فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14761
 بازدید امروز : 13
 کل بازدید : 31077
 بازدیدکنندگان آنلاين : 4
 زمان بازدید : 1/5560
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

امیرالمومنین علی علیہ السلام،شہرعلم کے دروازے

امیرالمومنین علی علیہ السلام،شہرعلم کے دروازے

«قال رسول الله صلی الله علیه وآله حُبُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَأْكُلُ [الذُّنُوبَ ] السَّيِّئَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَب»[1]. «وَلَايَةُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَلَايَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ حُبُّهُ عِبَادَةُ اللَّهِ وَ اتِّبَاعُهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ وَ أَوْلِيَاؤُهُ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ وَ أَعْدَاؤُهُ أَعْدَاءُ اللَّهِ وَ حَرْبُهُ حَرْبُ اللَّهِ وَ سِلْمُهُ سِلْمُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ»[2].

تا صـورت پیـوند جهـان بود علـی بود              تانقش زمین بودو زمان بود علـی بود  

شاهی که ولی بودو وصی بودعلی بود               سلطان سخـا و کرم و جود علـی بود

آن قلعه گشایی که درقلعه ی خیبربرکند               بـه یـک حـمـله و بـگـشـود عـلـی بود

آن کاشـف قرآن که خدا در همه قرآن               کردش صفت عصمت وبستودعلی بود

آن شـیـر دلاور که زبهـر طـمع نفـس               در خـان جهـان پنـجه نیالـود علی بود

چندان که در آفاق نظـر کردم و دیـدم               از روی یقین درهمه موجود علی بود

این کفر نباشد سخن کفر نه این اسـت                تا هسـت علی باشد و تا بود علی بود

سـر دو جهـان جمـله زپیـدا و پنـهـان                شـمـس الحـق تبریز که بود علـی بود

رومی نشد از سرعلی کس نشـد آگاه                 زیـرا که نـشـد کـس آگـه از سـر الـه

یک ممـکن و اینهمه صفات واجـب               «لا  حـول  و  لا  قـوة  الا  بـاالله»

ذکرصلوات کی برکات

بعض اوقا ت انسان،پیغمبراکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین علیہ السلام ،حضرت زہرا علیہا  السلام اوردوسرے ائمہ معصومین  علیہم السلام کو ہدیہ دینا  چاہتا ہے اوران کی خدمت میں  عرض ادب کرنا چاہتا ہے۔انسان،نماز اورقرآن پڑھ کرہدیہ کرسکتا ہے۔مرحوم رجب علی خیاط کے  شاگرد شیخ عبدالکریم حامد نے کہا :ایک رات میں  نے  سورہ یسین کی تلاوت کرکے امام  حسن مجبتیٰ علیہ السلام کو ہدیہ کیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ پانی کا ایک گلاس اپنے مولا کی خدمت میں لے   کرگیا  ہوں تودیکھا کہ امام علیہ السلام دریا کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں ۔امام نے پانی کا گلاس لے کر دریا میں  ڈال دیا۔ہم ان کے لیے جوبھی  ہدیہ بھیجتے ہیں وہ ناچیز ہے تاہم انسان اس چیز کوپسند کرتا ہے کہ جس سے وہ محبت کرتا ہے اس کے لیے کوئی کام کرے۔ایک بہترین ہدیہ کہ جس کی وجہ سے حضرت زہراسلام اللہ علیہا اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوردیگرائمہ اطہارعلیہم السلام کے دل خوش  ہوتے ہیں ،ذکرصلوات ہے۔ہم صلوات کے ذریعے  خداوند متعال سے  درخواست کرتے ہیں  کہ خدایا ہمارا ہاتھ توخالی ہے لہذا توخود ہی ان پر اپنی  رحمت ،برکت اوراپنے لطف وکرم کونازل فرما۔ہردن رات  کم ازکم ائمہ اطہارعلیہم السلام کے لیے  سوصلوات کا ہدیہ  بھیجنا چاہیے۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص مجھ پرایک مرتبہ  صلوات بھیجتا ہے میں اس پردس مرتبہ صلوات بھیجتا ہوں۔

لیلۃ القدرکی  فضیلت

احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ  حقیقی  لیلۃ القدر،تئیسویں کی رات ہے۔ائمہ اطہارعلیہم السلام نے بہت سے مقامات پراشاروں اورکنایوں سے فرمایا ہے کہ  تئیسویں کی رات کو اہمیت دیں«العاقل يكفيه الاشارة»[3].عقلمند کے لیے اشارہ ہی  کافی ہے۔جحنی نامی ایک شخص بیابان میں زندگی بسرکرتا تھا اورچوپانی کیا کرتا تھا اورہمیشہ مدینہ میں  نہیں  آسکتا تھا۔ اس نے  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکرعرض کیا یا رسول اللہ میں پورا سال ایک رات مدینہ میں آسکتا ہوں لہذ ا آپ ایک رات کومشخص کریں تاکہ میں آکرعبادت کروں اورنیک کام انجام دوں۔ کونسی رات کو آوں؟حضرت نے فرمایا: رمضان المبارک کی تئیسویں  کی رات کو مدینہ میں آجا یا کرو۔اسی بنا پرتئیسویں کی رات اسی شخص کےنام سے معروف ہوگئی ہے۔انیسویں اوراکیسویں راتوں کی نسبت تئیسویں کی رات کے اعمال  زیادہ ہیں۔ایک مرتبہ امام صادق علیہ السلام مریض تھے توآپ نے تئیسویں کی رات کوفرمایا:مجھے اٹھا کرمسجد لے جاو لیکن انیسویں اوراکیسویں کی رات کویہ کام نہیں کیا۔ حضرت زہراسلام اللہ علیہا تئیسویں کی رات کو شب بیداری کے لیے  دن کوبچوں کو سلادیتی تھیں اورجب رات ہوتی اورانہیں نیندآنے لگتی توفرماتیں جاو وضو  کرو اوراپنے چہرے پر پانی  کے چھینٹے پھینکو تاکہ نیند اڑجائے۔لیکن دوسری دو راتوں میں یہ کام نہیں کرتی تھیں۔وہ  اس بات  پرتوجہ رکھتے تھے کہ کیا کام کریں۔

لیلۃ القدرکے اعمال

لیلۃ القدر کے تما م اعمال کو چند گھنٹوں میں انجام دیا جاسکتا ہے۔سات مرتبہ قل  ھوا للہ احد کی نماز»[4]،سترمرتبہ استغفراللہ  کہنا،دعائے جوشن کبیر،زیارت امام حسین علیہ السلام اورقرآن کریم  کی تلاوت کرنا  اورلیلۃ القدرمیں جوعمل سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے وہ سورہ روم اورسورہ عنکبوت کی تلاوت کرنا ہے۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْعَنْكَبُوتِ وَ الرُّومِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثَةٍ وَ عِشْرِينَ فَهُوَ وَ اللَّهِ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَا أَسْتَثْنِي فِيهِ أَبَداً وَ لَا أَخَافُ أَنْ يَكْتُبَ اللَّهُ عَلَيَّ فِي يَمِينِي إِثْماً وَ إِنَّ لِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ مِنَ اللَّهِ مَكَانا»[5].اگرکوئی  شخص رمضان المبارک کی تئیسویں کی رات میں سورہ روم اورعنکبوت کی تلاوت کرے توخدا کی قسم وہ اہل جنت میں سے ہے اورمیں کسی شخص کواس حکم سے الگ نہیں کررہا یا یہ کہ انشاء اللہ نہیں کہتا کیونکہ جوشخص جہنمی ہے اوراہل جنت نہیں ہے  تواس سے ان سورتوں کی تلاوت کی توفیق چھین لی جاتی ہے۔میں گمان نہیں کرتا  کہ یہ جوبات(کسی کواس حکم سے  مستثنیٰ  قرارنہیں دیتا) کی ہے اسےمیرے لیے گناہ لکھا جائے۔ «وَ قَوْلُكُمْ حُكْمٌ وَ حَتْمٌ»[6].کیونکہ امام معصوم کا  کلام حکم اورحتمی ہے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لِأَخِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ علیه السلام فَضَائِلَ لَا تُحْصَى كَثْرَةً فَمَنْ قَرَأَ فَضِيلَةً مِنْ فَضَائِلِهِ مُقِرّاً بِهَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ وَ مَنْ كَتَبَ فَضِيلَةً مِنْ فَضَائِلِهِ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ مَا بَقِيَ لِتِلْكَ الْكِتَابَةِ رَسْمٌ وَ مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى فَضِيلَةٍ مِنْ فَضَائِلِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ الذُّنُوبَ الَّتِي اكْتَسَبَهَا بِالسَّمْعِ وَ مَنْ نَظَرَ إِلَى كِتَابَةٍ مِنْ فَضَائِلِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ الذُّنُوبَ الَّتِي اكْتَسَبَهَا بِالنَّظَرِ ثُمَّ قَالَ النَّظَرُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ علیه السلام عِبَادَةٌ وَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِيمَانَ عَبْدٍ إِلَّا بِوَلَايَتِهِ وَ الْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِه»[7].خداوند متعال  نے میرے بھائی امیرالمومنین علی  علیہ السلام  کے لیے ایسے  فضائل  قراردیے ہیں کہ جن کاشمارنہیں کیا جاسکتا۔یعنی اگرجن وانس اورفرشے مل  جائیں توبھی امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل بیان نہیں کرسکتے۔شیخ صدوق نے اپنی کتاب امالی میں  پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا: : «لَوْ لَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يُقَالَ فِيكَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِي الْمَسِيحِ لَقُلْتُ الْيَوْمَ فِيكَ مَقَالَةً لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذُوا تُرَابَ نَعْلَيْكَ وَ فَضْلَ وَضُوئِكَ يَسْتَشْفُونَ بِهِ وَ لَكِنْ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ مِنِّي وَ أَنَا مِنْكَ تَرِثُنِي وَ أَرِثُكَ الْخَبَرَ»[8] یاعلی میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ جو   با ت لوگوں نے حضرت عیسی علیہ  السلام کے بارے میں کہی اورانہیں خد ا کا بیٹا ماننے لگے،وہ تمہارے بارے میں کہنے لگیں۔اگریہ خوف نہ ہوتا  کہ کہیں کہ علی بھی خدا ہے اورتمہیں اپنا خدا مان بیٹھیں توتمہارے فضائل بیان کرتا کہ «لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا أَخَذُوا تُرَابَ نَعْلَيْكَ».آپ جہاں پرقدم رکھتے لوگ آپ  کے جوتوں کی مٹی اٹھا لیتے اوراپنی آنکھوں پرلگاتے۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے  امیرالمومنین علیہ السلام کے بہت سے  فضائل کوبیان ہی نہیں کیا ہے۔حضرت نےفرمایا: «فَمَنْ قَرَأَ فَضِيلَةً مِنْ فَضَائِلِهِ مُقِرّاً بِهَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّرَ».خدا نے میرے چچا کے بیٹے کے لیے بے شمارفضائل بیان کیے ہیں اوراگرکوئی ان کے فضائل میں سے ایک فضیلت کا تذکرہ کرے توخد اوند متعال اس کے گزشتہ اورآئندہ کے گناہ معاف کردیتا ہے۔(اہل سنت نے بھی اس حدیث کو مناقب خوارزمی میں نقل کیا ہوا ہے)۔اس کے بعد حضرت نے فرمایا: جوشخص زبان سے آپ کے فضائل بیان کرتا ہے خداوند  ا س کی زبان کے گناہ معاف کردیتا ہے اور جو آنکھوں سے آپ کے فضائل پڑھتے ہیں خداوند  کریم ان کےان  گناہوں کو معاف کردیتاہے کہ جوانہوں نے آنکھ سے انجام دیے ہیں اورجولوگ آپ کےفضائل سنتے ہیں ان کے وہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں کہ جوانہوں نے کانوں سے انجام دیے ہیں اورجنہوں نے علی علیہ السلام کے فضائل کتابوں میں تحریرکیے ہیں جب تک وہ تحریر موجود ہے فرشتےا ن کے لیے دعا اوراستغفار کرتےہیں۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مدینہ میں مسجدکی تعمیر کی توانصاراورمہاجرین نے اس کے  اطراف میں زمین لے کر اپنے گھربنالیے اورہرایک نے اپنے گھرکا  ایک ایک دروازہ مسجد میں کھول دیا تاکہ مسجد جانے کے لیے  دورکا چکرنہ کاٹنا پڑھے۔جبرائیل نازل ہوئے اورعرض کیا یارسول اللہ۔خداوندمتعال  نے فرمایاہے کہ ان تمام  دروازوں کوبند کردیں۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اعلان کیا توسب سے پہلے حضرت امیرعلیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنا دروازہ  بند کرنا شروع کردیا۔جبرائیل علیہ السلام دوبارہ نازل ہوئے اورعرض کیا:یارسول اللہ،حضرت امیرعلیہ السلام کے گھرکا دروازہ،اللہ کے گھرکی طرف کھلا رہے۔حضرت نے پیغام بھیجا کہ اس دروازے کوبند نہ کرویہ دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا  چاہیے۔باقی لوگوں  نے آکراعتراض کیا کہ یارسول  اللہ،آپ اپنے داماد اوربیٹی کی کیوں حمایت کرتے ہیں؟پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہ میں نے بند کیا ہے اورنہ ہی کھولا  ہے بلکہ خداوند متعال نے  حکم دیا ہے۔یہ ایک ظاہری معنی ہے اورباطنی  معنیٰ یہ  ہے کہ خدا کی طرف جانے کے لیے امیرالمومنین علیہ السلام کے راستے کے علاوہ باقی تمام راستے بند ہیں۔« وَ إِيَابُ الْخَلْقِ إِلَيْكُمْ وَ حِسَابُهُمْ....»[9].

پیغمبراکرم کے شہرعلم کا دروازہ

ایک صحابی نے حضرت سے سوال کیا وہ کونسا ایک ہے  کہ جو دو نہیں ہوتا، کونسا دو ہے کہ جوتین نہیں ہوتا،کونسا چارہے کہ جوپانچ نہیں ہوتا اسی طرح اس نے بیس تک سوال کیا۔حضرت نےفرمایا:وہ ایک کہ جودونہیں ہوتا وہ خدا ہے ، وہ دو کہ جو تین  نہیں ہوتا ،تین طلاقیں ہیں،وہ چارکہ جوپانچ نہیں ہوتا وہ  نمازہے ۔  ۔  ۔ وہ انیس کہ جوبیس نہیں ہوتا وہ جہنم کے سرپرست ہیں۔حضرت نے منبرپرجاکرفرمایا: «سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي وَ هَذَا سَفَطُ الْعِلْمِ هَذَا لُعَابُ رَسُولِ اللَّهِ  صلی الله علیه وآله وسلم هَذَا مَا زَقَّنِي رَسُولُ اللَّهِ زَقّاً زَقّاً سَلُونِي فَإِنَّ عِنْدِي عِلْمَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ... أَخْبَرْتُكُمْ بِمَا كَانَ وَ مَا يَكُونُ وَ مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»[10].جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں اورقبل اس کے میں تمہارے درمیان سے چلاجاوں اورمجھ نہ دیکھ پاو مجھ سے پوچھ لو، میں زمین کی نسبت آسمان کےراستوں کوبہترجانتا ہوں، میرے بعد جوبھی یہ جملہ کہے وہ جھوٹا ہے اورجس نے بھی کہا وہ ذلیل ورسوا ہوا۔حضرت نے   کئی مر تبہ منبرپرکھڑے ہوکرفرمایا:مجھ سے دنیا وآخرت اورآسمان کےبارے سوال کرو اورجوچاہتے ہوپوچھ لو۔روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ جب امام علیہ السلام نے یہ فرمایا توایک شخص نے  کھڑے ہوکہا:یاعلی علیہ السلام  جبرائیل کہاں ہیں؟ حضرت نے ایک نگاہ  کی اورفرمایا:تم خود ہی جبرائیل ہو اوروہ شخص لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگیا۔لیکن بعض منافقین بھی تھے کہ جنہوں نے حضرت  کوآزارواذیتیں پہنچائیں۔اسی طرح ایک محفل میں عمرسعد کا باپ سعد وقاص بھی  بیٹھا ہوا تھا اس نے کھڑے ہوکرکہا  :مولا میرے سرکےبال کتنے ہیں؟اس نے یہ سوال اس لیے کیا  کیونکہ  سرکے بالوں کو گننا انتہائی مشکل کام ہے۔مثلا  حضرت فرماتے، پانچ  ہزار۔وہ لوگ اگرگنتے توایک  غائب کردیتے اورکہتے کہ حضرت نے ٖغلط کہا ہے۔وہ حضرت کو اذیت کرنا چاہتا تھا۔حضرت نے فرمایا:تمہارے سرکے بالوں کوگننا کوئی مشکل کام نہیں ہے  اورمیں جانتا ہوں لیکن میں تجھے ایک خبردیتا ہوں کہ جوسب کے لیے ثابت ہو جائے گی۔تمہارے گھرمیں ایک چھوٹا بچہ ہے یہ جب بڑا ہوگا تو وہ میرے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو شہید کرے گا۔

ایک مرتبہ  خلیفہ دوم نے پوچھا کہ مولا کس  طرح آپ  ہرسخت سے سخت سوا ل کا جواب دے دیتے ہیں؟ یاعلی اس کی کیا حکمت ہے کہ آپ فورا اورسوچے سمجھے بغیرجواب دے دیتےہیں؟حضرت نے فرمایا:تمہارے ہاتھ کی کتنی انگلیاں ہیں۔خلیفہ دوم نے فورا کہا: پانچ۔حضرت نے فرمایا: کس طرح تم نے بغیرسوچے سمجھے جواب دیا ہے۔تم بھی  مجھ سے جن چیزوں کے بارے سوال کرتے ہو وہ میرے لیے  ایسے ہی ہیں۔یہ ایسے ہی ہے کہ  ابھی مجھ سے پوچھو دن ہے یا رات۔فرمایا تم یہ سوچو کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے کیوں میرے بارے میں فرمایاہے: «أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْحِكْمَةَ فَلْيَأْتِهَا مِنْ بَابِهَا»[11]. میں علم کا شہرہوں اورعلی ا س کا دروازہ ہے اورجوشخص  پیغمبرکے شہرعلم میں داخل ہونا چاہتا ہے تواسے دروازے کے ذریعے داخل ہونا چاہیے وہ اس شہرکی دیوارپھلانگ کرداخل نہیں ہوسکتا ہے۔(خدا اورپیغمبرتک پہنچنا محال ہے مگرامیرالمومنین علیہ السلام کے ذریعے۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ  انسان معنوی مسائل میں چوری کرلے شاید مادی مسائل میں  چوری کی جاسکتی ہے لیکن معنوی مسائل میں نہیں )۔

احمدبن خلیل نحوی  ایک معروف ادیب تھے ان سے جب کہا گیا  کہ تم کیوں شیعہ ہوگئے ہو؟ توانہوں نے جواب میں کہا:میرے پاس ایک سادہ سی دلیل ہے۔آپ دیکھیں کہ  مشکلات کوحل کرنے والا کون ہے؟اگرایک بے  طرف آدمی دیکھے  کہ مسلمان اپنی تمام مشکلات میں حضرت امیرعلیہ السلام کی طرف  رجوع کیا کرتے تھے اورکہیں بھی کوئی ایسا مقام نہیں ملتا کہ  حضرت کوجواب نہ آتا ہواورآپ نے کسی اور طرف رجوع کیا ہو۔خلیفہ اول ،دوم  اورسوم  اورآپ کے تمام اصحاب اپنی مشکلات کے حل کے لیے آپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اورعلی علیہ السلام کے محتاج تھے اور لوگوں کی آپ کی  طرف احتیاج اوردوسروں سے آپ کی بے نیازی آپ کی امامت پربہترین دلیل ہے۔یہ سب باتیں اس بات کی نشاندہی کر تی ہیں کہ وہ زمین پرموجود تمام موجودات کے امام ہیں۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک دن کچھ منافقین اکٹھے ہوئے اورکہنے لگے کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ میں علم کا شہرہوں اورعلی اس کا دروازہ ہے۔توہم ایک سوال پیش کرتے ہیں اورہم میں سے ہرایک باری باری جاکرحضرت سے سوال کرے ۔اگروہ  علم کے سمندرسے متصل ہوئے  توانہیں ایک جیسا جواب نہیں دینا چاہیےبلکہ انہیں  مختلف جوابات  دینے چاہییں اوراگرایک طرح کا جواب دیا تومعلوم ہوجائے  گا کہ وہ  بھی ہم جیسے ہی ہیں۔ان کا  سوال یہ تھا کہ علم  بہترہے یا دولت؟پہلا شخص حضرت کی خدمت میں آکرپوچھتا ہے کہ مولا علم بہترہے یا  دولت؟حضرت نے فرمایا:علم ،مال سے بہترہے کیونکہ علم انبیاء کا ورثہ ہے لیکن مال ودولت قارون،بادشاہوں اورفرعونوں کا ورثہ ہے۔برے اوراچھے لوگوں کے ورثے میں فرق ہوتا ہے۔دوسرے دن دوسرے شخص نے آکرپوچھا علم بہترہے یا مال؟حضرت نے فرمایا:علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ تم مال کی حٖفاظت کرتے ہو۔تیسرے دن  تیسرے شخص نے آکرپوچھا کہ مولا علم  بہتر ہے یا  مال؟امام علیہ السلام نے فرمایا:علم بہتر ہے کیونکہ علم ،خرچ کرنے سے زیادہ ہوتا ہے لیکن مال ودولت خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔چوتھے دن چوتھے  شخص نے آکرپوچھا مولا علم بہتر ہے یا مال؟ حضرت نے فرمایا:علم بہتر ہے کیونکہ علم تمہارے سینے میں ہے اورتم اسے  قیامت تک اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو اورقیامت کے دن تمہارے ساتھ ہوگا لیکن مال تمہارے مرتے ہی تم سے جدا ہوجاتا ہے۔جوچیزایک  سانس نہ آنے سے تم سے جدا ہوجاتی ہے اس کی کوئی  قیمت نہیں ہے۔اسی طرح  دس افراد نے سوال کیے اورآپ نےہرایک کے مختلف جوابات دیے۔لہذا انہوں نے کہا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ۔مولا کوخبردی گئی کہ ان افراد نے سازش کررکھی تھی اورموضوع کچھ  اورتھا۔حضرت نے فرمایا:اگرہزاروں افراد بھی آکریہی سوال کرتے   تومیں انہیں الگ الگ جواب دیتا۔یہ خداسے متصل ہیں۔کس میں اتنی  طاقت ہے کہ نقطےکے بغیرفی البدیہہ خطبہ دے۔کیونکہ نقطہ اورالف ایسے حروف ہیں کہ جن کا  کلمات میں استعمال بہت زیادہ ہے ۔اگرکوئی نقطے کے بغیرایک جملہ کہنا چاہے توپہلے کئی گھنٹے بیٹھ کرسوچے اورپھربات کرے لیکن  حضرت نے فی البدیہہ ایسا خطبہ بیان کیا کہ جس میں نہ نقطہ تھا اورنہ  ہی الف۔

امیرالمومنین علیہ السلام کا ذکرمصیبت

تئیسویں کی رات کوامیرالمومنین علیہ السلام کے گھرکا چراغ بجھا ہو اہے۔عزادارو  اگرایک گھرسے ماں یا باپ دنیا سے چلے جائیں توبچے اپنے باپ یا اپنی ماں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد بچے اپنے بابا سے  بہت  محبت کیا کرتے تھے لیکن ہائے افسوس کہ اب اس گھر سے امیرالمومنین علی علیہ السلام جیسے شفیق اورمہربان باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا۔امام علیہ السلام کوگھرمیں غسل وکفن دیا گیا۔جب امام مظلوم کے جنازے کوباہرلے کرجانا چاہتے تھے توبی بی زینب ،ام کلثوم اورحضرت عباس بہت گریہ وزاری کررہے تھے۔باپ کی جدائی بہت سخت تھی۔یہ وہی بچے تھے کہ جواپنی ماں کے تشییع جنازہ  کے دوران تابوت کے پیچھے پیچھے  دوڑرہے تھے اوراب بابا کےجنازے کے پیچھے۔امام علیہ السلام کے بدن مبارک کوقبرمیں رکھ کردفن کردیا گیا۔صعصعہ بن صوحان نے قبرکی خاک اٹھا کراپنے سرپرڈالی اورذکرمصیبت کرنا شروع کیا۔اس نے کہا جانتے ہو کہ  کس عظیم ہستی کو دفن کردیا ہے؟کوفے کے بچے یتیم ہوگئے ہیں،بیوہ  عورتوں کا سہارا نہیں رہا ہے۔امام حسن اورامام حسین علیہما السلام اپنے بابا کودفنانے  کے بعد رات کوواپس آرہے تھے کہ کوفہ سے باہرایک کھنڈرات سے کسی کے رونے کی آوازآرہی ہے، جب یہ دونوں شہزادے اس کھنڈرات میں داخل ہوئے تودیکھا کہ ایک نابینا بوڑھا شخص رورہا ہے،اس کے رونے کی آواز بلند تھی۔شہزدوں نے اسے دلاسا دیا اورفرمایا :کیوں رو رہے ہو؟اس  بوڑھے شخص نے کہا :میری آنکھیں تونہیں ہیں لیکن رات کی تاریکی میں ایک  شخص میرے لیے  کھانا لے کرآیا کرتاتھا،وہ میری تنہائی  کامونس تھا اورمجھ سے باتیں کیا کرتا تھا۔لیکن  کچھ راتوں سے وہ  نہیں آیا ہے۔فرمایا:اے بوڑھے  شخص اس  شخص کی کوئی علامت اورنشانی بتاسکتے ہو؟اس نے عرض کیا : میں تونابینا ہوں  اورنہیں دیکھ سکتا لیکن جب وہ اس کھنڈرات میں داخل ہوتا تھا توپورا ماحول تبدیل ہوجاتا تھا اورمجھے ایک عجیب ساسکون ملتا تھا۔امام حسن اورامام حسین علیہما السلام نے فرمایا:اے بوڑھے شخص وہ  ہمارے بابا امیرالمومنین تھے  کہ جنہوں نے تمہیں اپنا تعارف نہیں کروایا تھا اورہم ابھی ابھی انہیں دفن کرکے آرہے ہیں۔

عزادارو زینب کبری سلام اللہ علیہا ان آخری ایام میں اپنے بابا کے پاس موجودتھیں۔حضرت کے ذہن میں ایک سوال تھا کہ جسے  وہ اپنے بابا سے پوچھنا چاہتی تھیں۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے  سوال کیا :باباجان، ام ایمن نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے سامنے ایک حدیث نقل کی تھی کہ رسول خدا نے فرمایا تھا:میری بیٹی زینب اپنے بھیا حسین  کے ساتھ کربلا کے سفرپرجائے گی اوراس سفرمیں اس کا بھائی حسین شہید کردیا جائے گا اوران کی اہل بیت کوقیدی  بنا لیا جائے گا۔باباجان کیا  واقعا پیغمبرنے  یہ خبردی ہے۔مولا امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:میری بیٹی  حدیث وہی ہے کہ جوام ایمن نے آپ  کے سامنے بیان کی ہے۔لیکن میں آپ کوبتانا چاہتا ہوں کہ ایک دن اسی کوفہ میں جہاں پرآپ زندگی بسرکررہی ہیں، قیدکرکے  لایا جائے گا اورمیں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن نے تمہارے ا طراف میں گھیرا ڈالا ہواہے اورہرطرف سے آپ پرحملہ کررہا ہے۔ ۔ ۔ شاید حضرت امیر نے ایک چیز کوبیان کرنا اچھا نہ سمجھا ہو اوراپنی بیٹی سے  یہ نہیں کہا ہوا تھا کہ جب بی بی زینب خطبہ دے  رہی ہوں گی ایک  مرتبہ اپنے سرکوجوبلند کیا تودیکھا کہ بھیا کا کٹا ہوا سرنیزے پربلند ہے اورآواز دے رہی ہیں: «مَا تَوَهَّمْتُ يَا شَقِيقَ فُؤَادِي                          كَانَ هَذَا مُقَدَّراً مَكْتُوبَا »[12].اے میرےدل کے  ٹکڑے حسین،میں آپ کی شہادت اوراپنی  قید کوجانتی تھی لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچاتھا کہ ایک دن آ پ کے سرکونوک سنا ں پردیکھوں گی۔

«لا حول ولا قوه الا بالله»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]. فضائل الشيعة/ شيخ صدوق/ الحديث 10  ص: 12

[2]. بحارالأنوار/ مجلسی/ج 38/  باب 57- في أنه ع مع الحق و الحق معه .... ص: 26 

[3]. شرح آقا جمال الدين خوانسارى بر غرر الحكم/ ج 1/  .....  ص : 303

[4]. الإخلاص/ 1 

[5]. ثواب الأعمال و عقاب الأعمال/ شيخ صدوق/ 109    ثواب من قرأ سورة العنكبوت و الروم .....  ص : 109

[6]. من لايحضره الفقيه/ شيخ صدوق/ج2/   زيارة جامعة لجميع الأئمة ع .....  ص : 609

[7]. بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار/ مجلسی/ ج 26/ باب 1 ذكر ثواب فضائلهم و صلتهم و إدخال السرور عليهم و النظر إليهم .....  ص : 227

[8]. بحارالأنوار/ مجلسی/ج/25/   باب 10- نفي الغلو في النبي و الأئمة..... ص: 261

[9]. من لايحضره الفقيه/شیخ صدوق/ج2/   زيارة جامعة لجميع الأئمة ع .....  ص: 609

عِنْدَكُمْ وَ إِيَابُ الْخَلْقِ إِلَيْكُمْ وَ حِسَابُهُمْ عَلَي

[10]. الإحتجاج على أهل اللجاج/ احمد بن على طبرسى / ج 1/    احتجاجه ع على زنديق جاء مستدلا عليه بآي من القرآن متشابهة تحتاج إلى التأويل على أنها تقتضي التناقض و الاختلاف فيه و على أمثاله في أشياء أخرى .....  ص : 240

[11]. الإحتجاج على أهل اللجاج/ احمد بن على طبرسى/ ج 1/ ذكر طرف مما جرى بعد وفاة رسول الله ص من اللجاج و الحجاج في أمر الخلافة من قبل من استحقها و من لم يستحق و الإشارة إلى شي ء من إنكار من أنكر على من تأمر على علي بن أبي طالب ع تأمره و كيد من كاده من قبل و من بعد .....  ص : 70

[12]. بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار/ مجلسی/ج 45/     باب 39 الوقائع المتأخرة عن قتله صلوات الله عليه إلى رجوع أهل البيت ع إلى المدينة و ما ظهر من إعجازه صلوات الله عليه في تلك الأحوال .....  ص : 107


٠٩:٤٠ - سه شنبه ١٧ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٧٠٨    /    تعداد نمایش : ١٧١٤


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.