن کے دل پرالہام کرتےہیں یا اس پرنازل ہوتےہیں:«إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ».[6]فرشتے،مومنین ،نیک اوردیندارانسانوں پر نازل ہوتےہیں؛ قرآن کریم فرماتا ہے: انسان کا دل یا توفرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ ہے:تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ  یا شیطان کے اترنے کی  جگہ ہے:فرماتا ہے:«هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِين»، «تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمیا شیطان وسوسہ کرتا ہے یا فرشتے الہام کرتےہیں،یا شیطان نازل ہوتا ہے یا فرشتہ نازل ہوتا ہے۔

رحمانی اورشیطانی زندگی

جوشخص اپنی زندگی میں بری سوچ، وسوسہ،  بے جا خواب اورخیانت رکھتا ہو  وہ شیطانی ہے اورجوشخص اپنی زندگی میں نورانیت، اچھا خواب اورپاکیزہ  سوچ رکھتا ہو وہ رحمانی ہے۔پس انسان لاپرواہ نہیں ہوسکتا ،انسان کے کچھ  خیالات اوراوہام ہیں؛ مثال کے طورپر آپ ایک جگہ پربیٹھےہیں لیکن آپ  کی سوچ کسی اورجگہ پہنچی ہوئی ہے،رات کوسوتے ہیں اورکوئی خواب دیکھتےہیں اوراچانک تمہارے دل میں  کو ئی چیز ڈال  دی  جاتی ہے۔یہ سب انسانوں کے اختیارمیں  نہیں ہے بلکہ  یہ اس سے مربوط ہے کہ کون  ہماری رہنمائی کررہا ہے۔قرآن  فرماتا ہے: بعض لوگوں  کوانسان راستہ دکھاتا ہے:تَنَزَّلُ الشَّيَاطِين[7] اوربعض لوگوں کو فرشتے اورملائکہ راستہ  دکھاتےہیں«تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ پارٹی بازی نہیں ہے؟کیا کچھ لوگوں کو شیطان اورکچھ لوگوں کوفرشتے کے  حوالے کردیتے ہیں؟نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ  اس جگہ سے مربوط ہے کہ جس پرشیطان یا فرشتہ نازل ہوتا ہے اگرقلب سلیم ہوتویہ فرشتے کے نازل ہونے کی جگہ ہے اوراگردل مریض ہوتویہ شیطان کے نزول کا مقام ہے۔ جن کے  دلوں میں مرض ہے«في قلوبهم مَرَضٌ[8]، تَنَزَّلُ الشَّياطين»[9] ان کے دلوں پرشیطان نازل ہوتے ہیںاورجن کےدل پاکیزہ ہیں اورجوقلب سلیم رکھتے ہیں:لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُون. إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيم[10] ان کےدلوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں:تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ. »یہ  انسان کے اپنے ساتھ مربوط ہے۔«وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ» ،جس جگہ پرآپ نے درخت لگایا ہے اگراس کی مٹی اچھی ہو،بارش بھی  ہو تووہ  اچھی طرح نشوونما کرتا ہےاورپھل وپھول دیتا ہے۔«وَالَّذِي خَبُثَ»[11]لیکن اگرآپ کلر والی زمین پردرخت لگاتے ہیں تواگرچہ اسے  زیادہ سے زیادہ پانی بھی دیں پھربھی وہ خشک ہوجاتا ہے اورکوئی  ثمرہ نہیں دیتا۔فقط فاعل کی فاعلیت کافی نہیں ہے بلکہ  قابلیت اورصلاحیت بھی  ضروری ہے۔بارش توایک ہی ہے لیکن یہ بیج  درخت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ  بیج  صلاحیت نہیں رکھتا اورخشک ہوجاتا ہے دل ایک ہی ہے لیکن ایک پرفرشتے نازل ہوتے ہیں۔«تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ»، اوردوسرے پرشیطان نازل ہوتےہیں۔«تَنَزَّلُ الشَّياطين».کچھ لوگ ایسے ہیں کہ شیطان جن کے دلوں میں الہام کرتا ہے«إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ»[12] اورکچھ لوگ ایسے ہیں کہ  ملائکہ ان پردرود بھیجتے ہیں۔«يصلي عليه»؛۔ یہ   دیباچہ اس  لیے بیان کیا ہے کہ آپ کومعلوم  ہوجائے کہ  انسان،ان وسوسوں اورالہام کی نسبت  بے خیال نہیں ہوسکتا ہے۔بلکہ وہ ان سے متاثرہوجاتا ہے۔اب امام صادق  علیہ السلام کی حدیث بیان  کرتا ہوں کہ کیا کریں کہ اس آیت«تَنَزَّلُ الشَّياطين»کا مصداق نہ بنیں بلکہ اس آیت«تنزيل الملائکه»کا مصداق بنیں۔

فضائل

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:قال ابلیس،شیطان کہتا ہے:«:خَمْسَهُ أشياءَ لَيْسَ لِي فِيهِنَّ حُيلَهٌ وَ سائِرُ النَّاسِ في قَبْضَتي»

پانچ ایسے گروپ  ہیں کہ جن پرمیں تسلط نہیں  رکھتا اور میں ان کےدلوں میں داخل نہیں ہوسکتا،ا ن کا مقابلہ نہیں کرسکتا، لیکن باقی لوگ میرے پیروکارہیں۔بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ فلاں فلائٹ اس ائیرپورٹ میں  نہیں اترسکتی ہے، مثلا  اس وقت  اسرائیل کے جہازوں کوہمارے ملک میں اترنے کا کوئی حق نہیں ہے،یہ ائیرپورٹ ہے کہ جومشخص کرتا ہے کہ کونسی  فلائٹ اترے۔ ہمارے دل کا ائیرپورٹ کہتا ہے کہ اگرتم ان صفات کے مالک ہوتوشیطان  اس میں  داخل نہیں ہوسکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ  وہ کونسی صفات ہیں؟یہ حدیث انتہائی زیبا حدیث ہے۔

۱۔سچی نیت اورخدا پرتوکل

ایک:«مَنِ اعتَصَم باللهِ عَن نيه صادقه وَاتّکلَ علَيه فِي جَميعِ أمورهِ»؛جس شخص کی نیت صاف ہواوروہ خدا پرتوکل کرتا ہو اوراس کی نیت میں جھوٹ اورریا کاری نہ ہو۔روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام  سے  پوچھاگیا کہ مولا،سب سےکم عقل انسان کونسا ہے؟ میں اورآپ اس شخص کو کم عقل کہتے ہیں  کہ جسے تجارت میں نقصان ہوا ہو۔لیکن امام  صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: کم عقل ترین انسان وہ ہے کہ جو عبادت توکرے لیکن ریاکارہو،مثلا نمازتوپڑھے لیکن لوگوں کے لیے،صدقہ تودے لیکن لوگوں کے لیے،حج توبجالائے لیکن لوگوں کےلیے۔حضرت نےفرمایا:ایسا انسان کم عقل ترین انسان ہے۔سوال ایسا کیوں ہے؟ جواب یہ ہے کہ چونکہ ریاکارشخص اس کے لیے عبادت کررہا ہے کہ جو اجروثواب نہیں دےسکتا،یہ بھی تمہاری طرح قیامت کے دن گرفتارہوگا،یعنی کم عقلی ہے کہ تم اس کےلیے کام کرو کہ جوتمہیں  کوئی نمبرنہیں دےسکتا کوئی امتیازنہیں دے سکتا۔ لہذا روایت میں ہے کہ قیامت کے دن ،ریاکارانسان سے کہا جائے گا،اے خاسر(اے گھاٹا کھانےوالے) اے کافر(۱۳)،اے نقصان اٹھانے والے،اے کفرکرنےوالے،تم نے اپنے اعمال ضائع کردیے۔میں نےامام صادق علیہ السلام کی ایک خوبصورت حدیث دیکھی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا ہے:جوانسان بھی  صبح کوگھرسے نکلتا ہے توشیطان بھی اسکے پیچھے لگ جاتا اورفرشتہ بھی  اس کےساتھ ہوتا ہے،دونوں اکھٹے اس کے ساتھ جاتےہیں تاکہ دیکھیں کہ انسان کس چیز کی   آمادگی رکھتا ہے۔اس کی مثال اس  بچے کی سی ہے کہ جوایک اچھا دوست بھی رکھتا ہے اورایک برا دوست بھی اس کےپیچھے  لگا ہوا ہے۔جیسے انٹرنیٹ کہ اس میں اچھی سائٹیں بھی ہیں اوربری سائیٹیں بھی،جیسے کوئی قرآنی  سی ڈی بھی  سن  سکتا ہے اورموسیقی بھی۔بعد میں فرمایا:اگرانسان گھرسے باہرنکلتے وقت یہ کہے: «بِسْم اللهِ آمَنتُ بِاللهِ تَوَکَّلتُ عَلَي الله مَا شاء اللهُ لَا حُولَ وَلا قُوّه إلّا بِالله»،توفرشتہ شیطان کی طرف منہ کرکے  کہتا ہے کہ  تم جاو یہ میرا آدمی ہے اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے،چونکہ اس  نے خدا کا نام بھی لیا ہے:بسم اللہ اوراس نے کہا ہے:خدا پرایمان رکھتا ہوں؛"آمنت باللہ"اورکہا ہے کہ خدا پرتوکل کرتا ہوں:"توکلت علی اللہ"اوریہ بھی کہا ہے:"ماشاء اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ"(۱۴)۔خدا کے علاوہ کوئی طاقت کسی کام کی نہیں ہے فقط خدا ہے کہ جس کی قدر ت اورطاقت ،اصلی اورحقیقی طاقت ہے۔ہماری ساری طاقت،خدا کی طرف سے ہے۔ہمارےایک استاد کی تعبیر کے مطابق اگردوانسان  ،دوبھیڑوں کو ذبح کررہے ہوں ،لیکن اگرایک ذبح کرتے  وقت کہے:بسم اللہ الرحمن الرحیم" یہ گوشت حلا ل ہے،لیکن اگردوسرا جان بوجھ کرکہے کہ میں "بسم اللہ " نہیں کہتا توقرآن فرماتا ہے  کہ یہ  گوشت حرام اورمردارہے اوراسے دورپھیکنا چاہیے۔ بنابرایں جس حیوان پربسم اللہ نہ پڑھی جائے وہ حرام ہوجاتا ہے۔اب جس انسان کی زندگی میں  اللہ کا نام نہیں ہے کیا وہ مردارنہیں ہے؟مشرک کیوں نجس ہے؟ مثلا  ابھی اس نے تازہ تازہ  غسل کیا ہے اورصاف وستھرالباس پہنا ہے لیکن قرآن فرماتا ہے کہ  اسے مسجد الحرام میں داخل ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔«إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»[15]مشرک شخص،مسجدالحرام میں داخل نہیں ہوسکتا۔مشرک کی کونسی چیز نجس ہے؟اس نے توابھی ابھی غسل  کیا ہے اورصاف ستھرے  کپڑے پہنے ہیں۔قرآن کریم، اہل کتاب،یہودیوں اورعیسائیوں کو نجس نہیں کہتا فقط مشرک اوربت پرست کو نجس کہتا ہے۔کس طرح ایک بھیڑکواگربسم اللہ کے بغیرذبح کیا جائے تو  اس کا گوشت کھانا حرام ہوجاتا ہےا وروہ مردارہوجاتی ہے،پس اسی طرح وہ انسان کہ جسے خدا نے خلق کیا ہے اسے شعور اورفہم عطا کیا ہے،لیکن اب وہ بت کے سامنےجھکتا ہے،یہ نجس ہے،اس نے پاکیزہ فطرت کوروند ڈالا ہے ،یہ مردار ہے۔یہ ظاہری طورپرانسان ہے یعنی چلتی پھرتی لاش ہے۔پس اگرکوئی صبح کے وقت گھرسےنکلتے وقت کہے: «بِسْم اللهِ آمَنتُ بِاللهِ تَوَکَّلتُ عَلَي الله مَا شاء اللهُ لَا حُولَ وَلا قُوّه إلّا بِالله»،توشیطان اس کےپیچھے نہیں جاتا۔ایک شخص،پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کی خدمت میں  آکرکہتا ہے:یارسول اللہ،میں  چاہتا ہوں کہ میرے  رزق میں اضافہ ہو،فرمایا:" «دُمْ عَلَي الطَّهارَه»[16]؛ہمیشہ باوضو رہو۔اگرتم پاکیزہ ہوئے توتمہارے رزق میں اضافہ ہوگا۔یہ طہارت فقط ظاہری وضو ہی نہیں ہے،خدا فرماتاہے:میں  پاکیزہ انسان سےمحبت کرتاہوں۔"فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِين".[17]۔پاکیزہ انسان وہ ہے کہ جوظاہری  وضو بھی رکھتا ہو اورباطنی وضو بھی۔نامحرم پرنگاہ  نہ کرے اوراس کی زندگی میں  لقمہ حرام بھی نہ ہو۔خداوند متعال فرماتاہے:میں ایسےانسان سے محبت کرتاہوں کیونکہ  وہ پاکیزہ ہے اورآلودہ نہیں ہے۔پس امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شیطان کہتا ہے کہ میں پانچ قسم کے انسانوں کا مقابلہ نہیں  کرسکتا ۔۔ ایک قسم کے وہ  انسان کہ جن کی نیت صاف اورپاکیزہ ہو اوران کی زندگی میں اللہ کانام   ہو۔

۲۔کثرت ذکر

«من کَثُرَ تسبيحُهُ في ليلَه و نهاره»؛جوشخص  بہت زیادہ تسبیح پڑھتا ہے،ایک قسم کی تسبیح ،تسبیح حضرت زہراسلام اللہ علیہا ہے کہ جونمازکے بعد پڑھی جاتی ہے،نماز کےعلاوہ بھی پڑھنا جائز ہے۔ کسی شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکرعرض کیا کہ مولا،میں کم سنتا ہوں۔حضرت نے فرمایا: جاو  میری ماں زہرا کی تسبیحات پڑھو۔تسبیح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا فقط نمازکے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اگرکوئی صبح   گھرسے  نکلتے وقت اسے پڑھے تواس کے رزق  میں  اضافہ ہوتا ہے۔ ایک تسبیح یہ ہے: «سُبحانَ اللهِ وَالحَمدُللهِ وَلاإله إلا اللهُ وَاللهُ أکبَر».روایت میں ہے کہ جب فرشتے  طواف کرتےہیں  تویہ تسبیح پڑھتے ہیں۔اسی طرح  روایت میں ہے حضر ت موسیٰ علیہ السلام جس رات  میقات پرگئےتو خدا نے  انہیں  اس ذکر کی تعلیم دی تھی:«سُبحانَ اللهِ وَالحَمدُللهِ وَلاإله إلا اللهُ وَاللهُ أکبَر» ایک اورقسم کی تسبیح ہے کہ جو رکوع اورسجدوں میں پڑھی جاتی ہے:«سُبْحانَ رَبّي العَظيمِ وَبِحَمدِه، سبحانَ رَبّي الاعلي وَبِحَمدِه».تسبیح کا کیا مطلب ہے؟یعنی خدایا تو منزہ ہے،تجھ میں کسی قسم کا عیب اورنقص نہیں پایا جاتا۔امام صادق علیہ السلام نے  فرمایا:جوشخص اپنی زندگی میں تسبیح پڑھتا ہو شیطان ا س کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔جب حضرت عیسی علیہ السلام لوگوں کوخدا کی جانب دعوت دینےکےلیے  تشریف لائے توشیطان نے ان سے کہا:عیسی ٰتم خود خدا ہو  لہذا کیوں  لوگوں کو خد ا کی طرف دعوت دیتے ہو؟تم اگرخدا نہیں ہو توتمہارا باپ کون ہے؟تمام لوگوں کے  باپ مشخص ہیں لیکن تمہارا باپ کون ہے۔پس تم خود ہی خدا ہویا کم ازکم خدا کے بیٹےہو۔عیسی ٰ تم تومردوں کو زندہ کرتے ہو۔تم تواندھوں کو شفادیتے ہو۔تم تومعجزہ دکھاتےہو۔حضرت عیسی ٰ علیہ السلام جتنابھی اس سے دوربھاگتے وہ ان کے پیچھے پیچھے آتا،وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعتقاد کوخراب کرنا چاہتا تھا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے  جتنی کوشش کی لیکن وہ نہیں جارہا۔لہذ ا  آپ نے چندمرتبہ کہا:سبحان اللہ ،سبحان اللہ توشیطان  بھا گ گیا۔شیطان  نے کہا کہ جس جگہ پریہ کلمہ ہو وہاں پرمیں نہیں آتا کیونکہ تم  خدا کومنزہ  قراردے رہےہو۔قرآن کریم  فرماتا ہے: اگرتم چاہتے ہو کہ شیطان تمہارے پیچھے نہ آئے توکہو:«فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم».[18]

۳۔مصیب پرصبر

«وَمَنْ لَمْ يَجْزَع عَلَي المُصيبَهِ حينَ تُصيبُهُ».شیطان ،مصیبت کے راستے سے  داخل ہوسکتاہے،کیونکہ جس نےمصیبت دیکھی ہے  ممکن ہے   کہ وہ اپنےحواس کھوبیٹھے،خدا نہ کرے،کفریہ کلمات اپنی زبان پرجاری کر دے،خدانہ کرے،خدا کے بارے  برگمان پیدا  کرلے۔لہذا فرمایا: جوشخص مصیبت پرجزع وفزع نہ کرے توشیطان کہتا ہے کہ اب میں اس کےدل پرتسلط پیدا نہیں کرسکتا،اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔حضرت ایوب علیہ السلام جب مال ودولت رکھتے  تھے  توکہتے تھے : "خدا" اورجب ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا توپھربھی کہتے  تھے:"خدا"،جب صحیح وسالم تھے توکہتے تھے:"خدا"،جب مریض تھے توپھربھی  کہتےتھے:"خدا"۔بعض لوگ ایسے ہیں  کہ مرض اورصحیح سالم  ہونے کی  صورت میں ان کی حالت  مختلف ہوجاتی ہے۔جونہی خدا ان کی زندگی میں امتحان  لیتا ہے تووہ گمراہ ہوجاتے ہیں اورشکوہ وشکایت کرنے پراترآتے ہیں۔جبکہ مومن اس طرح نہیں ہے۔آپ اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کودیکھیں،اتنی مصیبتیں دیکھیں لیکن پھربھی کہا:خدا یا تیری رضا پرراضی ہوں۔(۱۹)۔میں نے تاریخ میں کہیں بھی ایسا نہیں دیکھا ہے کہ  اس مختصرسےوقت میں اتنی  مصیبتیں کسی پرآئی ہوں،ہم نےیہ تودیکھا ہے کہ کسی  نے بیٹے  کی مصیبت دیکھی ہو،باپ کی مصیبت دیکھی ہو،بھائی کی مصیبت دیکھی ہو،لیکن ایسا کوئی نہیں ہے کہ جس نے ایک ہی دن میں بھائی کی مصیبت بھی دیکھی ہو،بیٹے کی مصیبت بھی دیکھی ہو،ننھے  سے بیٹے کی مصیبت دیکھی ہو،بھائی کے بیٹے کی مصیبت بھی دیکھی ہو،اسارت، پیاس اورجان قربان کرنے جیسی مصیبتوں کوایک ہی د ن دیکھا ہو۔پس تاریخ میں کسی اورکے لیے ایک آدھے دن میں اتنی مصیبتیں جمع نہیں ہوئی ہیں،لیکن ان تمام ترمصیبتوں کے باوجود وہ ہمیشہ یہی کہہ رہے تھے،خدایا تیری رضا پرراضی ہوں،یہ چیزاہمیت رکھتی ہے۔

حضرت نے فرمایا:تیسری صفت کہ جس کی وجہ سے شیطان ،انسان سے دوربھاگتا ہے یہ ہے کہ انسان،مصیبت  کےوقت جزع وفزع اورگریہ وزاری   نہ کرے ۔حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کاایک جوان بیٹا فوت ہوگیا۔درحقیقت ان کے اکثربیٹے ان کی اپنی زندگی میں ہی  فوت ہوئےہیں۔ کسی نےآکر کہا:ابوذر،خدا نےجتنی بھی اولاد تمہیں دی ہے وہ سب کی سب مرگئی ہے،تمہارایہ بیٹا بھی تومرگیا ہے۔ابوذرنے اس  کی طرف ایک نگاہ کرتے ہوئے کہا :«الحمدلله الذي يأخُذُهُم من دارِ الفَناء، و يُدَخِّرُهُم في دارِ البقاء».[20]اگرکوئی کرائے دارہو ،جب وہ اپنا گھرخریدتا ہے تولوگ اسے مبارکبا د دیتےہیں اورکہتے ہیں :الحمدللہ کہ اب تم اپنے گھرکےمالک بن گئے ہو اب تک تم کرائے کے  مکان میں رہتے تھے اوراب تمہارا اپنا گھرہوگیا ہے۔ابوذرنے کہا:خدا کا شکر کہ میرا بچہ پہلے کرائے کے گھرمیں رہتا تھا،کیونکہ یہ دنیا کرائے کا گھرہے اورانسان  اس میں ہمیشہ کے لیے  نہیں رہتا اوراب میرا بیٹا اپنے اصلی گھر میں چلا گیا ہے،خدا کا شکر کہ اب میرا بیٹا دارفناء سے داربقاء کی طرف چلاگیاہے۔اگرتم اس دنیا میں کرائے کے گھرمیں رہ رہےہو توجب گھر کی  دستاویز مانگو گے تووہ تمہیں  نہیں دیں گے،بلکہ وہ کہیں  گے  کہ تم اس گھرکےکرائے دارہو،لہذا اس دنیا کےتمام اموال کو چھوڑکرقبرمیں داخل ہوجاو۔وہاں داربقاء ہے۔جس کی دنیا پرنگاہ،کرائے کے گھرپرنگاہ کی طرح ہے اورآخرت پرنگاہ،اپنے ذاتی گھرکی طرح کی ہے ایسا انسان کبھی بھی اس دنیا سے وابستہ نہیں ہوتا۔کبھی بھی غمگین نہیں ہوتا۔امام صادق  علیہ السلام کے بیٹے مریض  تھے،وہ حالت احتضارمیں تھے،مولاامام صادق علیہ السلام اس کے  سرہانےبیٹھے ہوئے تھے،کسی نے کہا:مولا،بچہ  حالت احتضارمیں ہے،لیکن جان سختی سے نکل رہی ہے۔حضرت نے فرمایا:سورہ صافات کی تلاوت کرو تاکہ روح آسانی سے نکل جائے۔سورہ صافات کوپڑھنا شروع کیا جب گیارہویں آیت پرپہنچے توباپ کی آنکھوں کےسامنے بچہ فوت ہوگیا۔امام نے فرمایا: «إنّا أهْلَ البَيْتِ إنَّما نَجْزَعُ قَبْلَ المُصيبَهِ فإذا وَقَعَ أمرُ اللهِ»؛ہم اہل بیت،مصیبت سےپہلے غمگین ہوتےہیں،ہمارادل چاہتاہے کہ  مصیبت نہ آئے۔کوئی بھی مصیبت آنے سے خوش نہیں ہوتا لیکن دنیامصیبتوں کا گھرہے۔ لیکن جب  مصیبت آجاتی ہے،«رَضِينَا بِقَضائِهِ وَسَلَّمنا لِأمرِهِ»[21]؛توصبرکرتےہیں۔شب عاشور کو ایک مرتبہ  حضرت زینب سلام اللہ علیہا پریشان اورغمگین ہوجاتی ہیں،آپ کانپ اٹھیں اورآپ کے رونے کی آوازبلند ہوئی توامام حسین علیہ السلام نے فرمایا:میری بہن،خیال رکھنا کہ کہیں شیطان آپ  کے صبروحلم کوبرباد  نہ کردے،اپنے آپ پرقابورکھیں،شیطان اسی جگہ سے انسان پرتسلط جمالیتاہے۔زینب سلام اللہ علیہا نے فورا عرض کیا:«سَتَجِدُني کَما تُحِب»؛بھیا  ،جس طرح آپ چاہیں گے اسی طرح رہوں گی اورحضرت زینب سلام اللہ علیہا نے حقیقت میں ایسا کردکھایا،اگرفرشتوں نے امام حسین علیہ السلام کے صبرپرتعجب کیا ہے توحق یہ تھا کہ وہ زینب سلام اللہ علیہا کے صبرپربھی  تعجب کرتے۔بعض کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ آپ نےفرمایا:بھیا میں  صبرکو عاجز کردوں گی اورایسا کام کروں گی کہ صبرتھک جائے لیکن میں نہ تھکوں۔

۴۔جوکچھ اپنے لیے پسند کرتاہے دوسروں کےلیے بھی پسندکرے

«وَمَنْ رَضي لِاخيه الْمؤمن ما يَرضاهُ لِنّفسه»ایک اورراستہ کہ جس کے ذریعے شیطان ،انسان کے اندرداخل ہوجاتاہے وہ لوگوں کی عزت وآبرو سے کھیلنا، غیبت کرنا، تہمت لگانا اوران کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا ہے۔فرمایا:جوشخص اپنے لیے جوچیزپسند کرتاہے وہ دوسروں کےلیے بھی پسند کرےا ورجواپنےلیے پسند نہیں کرتا دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرے۔اپنے لیے نیا لباس پسند کرتے ہو لیکن لوگوں کوپرانا لباس دیتے ہو یہ صحیح نہیں ہے۔اپنے لیے اچھا کھانا پسند کرتےہواوردوسروں  کےلیے بچا ہوا کھانا پسند کرتےہو۔امام رضا علیہ السلام اپنا پورا کھانا فقیرکو دےدیتے۔کھانا شروع کرنے سےپہلے فقیر کےلیےکھانا  الگ کرکے رکھ دیتے۔«وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ»[22]؛بہترین لباس اوربہترین کھانے انہیں دیں۔کس طرح تم لوگوں کے لیے جھوٹ بولنے کوپسند کرتے ہولیکن اپنےلیے اس  بات کوپسندنہیں کرتے  کہ تمہیں جھوٹ نہ بولیں۔پس کیوں جھوٹ بولتے ہو؟جب تم اس بات کوپسندنہیں کرتے  کہ تمہیں دھوکہ دیا جائے توتم  دوسروں کوکیوں دھوکہ دیتے ہو؟جب تم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ لوگ تمہارے پیچھے  تمہاری باتیں کریں توتم کیوں لوگوں کے پیچھے ان کی باتیں کرنا پسند کرتےہو؟۔فرمایا:شیطان اس شخص سے دوربھاگتا ہےکہ  جواپنے لیے اگر کسی  چیزکوپسند نہیں کرتا  تووہ دوسروں کےلیےبھی پسند نہیں کرتا۔

۵۔خدا وندمتعال کی رضا پرراضی

«وَمَنْ رَضِيَ بِما قَسَمَ اللهُ لَهُ وَلَمْ يَهْتَمَّ لِرِزْقِهِ»[23]؛جوشخص ،رزق الہی اورقضا وقدرالہی پرراضی ہو اوررزق وروزی پرغمگین نہ ہو۔ہم بااختیارہیں لیکن خداوندمتعال نے ہمارے لیے قضا وقدرکورکھا ہو اہے،بہترہے  کہ انسان کہے کہ خدا میں کوشش کرتاہوں لیکن اس پرراضی ہوں کہ جوتوپسند کرتاہے۔خدا ایک کوبیٹا عطا کرتاہے اوردوسرے کوبیٹی اورایک کی اولاد ہی نہیں ہے،یعنی ہرانسان،اپنی زندگی میں مشکلات اورتوفیقات رکھتا ہے۔تمام کی تمام توفیقات ایک شخص کے لیے نہیں ہیں اورسب مشکلات بھی کسی ایک شخص کےلیے نہیں ہیں۔داردنیا ہےہی ایسی۔بعض اوقات آپ دیکھتےہیں کہ ایک شخص توفیقات بھی رکھتا ہےلیکن اس کے ساتھ مشکلات بھی ہیں،لیکن  اہم بات یہ ہے کہ وہ الہی تقسیم پرراضی ہو۔البتہ انسان،خدا سے اپنی مشکلات کے برطرف کرنے کی دعا کرسکتا ہے،خدا سے اپنی توفیقات میں اضافے کی دعا کرسکتا ہے۔خدا نے بھی میدان کھلا چھوڑرکھاہے۔ہم"بداء"کے قائل ہیں،یعنی خداوندمتعال،رزق کی کمی کودورکرکے اس میں اضافہ کرتاہے،کم عمرکوطولانی کرتا ہے،طولانی عمرکوکم  عمرکردیتا ہے۔روایت میں بھی ہے اورقرآن کریم بھی فرماتا ہے:«يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ»[24]خدا کچھ چیزوں کو مٹا دیتا ہے  اورکچھ چیزوں کوان کی جگہ پر رکھ دیتا ہے۔انسان کودعا کرنی چاہیے اورخدا سے تبدیلی کا  مطالبہ کرنا چاہیے،لیکن کبھی اس چیزپرگلہ وشکوہ نہ کرے کہ جسےخدا نے پسند کیا ہے۔حضرت نےفرمایا:اگرکسی انسان میں یہ پانچ صفتیں ہوئیں توشیطان اس میں داخل نہیں ہوتا ۔آپ دیکھیں کہ  خودحضر ت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام اورآپ کے اصحاب اورآپ  کی اولادمیں سے کسی نے بھی  مصیبت پرجزع وفزع نہیں کیاہے۔اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کبھی بھی الہی تقسم پرناراضگی کا اظہارنہیں کیا ہے۔ہرجگہ پرآپ اللہ پرتوکل کیے ہوئے نظرآتے ہیں۔ہرجگہ پرتسبیح پروردگارہے،دعا سے شروع کیا اوردعاپراختتام کیا،کبھی بھی مصیبت پرجزع وفزع نہیں کیا،یہاں تک کہ جب چھ مہینے کے بچے کواپنے ہاتھوں پرقربان کرواچکے توخدا کی بارگاہ میں عرض کیا: «الهي هَوَّنَ ليَ الامرِ لِأنّهُ بِعَينک»؛خدایا میں اس مصیبت پرراضی ہوں چونکہ یہ تیرےسامنے ہے اورتوراضی ہے۔اگرکسی میں یہ پانچ صفتیں پائی جاتی ہوں تو اس کا دل،شیطان کےنزول کا  ٹھکانہ نہیں بنے گا۔

خدایا،اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عظمت کا واسطہ ہم سب کےدلوں کو قلب سلیم اورفرشتوں کے نزول اورملائکہ کےالہام کی جگہ بنادے۔خدایا ہماری زندگی سے شیطانی  وسوسوں اورنفسانی خواہشات کا  خاتمہ فرما۔

________________________________________

[1] نحل، 97.

[2] شعراء، 221.

[3] شعراء، 222.

[4] انعام، 121.

[5] زخرف، 36.

[6] فصلت، 30.

[7] شعراء، 221.

[8] بقره، 10.

[9] شعراء، 221.

[10] شعراء 88- 89.

[11] اعراف، 58.

[12] انعام، 121.                                                                                                                                  

[13] بحارالانوار، ج 69، ص 295؛ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص 255؛ امالي الصدوق، ص 528.

[14] الکافي، ج 2، ص 543؛ من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 272.

[15] توبه، 28.

[16] کنز العمال، ح 44154.

[17] توبه، 108.

[18] نحل، 98.

[19] بحارالانوار، ج 44، ص 366؛ کشف الغمه، ج 2، ص 29؛ مثير الاحزان، ص 41.

[20] مسکن الفؤاد، ص 55؛ ارام بخش دل داغديدگان، ص 144.

[21] الکافي، ج 3، ص 225؛ وسائل الشيعه، ج 3، ص 275؛ بحارالانوار، ج 74، ص 49.

[22] انسان، 8.

[23] بحارالانوار، ج 60، ص 248؛ الخصال، ج 1، ص 285؛ مواعظ العدديه، ص 400.

[24] رعد، 39.

 

 


١٤:١٢ - دوشنبه ٩ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٤٣٢    /    تعداد نمایش : ٧٠٤


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.