فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14759
 بازدید امروز : 10
 کل بازدید : 31074
 بازدیدکنندگان آنلاين : 4
 زمان بازدید : 6/7323
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

عاشورا کے دروس(مشکلات اورسختیوں کے باوجود خدا کا شکرادا کرنا)

الفاظ:صلوات،حمدوثنا،شکر،الہی جذبہ،محنت وکوشش،آیت  اللہ قاضی

معصومین:پیغمبراسلام، امام علی،امام حسین اورامام سجاد علیہم السلام

موضوع خطاب:عاشورا کے  دروس(مشکلات اورسختیوں کے  باوجود خدا کا شکرادا کرنا)

اعوذ بالله من الشيطان الرجيم قال الله تبارك و تعالي : و اذ تاذن ربكم لئن شكرتم لازيدنكم و لان كفرتم ان عذابي لشديد(سوره ابراهيم آيه7)

و قال رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم أسرع الذنوب عقوبة كُفران النعمة (وسائل الشيعه ج16ص312)

امروز امير در ميخانه تویي تو   ***  فريادرس ناله مستانه تویي تو

مرغ دل ما را كه به كس رام نگردد   ***   آرام  توئي دام تويی دانه تویي تو

چهره گل، عندليبان را غزل خوان مي كند   ***   ديدن مهدي هزاران درد درمان مي كند

مدعي گويد كه با يك گل نمي گردد بهار   ***  من گلي دارم كه عالم را گلستان مي كند

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں  سلام عرض کرتے ہوئے محمد وآل محمد پربلند آوازسے صلوات پڑھیے۔

ذکرصلوات کی فضیلت

ذکرصلوات ایک قرآنی حکم ہے کہ جس کا  تذکرہ  سورہ احزاب میں آیا ہے۔خداوندمتعال نے ہرنبی کو ایک خاص شرافت عطا فرمائی ہے ۔خداوندمتعال نے ہمارے نبی کہ جوسب انبیاء سے افضل  نبی ہیں،کو آیت صلوات کے ذریعے فضیلت اوربرتری عطافرمائی ہے۔قرآن کریم میں  ہرجگہ پر آیت کی ابتدا میں  (یا ایھا الذین آمنو) آیا ہے فقط ایک مقام ایسا ہے  کہ جہاں پر خداوندمتعال نے آیت کے وسط میں(یاایھا الذین آمنو) کا ذکرفرمایا ہے اوروہ آیت  مبارکہ صلوات ہے ۔اس کی وجہ یہ  ہے کہ مومنین کے لیے  صلوات کے  فرمان کوتیارکرے اوربہترہے  کہ یہ فرمان مومنین کے دل پراثرکرے۔خداوندمتعال نے  اپنی گفتگو کا آغازاس طرح فرمایاہے: «ان الله و ملائكته يصلون علي النبی» (سوره احزاب آيه56)بتحقیق خدااورفرشتوں کا کام صلوات پڑھنا ہے۔اس سے کیا مراد ہے؟ تواس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندمتعال  اپنے پیغمبرپرہمیشہ لطف ورحمت ،عنایت اوربرکت نازل کرتا ہے اورفرشتے بھی  خداوندمتعال سے پیغمبرپررحمت ودرود بھیجنے کی  درخواست کرتے ہیں۔(یصلون) کے بارے مفسرین نے کہا ہے کہ  خدا وندمتعال ہمیشہ اوردائمی  اپنے پیغمبر پراپنا لطف اوراپنی برکت نازل کرتا ہے۔«يا دائم الفضل علي البريه» (مصباح الکفعمي ص647) سب سے بہترین (بریہ) پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اوران کی آل ہیں۔یہاں پر دائمی فضل کی بات ہے (یصلون) یعنی فرشتے بھی   پیغمبراکرم پر دائمی  رحمت اوربرکت کے نازل کرنے کی درخواست کرتےہیں۔خداوندمتعال فرماتا ہے کہ میر ا اورمیرے فرشتوں کا  کام صلوات بھیجنا ہے۔ (يا ايها الذين آمنوا) اے ایمان والو تم بھی ہمیشہ  محمد وآل محمد علیہم السلام  پر صلوات بھیجتے رہا کرو۔ حدیث میں ہے کہ ایک  شخص نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی آیت صلوات« ان الله و ملائكته يصلون علي النبي ياايهاالذين آمنواصلوا عليه وسلموا تسليما » (سوره احزاب آيه56) کے بارے میں سوال کیا توحضرت نے فرمایا: اگرتم سوال نہ کرتے تو میں  بیان  نہ کرتا  لیکن  اب سنو، خداوندمتعال نے کچھ فرشتوں کو حکم دیا ہوا ہے کہ جب کوئی شخص میرا نام سن کرصلوات پڑھتا ہے تووہ فرشتے اس کے  لیے دعا کرتے ہیں اورکہتے ہیں: «غفر الله لك» (مفتاح الفلاح ص39)۔ خدا تمہاری مغفرت کرے۔ بنابریں ہم صلوات  پڑھ کرفرشتوں کی دعا کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ جویقینا قبول ہوتی ہے اوروہ کہتے ہیں  کہ خدا تمہاری  مغفرت کرے۔پھررسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرکوئی میرا نام سنے اورمجھ پرصلوات نہ بھیجے تو فرشتے کہتے ہیں: «لا غفر الله لك» (مفتاح الفلاح ص39) خدا تمہاری مغفرت نہ کرے۔یعنی اگرکوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک سن کرصلوات نہ پڑھے اورلاپرواہی کردے تو وہ فرشتوں کی بیزاری اورنفرت کا سبب بنتا ہے اوروہ کہتے ہیں کہ خداتمہاری  مغفرت نہ کرے۔لہذا مومنین صلوات کواہمیت دیجیے۔اس کے بعد فرمایا:صلوا عليه و سلموا تسليما(سوره احزاب آيه56) یہ اللہ کا فرمان ہے اوراس کا حکم ہے۔اکثرمفسرین نے  کہا ہے کہ "سلموا" یعنی وہی سلام کرنے کے معنی میں ہے لیکن بعض  نے اس کا معنی تسلیم کیا ہے یعنی ہم پیغمبرکے سامنے  تسلیم ہوجائیں۔لیکن ظاہرا اس کا معنی  سلام ہی  ہے کیونکہ (صلوا) کے بعد اس کا تذکرہ ہے۔

عاشورائی  لوگوں کا ایک درس ہرحال میں اللہ کا شکرادا کرنا ہے

  سامعین محترم ،آج میں  واقعہ عاشورا اورکربلا  سے حاصل ہونے والے ایک درس کی وضاحت کرتا ہوں اوروہ ہے ہرحالت میں اللہ کا شکرادا کرنا ،یعنی مصیبت نازل ہویا نعمت حاصل ہوہرحال میں اللہ کا شکربجالانا چاہیے۔ اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے شب عاشورکواپنے ایک خطبے میں فرمایا: « أثني عليك احسن الثناء في السَّراء و الضَّراء» (بحارالانوار ج44ص392) یعنی مشکلات اورمصیبتوں اورخوشی اورمسرت کے  ایام میں  بھی خدا وند متعال کا شکریہ ادا کرتا ہوں اورآپ  کہیں پربھی نہیں دکھا سکتے کہ امام حسین علیہ السلام،ان کی اہل بیت اوران کے اصحاب نے خدا سے گلہ وشکوہ کیا ہو۔وہ ہمیشہ اس کی حمدوثنا کرتے ہوئے نظرآتےہیں۔امام سجاد علیہ السلام کہ جنہوں نے واقعا اس سفرمیں بہت زیادہ تکلیفیں اورمصیبتیں دیکھی ہیں(جوعزیز شہید ہوجاتے ہیں ان کی روح پرواز کرجاتی ہے)لیکن جوعزیزباقی  بچ جاتے ہیں ،زخمی ہوجاتے ہیں یا قید کرلیے جاتے ہیں ،شہید سے  کہیں زیادہ ان کی مشکلات ہیں۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا اورامام سجا دعلیہ السلام نے  واقعا بہت زیادہ  تکلیفیں اورمصیبتیں  برداشت کی ہیں لیکن ان تمام تر مشکلات اورمصیبتوں کے باوجود جب یہ قافلہ مدینہ میں واپس  پہنچتا ہے تولوگ آپ کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اورامام زین العابدین  علیہ السلام  کی گفتگوسے استفادہ کرتےہیں۔

کربلا کی مصیبتوں کے مقابلے میں امام سجاد علیہ السلام کا ردعمل

جب آپ  مدینہ منورہ میں  داخل ہوئے تو لوگ آپ کے گرد جمع ہوگئے توامام سجاد علیہ السلام نے ان لوگوں کے سامنے اپنے خطبے کا اس طرح آغازکیا: «أنَّ الله و له الحمد ابتلانا» (بحارالانوار ج45ص147) فرماتے ہیں کہ  کیسی مصیبتیں اورتکلیفیں ہم  پرآئیں لیکن فورا فرمایا:( و له الحمد) مت یہ خیال کرنا کہ ہم   کہیں کہ خدا نے ہمارا امتحان لیا ہے اورہم  اس سے ناراض ہیں بلکہ وہ اپنے ساتھ  پیش آنے والے واقعات کے بارے  بتارہے ہیں۔فرمایا: مدینہ کے لوگو تمہیں اتنا بتا دیتا ہوں کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔اگرمیرے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حکم دیا ہوتا کہ  میری اہل بیت  کوآزارواذیت پہنچانا واجب ہے تواس سے زیادہ تکلیف نہ پہنچاتے۔لیکن خطبے کی ابتداء میں فرمایا: «أن الله و له الحمد» (بحارالانوار ج45ص147)یعنی ہرحال میں  کہو الحمدللہ، یعنی ہرمصیبت اورمشکل اورہرنعمت اورخوشی کے مقام پرکہو الحمدللہ،کیونکہ یہ سب اسی کا لطف ہے۔ایک عالم دین نے اس جملے کے بارے کہا ہے کہ یہ جو(لہ) (حمد) پرمقدم ہے،تواس کا مطلب ہے کہ ہرحمد اورہرتعریف اسی اللہ کے لیے ہے۔

مرحوم آیت  اللہ خوانساری کا زہد

مرحوم  آیت اللہ خوانساری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایک عظیم  مرجع تقلید اورنامورشخصیت تھے۔بعض  مراجع سے سوال کیا گیا کہ کیا  مرحوم آیت اللہ خوانساری عادل بھی تھے؟ فرمایا:اس طرح پوچھو کہ کیا وہ معصوم تھے یا نہیں؟ آپ اس قدرزہد وتقویٰ اوراخلاص کے مالک تھے۔ایک عالم دین نے نقل کیا  ہے ایک مرتبہ وہ سخت مریض ہوگئے اورانہیں درد کمرکی بہت زیادہ تکلیف تھی۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے توان سے پوچھا کہ قبلہ صاحب آپ کا کیا حال ہے؟ وہ کہنا چاہتے تھے کہ مثلا میری کمرمیں شدید درد ہے،فرمانے لگے الحمدللہ  میری  کمرمیں  درد ہے۔یعنی پہلے حمد خدا اوراس کا  شکرفراموش نہ ہو،کیونکہ یہ درد اوربیماری بھی خدا کی مشیت اوراس کا لطف ہے،یہ مشکلات،خدا کی عنایات ہیں۔

ہدف تک پہنچنے کا  ایک راستہ الہی جذبہ ہے

مرحوم آقا دولابی فرمایا کرتے تھے: میں جب بھی کسی سے گفتگو کرتا ہوں  توسب یہی کہتے ہیں  کہ  قبلہ صاحب ہم  مشکلات کا شکارہیں،منبرسے  جب نیچے اترتے ہیں توکہتے ہیں کہ مولانا  صاحب  دعا کیجیے ،ہمارے فلاں صاحب مریض ہیں،ہم مقروض ہیں، سب شکوہ وشکایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ اس طرح نہ کہو کہ  ہم مشکلات کا شکارہیں بلکہ کہو کہ ہمارے  دوست خدا کی گرفت نے ہمیں گرفتارکردیا ہے۔الحمدللہ ہماری آہ  وبکا نکل جاتی  ہے۔ہم اس قدرمحبوب خدا نہیں ہیں کہ خوشی سے خدا کی طرف جائیں لیکن جب ہمارے راستے میں رکاوٹیں  آتی ہیں تو پھراس ذات کی طر ف رجوع کرتےہیں۔ہم اس سے کہیں زیادہ کمزور ہیں  کہ ہم خود جائیں بلکہ ہمیں لے جایا جائے۔عرفا بھی کہتے ہیں کہ مقصداورہدف تک پہنچنے کا راستہ  فقط الہی جذبہ ہے بعض اوقات پہلا جذبہ کام آجاتا ہے اورانسان،مجذوب صالح ہوجاتا ہے یعنی پہلے اس کے دل کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں یعنی ایک خاص عنایت اورلطف اس کے دل میں   ہوتی ہے بعد میں وہ حرکت کرتا ہے، اسے کہتے  ہیں مجذوب صالح۔ہمارے عرفاء اوراولیائے الہی کے درمیان ایسے  بزرگان بھی تھے کہ پہلے  ان کے دل میں ایک عشق الہی چمکا اوراسی وقت سے وہ الہی جذبہ سے سرشارہوکر حرکت کرنے لگے۔

رشته اي در گردنم افكنده دوست   ***   مي كشد هر جا كه خاطرخواه اوست

گه به كوفه گه به شامم مي برد    ***   مي كشد هر جا كه خاطرخواه اوست

اہل بیت علیہم السلام کی اسارت کی حقیقت

اہل بیت علیہم السلام ظاہری طورپرمخلوق کے اسیر اورقید ی ہیں لیکن باطن میں  خدا کے اسیر ہیں۔خدا فرماتا ہے  کہ میں تمہیں  اسیر اورقیددیکھنا چاہتا ہوں،لیکن انہوں نے امام حسین علیہ السلام پرکوئی اعتراض نہیں کیا کہ مولا آپ کیوں مکہ جارہے ہیں؟مکہ سے کربلا اورکوفہ جائیں گے وہاں پرمصیبتیں ہیں،لوگ بے وفا ہیں،بہت سے لوگوں نے اس قسم کی نصیحتیں کیں لیکن امام نے فرمایا: «إن الله شاء أن يرانی قتيلا» (بحارالانوار ج44ص364) خدامجھے قتل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔عرض کیا مولا توپھراہل بیت کوکیوں لے کرجارہے ہیں؟فرمایا: :« إن الله شاء أن يراهنَّ سَبايا» (بحارالانوار ج44ص364) خدا انہیں اسیراورقید دیکھنا چاہتا ہے۔اگریہ  اسارت نہ ہوتی،اگرحضرت زینب کبری ٰ سلام اللہ علیہا کے  خطبے نہ ہوتے  اوراگرامام سجاد علیہ السلام حقیقت کوروشن نہ کرتے تو اہل بیت کا خون پامال ہوجاتا۔

سالک مجذوب کا مطلب

مطلب اول یہ ہے  کہ بعض اوقات جذبہ آتاہے اورانسان کوحرکت دیتا ہے اوربعض اوقات اس کے بالعکس ہےیعنی پہلے انسان کوشش کرتا ہے،محنت کرتا ہے،خد ا کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے،دروازہ کھلے یا نہ۔لیکن تمام عرفا کا عقیدہ ہے کہ آخرکاردروازہ کھلنا چاہیے۔یعنی ایک لطف خاص ہوتاکہ ہمیں لے جائیں، دروازہ کھولیں اورہمیں اندرلے جائیں اسے کہتے ہیں سالک مجذوب۔یعنی پہلی صورت میں پہلے جذبہ پیدا ہوتا ہے،خدا کی طرف سے کوئی حکم لے کرآتا ہے،دعوت کرتاہے اورکہتا ہے  اٹھو چلیں۔اب ہم اس خاص لطف وکرم اورا س کے راز کونہیں سمجھتے ۔لیکن بعض ہمارے جیسے افراد اس قدرگریہ وزاری کریں،امن یجیب کہیں،زیارت عاشورا پڑھیں، دعائیں کریں تاکہ ہمیں بھی اندرجانے کی  راہ مل جائے۔لیکن  دوسری  صورت میں جب تک اللہ کا لطف وکرم اورعنایت شامل حال نہ ہو اورجذبہ خدا نہ ہوتومحال ہے کہ  اندرجانے کی اجازت دی جائے۔اسے کہتے ہیں سالک مجذوب۔پہلے کوشش کرتے ہیں، زحمت کرتے ہیں،بقول حافظ کہ جوکہتا ہے کہ میں نے چالیس سال تک محنت کی ،زحمتیں برداشت کیں تواس کے بعد وہ جذبہ نصیب ہوا اوردروازہ کھولا گیا اورکہا گیا کہ اندرآجاو۔وہاں پرپھرنفس اورانانیت کی بات نہیں ہے  ،شیطان نہیں  ہےبلکہ خالص عمل ہے۔

اہل بیت علیہم السلام کی انسان سازنگاہیں

اگرتم جارہے ہوتواس  امید کے ساتھ کہ وہ تمہارا ہاتھ پکڑلیں ،کیونکہ آپ نے دیکھا کہ جب امام حسین علیہ السلام نے زہیربن قین کی طرف نگاہ کی تووہ زہیر کہ جوپہلے  فرارکررہا تھا اورعثمانی مذہب سے تعلق رکھنے والا تھا،امام حسین علیہ السلام سے پشت کرکے جارہا تھا۔لیکن امام حسین علیہ السلام  کی ایک نگاہ سے اس کی تقدیر بدل گئی۔حر، عمرسعد کے لشکر کا  کمانڈرتھا اوروہ ابن زیاد کی طرف سے ایک ہزارکے لشکرکے ساتھ امام حسین علیہ السلام کا گھیراو کرنے کے مشن پرآیا تھا تاکہ امام کودشمن کے حوالے کردیں اوراس نے یہ کام بھی کیالیکن  عاشور کے دن امام  حسین علیہ السلام نے  خطبہ دیا اورفرمایا: «هل من مغيث يرجوالله في اغاثتنا» (بحارالانوار ج45ص46) جب  امام نے حرپراپنی  خاص نظررحمت ڈالی تووہ امام حسین علیہ السلام میں جذب ہوگیا۔جیسا کے ہماری دعاوں میں بھی ہے:« وانظر الينا نظره رحيمة نستكمل بها الكرامة عندك» (بحارالانوار ج99ص108) دعائے ندبہ کے آخراورامام رضا علیہ السلام کی زیارت کے بعد کی دعا میں بھی یہ جملے موجود ہیں«وَانظُر إلَيَّ» خدایا ہم پر ایک نظرکر کہ جووہی  جذبہ اوردستگیر ی ہے،امام حسین علیہ السلام نے حرسے فرمایا :تم تومیرے ہو۔

مقدس مقامات کی زیارت کی دعوت

عام لوگ کہتے  ہیں  کہ وہ ہمیں  بلاتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ کا کربلا جانے کوبہت  جی  چاہتا ہو،مکہ اورمشہد جانے کوبہت جی چاہتا ہو ،لیکن اگردعوت نہ ہو،نہ بلائیں تومحال ہے کہ تم کربلا ،مکہ اورمشہد جاسکو۔ایک مجتہد سے کہا گیا  کہ یہ جولوگ  کربلا جاتے ہیں،مکہ جاتے ہیں،یہ قسمت ہے یا ہمت؟ دونوں معنی درست ہیں،بعض کوشش کرتےہیں اوربعض  کی قسمت میں ہے۔یعنی ایک معنی کے لحاظ سے ہمت اورکوشش اورقسمت بھی  درست ہے۔ان سے  کہا گیا  کہ یہ جوزیار ت کے لیے جاتے ہیں یہ قسمت ہے یا ہمت؟ انہوں نے ایک خوبصورت جواب دیا اورفرمایا: یہ دعوت ہے اگردعوت نہ کریں توتم جاسکتے ہو؟لاکھوں لوگ،کربلا اورمکہ کی آرزو میں  مرجاتے ہیں۔لہذا جب تک اس طرف سے اشارہ نہ ہو فائدہ نہیں ہے۔

نمازامام زمانہ علیہ السلام  میں "ایاک نعبد" کی تکرار کا  مطلب

نمازامام زمانہ علیہ السلام میں  یہ جودوسومرتبہ"ایاک نعبد" کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ایاک نعبد ، بعد میں کہتے ہیں:"وایاک نستعین" خدایا تو  ہماری مدد فرما، ہم کہاں، توکہاں، خا ک کہاں اوررب الارباب کہاں؟ ہم کہاں اورحرم امن الہی  کہاں، ہم کہاں اورچودہ معصومین کی ہمسائیگی  کہاں، ہم کہاں اورقرب الہی کی جنت کہاں۔ہاں اگردعوت دیں ،طلب کریں توتمام راستے ہموارہوجاتے ہیں لیکن اگرطلب نہ کریں توجتنی بھی زحمت کریں بیہودہ ہے۔ بعض لوگ ایک خاص عنایت کی وجہ سے پہلے مجذوب ہوجاتے ہیں اوربعد میں حرکت کرتےہیں ان کا کام بہت  ٹھیک ہے۔

سیروسلوک کی راہ میں آیت اللہ قاضی کی زحمت

عرفا کے حالات زندگی میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ وہ عرصہ درازتک زحمت   اورسعی وکوشش کیا کرتے تھے۔لیکن آیت اللہ بہجت کے استاد آیت اللہ  قاضی  رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے نقل ہواہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے  اٹھارہ سال تک سیروسلوک کےراستے پربہت زیادہ زحمتیں کیں لیکن دروازہ نہیں کھلتا تھا۔ممکن ہے کہ انسان،نمازپڑھے، ذکر کہےلیکن اس کا دل پراثرنہ ہو،جان ودل کی بازی لگاتا ہے لیکن دروازہ نہیں کھلتا ،وہ خالص توحید حاصل نہیں ہوئی ہے،وہ کامل عشق نہیں آیا ہے،میری انانیت مکمل طورپرختم نہیں ہوئی ہے۔خودا نسان کومحسوس ہوتا ہے کہ ہم کوشش توکررہے ہیں لیکن دروازہ کھلا ہے یا نہیں؟ ہمارا ضمیراورہماری فطرت اچھی طرح سمجھتی ہے۔مرحوم قاضی نے تقریبا ۱۸سال تک زحمت کی،درد ورنج برداشت کیے لیکن دروازہ نہیں کھل رہا تھا، دعا پڑھتے رہتے تھے، ذکرکرتے رہتے،ریاضت کرتے رہے،لیکن دروازہ نہ کھلا۔میرے دل کوسکون نہیں تھا ایک دن میں ناامید ہورہا تھا کہ  میں نے دیکھا کہ ایک  کوا ایک  سخت اورخشک روٹی کے ٹکڑے کوچونچ مارہا ہے لیکن وہ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتی تھی اس نے  دوسری، تیسری۔ ۔ ۔چودھویں، پندرھویں،سولہویں ،سترہویں اوراٹھارویں بارچونچ ماری تواٹھارویں  مرتبہ کے بعد وہ روٹی کا ٹکڑا  ٹوٹ گیا اوراس نے وہ روٹی کا ٹکڑا کھایا اورپروازکرگیا۔یہیں پرمجھے اشارہ ہوا کہ ایک سال اور زحمت کرو۔میں نےدیکھا کہ انیسویں مرتبہ  اس نے روٹی کے  ٹکڑے کو توڑا تواسے کھا کرپرواز کرگیا۔اسی طرح اٹھارہ سال  کے بعد مجھ پردروازہ کھلا اورفرج حاصل ہوئی۔

آخری عمرتک درگاہ الہی سے  مایوس نہ ہونا

مرحوم شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب"سفینہ " میں نقل کیا ہے کہ ایک عالم سے کہا گیا :البتہ گھرکے دروازے کوترک نہیں کرنا چاہیے،کسی اورجگہ پربھی نہیں جانا چاہیے،لیکن اس مقام پرکب تک بیٹھیں رہیں اورگریہ کرتے رہیں۔ فارسی زبان کے شاعرنے اس مقام پرکیا خوب کہا ہے:

گفت پيغمبر كه چون كوبي دري   ***   عاقبت زان در برون آيد سري

سايه حق بر سر بنده بود   ***   عاقبت جوينده يابنده بود

آنقدر در مي زنم اين خانه را   ***    تا ببينم روي صاحبخانه را

اگرصاحب منزل کونہ دیکھ پاوں تویہیں پرمرنا بہترہے،اس دروازے کے پیچھے مرنا خوبصورت ہے۔امام حسین علیہ السلام کے دروازے کے پیچھے، امام زمانہ علیہ السلام کے دروازے کےپیچھے مرنا  بہتر ہے۔جولوگ ا س دروازے کے پیچھے  مرجاتے ہیں مرنے کے بعد ان پردروازہ کھول دیا جاتا ہے۔مرحوم آیت اللہ دستغیب نے اپنے استاد مرحوم آیت اللہ انصاری ہمدانی سے سوال کیا کہ کب مجھ پردروازہ کھلے گا؟خالص توحید اورکامل عرفان کب مجھے  نصیب ہوگا؟فرمایا:شہادت کے موقع پراوران کی شہادت کی خبربھی دی تھی۔فرمایا اگردنیا میں وہ  دروازہ کھل جائے توممکن ہے کہ بہت سے کاموں کی چھٹی ہوجائے،موت کے وقت وہ الہی جذبہ آتاہے۔میں کمال مطلق کی بات کررہا ہوں وگرنہ کمال نسبی تواس سے پہلے انسان کومل جاتے ہیں ۔اگروہ دروازہ کھل جائے تو انسان کوخدا،پیغمبراوراہل بیت کی ملاقات نصیب ہوتی ہے۔بعض کامل انسانوں  کےلیے  بہت جلد دروازہ کھل جاتا ہے۔ اویس قرنی،یمن کے صحرا میں  اونٹ  چرایا کرتے تھے ان کے اوپردروازہ کھل گیا ہوا تھا۔وہ ہمیشہ پیغمبرکے ساتھ تھے،پیغمبربھی اس کے ساتھ تھے،انہوں نے اس خالص اسلام اورتوحید کوحاصل کرلیا ہوا تھا۔

توفیقات کے حصول کے لیے  محنت اورکوشش کی ضرورت

مرحوم محدث قمی نے لکھا ہے کہ ایک معروف عالم دین کہ جنہیں ا یک عظیم توفیق نصیب ہوئی تھی، سے جب پوچھا گیا کہ کیسے یہ توفیق حاصل ہوئی ہے توانہوں نے کہا:استقامت اورمسلسل محنت سے۔اس نے کہا،استقامت اورمسلسل محنت کوکہاں سے سیکھا ہے؟انہوں نے کہا  کہ ایک کاکروچ سے۔کہنے لگے  ایک رات میں مطالعہ کررہا تھا تودیکھا کہ ایک کاکروچ اس  چراغ کے اوپرجانا چاہتا ہے لیکن اس چراغ کا سٹینڈ صاف اورپھسلنے والا ہونے  کی وجہ سے  وہ اس روشنی کے پاس نہیں جاسکتا ہے،باربارجاتا پھرگرجاتا،پھراوپرجانے کی کوشش کرتا پھرگرجاتا، میں بھی اس کی طرف متوجہ ہوگیا کہ کئی مرتبہ یہ اوپرجانے کی کوشش کرتا ہے لیکن پھرگرجاتا ہے۔عزیزان یہ بات بہت اہم ہے ہم اگرایک راستے پردوبارچلتے ہیں توپھرنہیں جاتے،نہیں حق کے راستے پرچلتے رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا  کہ میں  نے گننا شروع کردیا،سومرتبہ،دوسو مرتبہ،کہنے لگے سات سو مرتبہ اوپرگیا اورنیچے آیا۔انہوں نے کہا ہے  کہ میں گن گن کرتھک گیا اورمجھے   ٹائلٹ جانے کی حاجت محسوس ہوئی تومیں اٹھ کرچلا گیا جب واپس آیا تودیکھا وہ اس روشنی کے پاس پہنچ گیا ہو اہے۔خدا نے اسی چیزکومیرا معلم قراردیا اورکہا کہ ناامید نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا سایہ تمہارے سرپرموجود ہے۔لہذا جوانسان صابرہے اوراستقامت دکھاتا ہے اورمسلسل محنت کرتا ہے وہ ایک دن پہنچ جائےگا۔

اولیائے الہی کا  لوگوں کے درمیان  مخفی ہونا

مرحوم آیت اللہ قاضی نے اس راہ میں بہت زیادہ زحمت کی ہے اوریہی زحمتیں اورریاضتیں ہی اس جذبہ کا پیش خیمہ ہیں۔آپ کے ایک خصوصی شاگرد نے کہا  کہ اٹھارہ سال کی محنت کے بعد ایک دن میں حضرت اباالفضل علیہ السلام کے حرم مطہرکے صحن میں جارہا  تھا کہ کسی نے کہا کہ کربلا میں ایک دیوانہ تھا۔روایت میں ہے کہ کسی کی اہانت نہ کریں،بعض اوقات ممکن ہے کہ بعض انسان کی ظاہری وضع قطع اچھی نہ ہو لیکن وہ  غیرمعمولی انسان ہوں۔البتہ اس کا یہ  مطلب نہیں ہے کہ ہردیوانہ  اچھا انسا ن ہے اورکہو کہ مولانا صاحب نے کہا ہے  کہ دیوانے افراد،اولیائے الہی ہیں۔یہ بات درست نہیں ہے۔لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ممکن ہے  کہ عام سے لباس میں غیرمعمولی آدمی موجودہو۔روایت میں  ہے  کہ خدا نے اپنے ولی کو اپنی مخلوق میں مخفی کررکھا ہے لہذا کسی کی اہانت نہ  کرو،ابھی ایک اورداستان کی طرف اشارہ کرتا ہوں اوربعدمیں مرحوم قاضی کا واقعہ نقل کرتا ہوں۔ نجف اشرف میں ایک دیوانہ تھا۔ایک عالم دین نے کہا  کہ میں حرم امیرالمومنین علیہ السلام میں نمازپڑھنے کے لیے گیا تووہی  دیوانہ میرے سامنے آکرمجھے دیکھ کرہنس کرکہتا ہے کہ بے وضو نماز،بے وضو نماز۔اس  عالم دین نے کہا  کہ میں نے  جب سوچا کہ  تودیکھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے میں نے وضو نہیں کیا ہواتھا۔البتہ  وہ نمازبھی ایک خاص حالت میں پڑھنے لگا تھا چونکہ وضو نہیں کیا ہوا تھا۔بعض اوقات دیوانے افراد بہت اہم بات کرجاتےہیں،اب یاتووہ سمجھ جاتے ہیں یا خداان کی زبان پرجاری کردیتا ہے۔

حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام سےتوسل سے آیت اللہ قاضی کے عرفانی مقامات

مرحوم قاضی نے فرمایا کہ حرم مطہرحضرت ابالفضل العباس علیہ السلام میں ایک دیوانے نےآکرمیرے کان میں کہا  کہ اس وقت حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام،اولیائے الہی کی پناہ گاہ ہیں۔اگرتم بھی  اپنی مشکل حل کرنا چاہتے ہوتوجاوحضرت عباس  علیہ السلام سے توسل کرو۔کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ نعوذباللہ حضرت ابالفضل علیہ السلام  کا مقام بالاترہے یا سلمان کا۔انہوں نے فرمایا:کبھی بھی اس طرح کا سوال نہ کرنا۔لیکن انہوں نے جوا ب دیا:حضرت ابالفضل العباس علیہ السلام ایک ایسی شخصیت کا نام ہے کہ جن کی نگاہ سے سلمان بنتے ہیں۔کبھی اہل بیت کوکسی سے قیاس نہ کرو۔فرمایا:ا س وقت حضرت  عباس علیہ السلام،اولیائے الہی کی  پناہ گا ہ ہیں۔امام حسین علیہ السلام بھی فرماتے ہیں: میری جان آپ پرقربان ہو،یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔مرحوم قاضی کوایک دھچکا لگا کہ عجیب یہ بھی  اسی  راہ کا راہی ہے لہذ آپ بھی حضرت ابالفضل العباس علیہ السلام کے حرم کی پنا ہ لیتے ہیں۔یااباالفضل العباس علیہ السلام  میں نے اتنی زحمت کی ہے،درد ورنج برداشت کیے ہیں اب تو ہمارے دل کا دروازہ کھول دیجیے۔آیت اللہ قاضی توسل کرتےہیں تودیکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ پردے ہٹ جاتے ہیں تودیکھتے ہیں کہ  جہان کے تمام  ذرات خدا کا ظہورہیں ،لاالہ الا اللہ کا ظہورہیں۔امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے جس چیزکوبھی دیکھا خدا نظرآیا: :« ما رايت شيئا الا و رايت الله قبله و بعده» (مفتاح الفلاح ص367)  آیت اللہ قاضی فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ  کائنات کے ہرذرے سے نورالہی کا ظہوراٹھ رہا ہے: «الله نور السموات و الارض» (سوره نور آيه35)اس آیت نے تجلی  کی ۔انہوں نے کہا کہ لیکن یہ حالت عارضی تھی کہ جوختم ہوگئی۔میں گھرآیا تومیری  زوجہ نے چائے بنائی ہوئی تھی،میں نے چائے پی تودیکھا کہ وہ حالت دوبارہ پلٹ رہی ہے۔میں  گھرکی چھت پرچلا گیا  تودیکھا کہ  ہرجگہ پرخدا کی تجلی کودیکھ رہا ہوں۔کئی مرتبہ یہ حالت پیدا ہوئی اورختم ہوئی اورپھر ٹھہرگئی۔یہ وہ شخصیت تھی کہ  اگرتمام مشکلات اوربلائیں ان کے سرپرآجاتیں تووہ  حرکت نہیں کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ گھرگرگیا اورمرحوم قاضی کے تمام شاگرد بھاگ گئے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔انہوں نے کہا  کہ حفاظت کرنے والا خدا ہے،تم توحید کا دعویٰ تو کرتے ہو لیکن پھربھی  مضطرب اورپریشان ہیں۔ان کے ایک شاگرد کہتے ہیں کہ ایک دن مسجد سہلہ میں آپ  کی خدمت میں موجودتھا،آپ تدریس کررہے تھے کہ ایک بہت بڑا سانپ ان کے پاس آیا جسےدیکھ کرمیں ڈرگیا۔فرمایا: «مِت باذن الله»۔ایک موحد انسان ،فقط خدا کوموثرجانتا ہے اورخدا  کوہی نقصان پہنچانے والا اورنفع پہنچانے والا  جانتا ہے اورکبھی اس کا دل دہلتا نہیں ہے اورخدا کے علاوہ کسی پراعتمادنہیں کرتا ہے۔اس شاگرد نے کہا کہ میں نےدیکھا کہ  سانپ زمین  پربے حس ہوکررہ گیا ہے۔ہم نے اپنے آپ کوسنبھالا اوراپنے آپ سے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ زندہ ہو اوردوبارہ اٹھ جائے اورہمیں  ڈس لے۔درس ختم ہوا اورآیت اللہ قاضی چلے گئے توہم نے ایک لکڑی لے کراسے ہلانا شروع کیا تودیکھا کہ وہ  حقیقت میں مرچکا ہے اورحرکت نہیں کررہا ہے۔اب ہمارے دل کوبھی سکون آگیا کہ ان کا  امردرست تھا۔مرحوم قاضی ،حضرت عباس علیہ السلام سے توسل  کرنے کی وجہ سے اس مقام پرفائزہوئے۔

حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کا ذکرمصیبت

ہم سب کی جانیں قربان ہوں حضرت عباس علیہ السلام پر۔مرحوم شیخ عذری نے حضرت  عباس علیہ السلام کے بارے بہت اچھے اشعارکہے ہیں: اليوم نامت اعين بك لم تنم و تسهدت اخري فعز منامها۔کہتے ہیں  کہ شب عاشور چونکہ  حضرت عباس علیہ السلام خیموں کے گرد  پہرہ دے رہے تھے اس لیے اہل بیت بھی آرام وسکون میں تھے،خواتین اوربچوں کےدل  سکون سے تھے۔لیکن دشمن  خوفزدہ تھے کہ اگرعباس نے حملہ کردیا توہم سب کا  خاتمہ  ہوجائے گا لیکن شام غریباں کا منظراس کے بالکل برعکس تھا۔ اليوم نامت اعين بك لم تنم و تسهدت اخري فعز منامها۔اے ابالفضل العباس علیہ السلام،واقعہ عاشورا اور شام غریباں کوحالات  بالکل بدل گئے،جب ان لومڑی صفت دشمنوں  نے دیکھا کہ حسین کا شیردل  بھائی نہرفرات کے کنارے  سوگیا ہوا ہے اورخواتین کاکوئی محافظ نہیں ہے توانہیں رات کونیند نہیں آرہی تھی لیکن دشمن آرام سے سویا ہواتھا۔جس چیز نے امام حسین علیہ السلام کے دل کوبہت اذیت پہنچائی وہ بھائی قمربنی ہاشم حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت تھی۔کہتے ہیں  کہ مرحوم حائری مازندرانی نے نقل کیا ہے کہ ایک عالم دین، کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت  کے لیے زیادہ جایا کرتے تھے لیکن حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلا م میں بہت کم جاتے تھے،بعض اوقات جاتے اورکبھی نہ جاتے۔ایک رات انہوں نے خوا ب میں حضرت زہراسلام اللہ علیہا کودیکھا اوران کی خدمت میں سلام عرض کیا توحضرت نے اس عالم دین  کی طرف توجہ نہ کی۔عالم دین نے عرض کیا:بی بی جان کیوں مجھ پرلطف نہیں کرتیں۔فرمایا:اس لیے کہ میرے بیٹے کی زیارت کے لیے نہیں جاتے ہو۔ میں نے عرض کیا:بی بی جان میں دن میں تین مرتبہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے  لیے جاتاہوں۔حضرت زہراسلام اللہ  علیہا نے فرمایا: تزور ولدي الحسين و لا تزور ولدي العباس میرے بیٹے  حسین کی زیارت کے لیےتوجاتے ہولیکن میرے بیٹے ابالفضل العباس کی زیارت  کے لیے کیوں نہیں جاتے ہو،یعنی ابالفضل العباس علیہ السلام بھی  زہرا سلام اللہ علیہا کے بیٹے ہیں۔بعض نے نقل کیا ہے کہ جب ابالفضل العباس کے بازوکٹ چکے تھے اورمشک کا پانی بہہ چکا تھا توحضرت دشمن کے لشکرکےدرمیان  حیرت اورپریشانی کے عالم میں کھڑے تھے۔عزادارو ایک شجاع اورغیرت مندشخص کے لیے کتنا سخت تھا کہ اسلحہ اوربازو کے بغیران پرکیسی گزری ہوگی۔ایک ظالم نے ایک گرز حضرت عباس کے سرپرماری توحضرت نےآوازدی   یا اخاہ، کیوں کہا اے  بھیا،کہتے ہیں کہ بی بی فاطمہ زہراسلام للہ علیہا نے فرمایا: میرا بیٹا عباس۔یہاں سے سمجھ آتی ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا انہیں اپنا بیٹاسمجھتی تھیں۔آوازدی  ،بھیا،اپنے بھیا کی خبرلو،جب ابالفضل العباس کی  آواز سنی تواباعبداللہ  کے چہرے کا  رنگ تبدیل ہوا۔نہرفرات کے کنارے آے تودیکھا کہ مشک ایک طرف اورعلم دوسری طرف پڑا ہواہے اورآنکھ میں تیر ہے توامام نے  آوازبلند  کی "الان انکسرظہری"۔

لاحول و لا قوه الا بالله العلي العظيم


٠٩:٤١ - سه شنبه ١٧ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٧١٠    /    تعداد نمایش : ٩٢٦


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.