فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14762
 بازدید امروز : 15
 کل بازدید : 31079
 بازدیدکنندگان آنلاين : 4
 زمان بازدید : 1/1200
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

عاشورا کے درس

موضوع : عاشورا کے درس

عن مولانا الحسين عليه السلام: «الله يعلم انّي احب الصلاه و تلاوه کتابه وکثره الدعا و الاستغفار» (بحارالانوارج44ص391)

سلسله موي دوست حلقه دام بلاست    ***   هر که در اين حلقه نيست فارغ از اين ماجراست

گر برود جان ما در طلب وصل دوست      *** حيف نباشد که دوست دوست‌تر از جان ماست

گر بزنندم به تيغ در نظرش بي دريغ   ***   ديدن او يک نظر صد چو منش خون بهاست

مالک ملک وجود حاکم ردّ و قبول    ***   هر چه کند جرم نيست ور تو بِنالي جفاست

هر که به جور رقيب يا به جفاي حبيب      ***  عهد فراموش کند مدعي بي وفاست

خداوند متعال ہمارے دلوں کو ولایت اہل بیت  علیہم السلام  کی معرفت کے نورسے منورفرمائے بلند آواز سے محمدوآل محمد پرصلوات پڑھیں۔

ذکرصلوات کی فضیلت

اصول کافی میں امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے   کہ جس میں آپ فرماتے ہیں:اگرکوئی ایک مرتبہ صلوات بھیجتا ہے تو«صلي الله عليه الف صلاه في الف صف علي الملائکه» خداوند متعال،ہزارفرشتوں کی  جماعت میں  اس شخص پرہزارمرتبہ  درو د وسلام بھیجتا ہے اوربعد میں  فرماتا ہے  اس کائنات کی تمام موجودات،خدا اورفرشتوں کی پیروی کرتے ہوئے«صلوا علي هذه العبد» (الکافي ج2ص442) اس بندے پردرود وسلام بھیجتے ہیں کہ جس نے ایک مرتبہ  محمدوآل محمد پرصلوات پڑھی ہو اوراس کے لیے دعا کرتےہیں۔اس حدیث  کے اختتام پر ان لوگوں کے لیے بہت سخت جملہ آیا ہےکہ جو صلوا ت کواہمیت نہیں دیتے اورانہیں ایک خطرناک دھمکی دی گئی ہے اوراس قسم کی دھمکی بہت کم ہے۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «من لم يرغب في هذا فهو جاهل و مغرور قد برئ الله منه و رسوله و اهل بيت» (الکافي ج2ص442)۔یہ  ایک بہت اہم تعبیر ہے کہ جولوگ اس ذکرکواہمیت نہیں دیتے اورا س ذکرکی  طرف رغبت نہیں کرتے وہ جاہل اورمغرور ہیں ،انہوں نے دھوکہ کھایا ہے۔خدا  ان سے  بیزارہے، پیغمبران سے بیزارہیں، اہل بیت  ان سے بیزارہیں۔

لوگوں کی ہدایت کرنے کا اجروثواب

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے فرمایا: یاعلی اگرآپ کے  ذریعے ایک شخص ہدایت پاجائے تویہ ہراس چیز سے بہتر ہے کہ جس پرسورج کی روشنی پڑتی ہے۔.(المجموع شرح المهذب، ابی زکریا محی الدین بن شرف النووی، ج 1، دارالفکر و نیل الاوطار، باب الدعوۀ 25 قبل القتال)۔

عزیزو، سورج فقط اس کرہ زمین  پرہی  نہیں چمکتا بلکہ اس کے اطراف میں موجود تمام منظومہ شمسی پراس کی روشنی پڑتی ہے۔جوشخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس سےکہیں زیادہ ایک شخص کی ہدایت کرنے کا  ثواب ہے۔دعا ہےکہ خداوند متعال ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ اس قسم کے نیک  کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مومن کی ایک علامت؛ عزت نفس

حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے نو محرم کو دشمن سے مہلت مانگی اورفرمایا کہ  مجھے مہلت دو  کیونکہ خدا جانتا ہےکہ میں نمازکوکتنا پسند کرتا ہوں،قرآن کی تلاوت کوپسند کرتاہوں، دعا اوررازونیاز کوپسند کرتاہوں،استغفارکوپسند کرتاہوں۔ جیسا کے ہم نےپہلے بھی عرض کیا تھا کہ امام علیہ السلام،عزت نفس کا مظہرہیں۔مومن کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ جہاں تک ہوسکتا ہے کہ دوسروں سے سوال نہیں کرتا کیونکہ سوال اوردرخواست کرنا ذلت کا سبب ہے،یہاں تک کہ جوعلمی مسائل خود حل کرسکتے ہو بہترہے کہ دوسروں سے  نہ پوچھو، میں  یہ نہیں کہتا  کہ یہ حرام ہے لیکن بہتر  ہے اپنی عزت نفس کا  خیال رکھا جائے ۔

شب عاشور اورروزعاشور کو امام  کی دشمن سے مہلت مانگنے کا سبب

امام علیہ السلام کہ جو عزت نفس کے عروج پرفائزہیں کس طرح دشمن سے مہلت مانگ رہےہیں کہ آج کی رات مجھے مہلت دے دو یا تاریخ اورمقاتل کی کتابوں میں ملتا ہے کہ  سب نے دشمن سے پانی کا  مطالبہ کیا ہے یا مقاتل نے لکھا ہےکہ آپ نے فرمایا: «هل من ناصرٍ ينصرني هل من مغيثٍ يغيثنا لوجه الله» (بحارالانوار ج45ص12) یہ جوتعبیریں ،مقاتل میں آئی ہیں کہ کیا کوئی ہے جوہماری مدد کرے،ہماری فریاد  کوپہنچے۔پس امام حسین علیہ السلام  کہ جو مظہربے نیازی خدا ہیں،نے دشمن سے کیوں مدد کا مطالبہ  کیا ہے یاپانی  اوریا ایک رات  کی مہلت  کی درخواست کی ہے کہ آج کی رات میں نمازپڑھنا چاہتا ہوں، دعا ومناجات کرنا چاہتا ہوں، تلاوت قرآن کرنا چاہتا ہوں،استغفارکرنا چاہتا ہوں۔ایساکیوں ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہے کہ یقینا اس مہلت مانگنے میں  بہت اہم  اسراروحکمتیں پوشید ہ ہیں کہ ممکن ہے کہ ہم ان میں سے  بہت سی  حکمتوں کو نہ سمجھ سکیں۔لیکن علماء نے امام حسین علیہ السلام کی اس درخواست کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں جن میں سے کچھ کویہاں پرآپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔

ایک وجہ یہ ہے کہ  ایک عالم دین نےفرمایا:جوشخص خدا سے  ارتباط رکھتا ہے وہ اگرلوگوں سے درخواست کرتا ہے تووہ دوسروں کوکچھ عطا کرنا چاہتا ہے،دوسروں کوخیرپہنچانا چاہتا ہےجیسا کہ خود خداوند متعال فرماتاہے: «ان تنصروا الله ينصرکم و يثبت اقدامکم» (سوره محمدآيه7)۔اگرتم میری مدد کرو گے«ان تنصروا الله»،خدا کوتومخلوق کی مدد کی ضرورت نہیں ہے،مخلوقات کی مددکااسے کیا فائد ہ ہے لیکن خدا فرماتا ہےکہ میں تمہاری مددکرنا چاہتا ہوں۔یعنی اگرتم نے میرے دین، میرے مکتب،میری توحید،میری کتاب اورمیرےانبیا ء کی مدد کی «ينصرکم»توخدا تمہاری  مددکرےگا«و يثبت اقدامکم».

خدا کوقرض دینے کا مطلب

کیا اس آیت سے کوئی  واضح ترآیت ہے کہ جس میں فرماتاہے: «من ذاالذي يقرض الله قرضاً حسنا» (سوره بقره آيه245)۔قرآن کریم کی صریح اورروشن آیت ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ کوئی ہے کہ جوخدا کوقرض دے،خدا کوقرض کی ضرورت نہیں ہے،اس  کے کس کام کا۔پس اگرفرماتا ہےکہ اسے قرض دو یعنی میرے بندوں کوقرض دو تومیں تمہاری مددکروں گا اورتمہارے مال میں برکت عطا کروں گا اوراسے وسعت دوں گا،تمہاری مشکلات حل کروں گا۔اس عالم دین نے فرمایا:بعض اوقات ایک  عالم دین اگرکسی طالب علم کو خیرپہنچانا چاہتا ہے تواس شاگرد سےکہتا ہے کہ جاو فلاں کام کرو،جاو کھانا تیارکرو،اس مشکل کوحل کرو،ہمارے اس کام کوانجام دو،تواس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے خیرپہنچانا چاہتا ہے۔

خمس وزکوٰ ۃ اورنمازودعا کا باطن

خدافرماتا ہے کہ خمس دو، کیا خدا کوخمس کی ضرورت ہے، فرماتا ہے کہ زکوٰۃ دو تواس کا مطلب یہ  ہے کہ وہ آپ کو خیروبرکت عطا کرنا چاہتا ہے۔یہ جوقرآن میں ہے کہ  خدافرماتاہے کہ کون ہے کہ جوخدا کوخیرپہنچائے تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بندے کوفیض پہنچانا چاہتا ہے۔مولانا نے ایک شعرکہا ہے:

             من نکردم خلق تا سودي کنم                        بلکه تا بر بندگان جودي کنم

             من نگردم پاک از تسبيحشان                         پاک هم ايشان شوند و درفشان

              گر نماز و روزه اي فرموده ام                        ره به سوي خويشتن بنموده ام

یہ جوہم نمازپڑھتے ہیں۔ سبحان اللہ کہتے ہیں،اللہ اکبرکہتے ہیں۔خدا کوتوہماری  نمازکی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہمارا اس سے رابطہ مستحکم ہوجائے۔اگرہم کہتے ہیں: «اللهم کن لوليک يا ولياً و حافظاً ...» کہ خدایا  امام زمانہ کی حفاظت فرما،امام زمانہ کوتوہماری دعاوں کی ضرورت نہیں ہے اوراگرکوئی  بھی امام زمانہ کے لیے دعا نہ کرے توپھربھی امام زمانہ ،خدا کی حفاظت میں  ہے،خدا کی حمایت میں ہے۔پس کیوں کہاجاتا ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے لیے دعا کرو۔ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے اورتمہارے وجو دمیں امام زمانہ علیہ السلام   کی چاہت محسوس ہو،امام زمانہ علیہ السلام سے ہمارا رابطہ منقطع نہ ہو۔ہم اس سے متصل ہوجائیں ،ہماری حفاظت ہو،وگرنہ امام زمانہ علیہ السلام کےلیے اگرکوئی بھی دعانہ کرے تو وہ خدا کی امان میں ہے۔پس بنابرایں خدا اوراولیائے الہی کی تمام درخواستوں کا ظاہری مطلب ہے کہ اسے  دو،پیسے دو، خمس دو لیکن ان کا باطن یہ ہے کہ ہم آپ کوعطا کرنا چاہتےہیں یہ توفقط بہانہ ہے۔تم کہتے ہو کہ میں ایک قدم آتا ہوں توخدا دس قدم آتا ہے۔آپ ایک مرتبہ انفاق کرتےہو خدا تمہیں دس گنا  دیتا ہے،سوگنا  اورہزارگنا عطاکرتاہے۔

خداوند کا بشرکوخلق کرنے کا مقصد

مولانا نے اس شعرمیں  ایک حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے:

من نکردم خلق تا سودي کنم                  بلکه تا بر بندگان جودي کنم

اوروہ حدیث یہ ہے کہ«يا داوود اني لم اخلقکم لاربحکم» (ارشادالقلوب ج1ص110) اے داوود میں نے اس لیے خلق نہیں کیا تا کہ مجھے فائدہ ہو بلکہ میں تواپنے بندوں کو نفع اورفائدہ پہنچانا چاہتا ہوں۔آپ  سبحان اللہ کہتے ہیں یعنی وہ خدا ہرقسم کے عیب ونقص سے مبرا ہے،توکیا  اس جملے سے  خدا پاک ہوتا ہے یاتم؟میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بندوں کے تمام  ذکرااورنمازیں اس کی اپنی طرف پلٹی ہیں یہاں تک  کہ بہت سےاولیائے الہی  نے فرمایا ہےکہ یہ جوصلواتیں پڑھی جاتی ہیں ان کی برکت بھی آپ کی طرف پلٹی ہے اگرہم نہیں پڑھتےتوخدا کا کام یہی ہے: «ان الله و ملائکته يصلّون» (سوره احزاب آيه56)۔خدا اورفرشتوں کا کام ہی یہی ہے کہ وہ ہمیشہ صلوات پڑھتے ہیں لیکن ہمیں جوکہاجاتا ہے کہ ہمیشہ صلوات پڑھتے رہا کریں تواس کا مطلب  ہے کہ خدا  اپنی رحمتیں نازل کرنا چاہتا ہے۔یہ جوہم سبحان اللہ کہتے ہیں اورتسبیح پڑھتےہیں اورکہتے ہیں  خدا پاک ہے،وہ ہرقسم کے عیب ونقص سے منزہ ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں بھی پاک کرنا چاہتا ہے۔

         من نگردم پاک از تسبيحشان                         پاک هم ايشان شوند و درفشان

اگرہم اللہ اکبرکہتےہیں توخدا توہمارے اللہ اکبرکہنے سے بڑا نہیں  ہوتا  ہےہم کہیں یا نہ کہیں وہ بڑاہے وہ ہر صفت،فکراوروہم وخیال سے بھی بڑا ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہمارے وجود میں تجلی کرتا ہےتوہم بڑے ہوجاتےہیں۔

توجہ کے ساتھ اللہ اکبرکہنے کا اثر

ہم مرحوم آیت اللہ بہاء الدینی رضوان اللہ علیہ کی خدمت میں ہوتے توبعض اوقات اگرموذن نہ آتا  تومیرا جی چاہتا کہ میں اذان دوں۔یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم اذان دینے والوں میں شامل ہوجائیں۔لہذا اذان  دینی چاہیے اگرکسی مسجد میں  کوئی موذن نہیں ہے توآپ اٹھ کراذان دیا کریں یا اپنے گھروں میں  اذان کہیں  اس میں کوئی مشکل نہیں ہے،اپنے گھروں میں اذان دیں۔توعرض کررہا تھا کہ بعض اوقات میں  کھڑاہوجاتا اوراذان کہتا تومرحوم  آیت اللہ بہاءالدینی بہت خوش ہوا کرتے تھے،مجھے شاباش کہتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ انہوں  نے فرمایا:انسان کی تربیت اورتہذیب  کے لیے  بعض اوقات ایک اللہ اکبرکافی ہے۔یادرکھیں کہ ہمارا دین بہت مستحکم اورقوی ہے،ایک اللہ اکبریعنی ہمارے دل میں  خدا بڑا ہوجائے اورغیرخدا چھوٹا ہوجائے۔کیوں کہا گیا ہے کہ اگرکوئی اخلاص کے  ساتھ ایک مرتبہ "لاالہ الا اللہ" کہے تووہ جنت میں جائے گا۔(الکافي ج2ص520)۔یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ دیگربتوں کوتوڑدو،خود اوردیگربت چلے جائیں اوران کی جگہ پرخدا آجائے۔پس اللہ اکبرکا مطلب  ہے کہ يعني :«عظم الخالق في انفسهم فصغر ما دونه في اعينهم» (بحارالانوار ج64ص315)۔ یعنی میرے دل میں  خدا  عظیم اوربزرگ ہے اورخدا کے علاوہ تمام اشیاء چھوٹی اورحقیر ہیں۔یہ جوکہا گیا ہے کہ  اللہ اکبرکہو اس کا مطلب یہ  ہے کہ اللہ کے علاوہ  دوسری تمام اشیاء کو پیچھے  پھینک دو  فقط خدا ہے کہ جس نے ہمارے تمام کاموں، ہماری افکاراورنظریات پراحاطہ کیا ہوا ہے۔

ایک عالم دین کے بقول ہم نماز میں سب سے زیادہ کونسا  ذکرکرتےہیں؟اذان، اقامت اورنمازمیں سب سے  زیادہ ذکرکونسا ہے؟ اذان  کی ابتدا میں میں ہم چارمرتبہ کہتے ہیں "اللہ اکبر" اورآخرمیں بھی  دومرتبہ "اللہ اکبر" کہتےہیں۔نمازشروع کرنے سےپہلے کہتے ہیں اللہ اکبر،رکوع جانے سےپہلے کہتے ہیں اللہ اکبر،سجدے میں جاتے وقت کہتے ہیں اللہ اکبر،سجدے سے اٹھتے وقت کہتے ہیں اللہ اکبر،نمازکے اختتام پرتین باراللہ اکبر کہتے ہیں،ہرجگہ پراللہ اکبر ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟اس عالم دین  نے فرمایا:ا للہ اکبر،تمام افکارکوختم کر دیتا ہے یعنی تم اگرنمازمیں  کھانے پینے کی فکر میں ہوتواللہ اکبراس فکرکوختم کردیتاہے کیونکہ انسان بھی فکروسوچ کے بغیرنہیں ہے،یامیری  باتوں کے بارے سوچ رہے ہویا بازاراوردکان کے بارے سوچ رہے ہویا گھراوربیوی بچوں کے بارے سوچ رہے ہو،بنابریں انسان دائم الفکرہے اوراس کے ذہن میں ہمیشہ سوچ اورفکر موجز ن ہے تواللہ اکبر کا مطلب یہ کہ جس سوچ اورفکر میں بھی ہواسے  چھوڑو اوراللہ اکبرکواس کی جگہ پربٹھا دو  یعنی خدا ہمارے دلوں میں بڑا ہو جائے توہم  بڑے ہوجائیں گے وگرنہ خدا توہمیشہ سے بڑا ہے اوربڑا رہے گا۔

الحمدللہ کا مطلب

 یہ جوالحمد للہ کہتے ہیں اس کا بھی ہمیں فائدہ ہے ہماری نعمتوں میں  اضافہ ہوتا ہے: «لان شکرتم لازيدنکم» (سوره ابراهيم آيه7) ہماری نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے وگرنہ الحمدللہ کہنے سے  خدا کا خزانہ توزیادہ نہیں ہوتا،خدا میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا ہے بلکہ خدا کواس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

عام لوگوں سے اہل بیت علیہم السلام کی درخواستوں کا باطن

پس بنابرایں تمام الہی دستورات اورپیغمبراکرم  یا امام  علیہ السلام یاایک عظیم شخصیت  جوہمیں دستورات دیتےہیں وہ ہمیں خیرپہنچانا چاہتے ہیں،ظاہری طورپرتووہ ہم سے مہلت مانگ رہے ہیں کہ پانی دو،کوئی ہے جوہماری مدد کرے تواس کا مطلب ہے کہ امام اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں اگرامام "حر" سے کہتے ہیں کہ میری مدد کروتواس کا مطلب یہ ہے کہ  وہ حرکوجہنم کی آگ سے بچا کرجنت کے اعلی ٰ مقام پرپہنچانا چاہتےہیں،وگرنہ  امام حسین  علیہ السلام کو توحر کی ضرورت نہیں ہے اورکسی اوربھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ هل من ناصرٍ کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ کوئی میری مدد کرے لیکن اس کا باطنی مطلب یہ ہے کہ کوئی ہے کہ میں جس کی مدد کروں،میں اس کا ہاتھ تھام لوں، میں اس کی مدد کروں۔امام حسین علیہ السلام خدا کی رحمت اورلطف کے مظہرہیں،خدا کی مدد کرنے کے مظہرہیں،اب وہ تمام بندوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔جس طرح کہ کوئی بزرگ اگرکسی سے  راضی ہوتواسے کہتا ہے کہ جاومیرےلیے  پانی لے کرآو،چائے لے کرآو۔

ایک ولی اللہ کی خدمت کا شیریں واقعہ

اس واقعہ  کی مٹھاس ابھی تک میری  زبان پر محسوس ہوتی ہے جب کہ بیس سال  اس واقعہ کوگزرچکے ہیں۔میرے ایک استاد تھے کہ جن سے میں بہت محبت کرتا تھا۔ایک مرتبہ ہم مل کرایک محفل میں جانا چاہتے تھے،غروب آفتاب کا وقت تھا۔نمازکے بعد محفل تھی،جونہی ہم  دروازے پرپہنچے توان کے گھروالوں نے کہا:روٹی نہیں ہے جائیں  اورروٹی لے آئیں۔وہ ایک بوڑھے شخص تھے اورعظیم شخصیت کے مالک تھے،دوسری طرف نمازجماعت کودیرہورہی تھی اورایک طرف گھروالوں نے کہا کہ روٹی لے کرآئیں۔ اب کیا کریں؟انہوں نے مہربانی کرکے مجھے کہا کہ آپ جائیں روٹی لے آئیں تومیں نے کہا سرآنکھوں پر۔میں نے  اول وقت نمازکوترک کیا اورجاکرروٹی کی لائن میں لگ گیا،اگرچہ میں روٹی کی لائن میں کھڑے  ہونے سے سخت نفرت کرتا تھا لیکن اس بزرگوار کے حکم کی اطاعت اتنی  شیریں تھی کہ ابھی تک اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے  اورمیں اس حکم کوہزاروں مستحبی نمازوں سے بہترسمجھتا ہوں ۔اگرایک عظیم  شخصیت کہتی ہے کہ تم یہ کام کرو تویہ اس کا لطف ہے۔

مخلوق خدا کی خدمت کا اخروی ثواب

روایت میں ہے کہ  قیامت کے روز ایک مخلص مومن اوراللہ کا عزیزبندہ محشرکے میدان سے گزرے گا  توخطا ب ہوگا اے مومن محشر کے میدان میں ٹھہرجاو،جس کسی نے بھی  تیری کوئی خدمت کی ہے اس کا تمہاری گردن پرحق ہے لہذا تمہیں اس کی شفاعت کرنی چاہیے(بحارالانوار ج8 ص56) وہ  دوست کہ جواہل مطالعہ ہیں  سفینہ البحار کے لفظ"شفع" کے باب میں  رجوع کریں۔مثال کے طورپر کسی نے اس مومن کوقرض دیا ہوگا،اس مومن کی مشکل حل کی ہوگی،اس کے دل کوخوش کیا ہوگا،اسے کھانا کھلایا ہوگا یہاں تک کہ یہ مومن کھڑا ہوکرعرض کرے گا:خدایا،میرےگھرمیں ایک کنیز تھی کہ جو میرے گھرمیں کام کیا کرتی تھی،جاڑولگاتی تھی،میری  آسائش کے وسائل فراہم کرتی تھی۔خدایا،جب تک اس کنیزکونہیں بخشو گے میں یہاں سے نہیں جاوں گا۔یہ ہمارے لیے فخرکی بات ہے کہ ہم ایک حقیقی مومن کی خدمت کرنے کی توفیق پیدا کریں،کسی کی مشکل کوحل کریں۔عجیب قسم کی روایات ہیں ہم نے دعا  کے راستے کوگم کردیا ہوا ہے لہذا ہمیں سعی وکوشش کرنی چاہیے کہ اس عبادت کے ساتھ ساتھ کسی کی مشکل بھی حل کریں،ایک ولی خدا کی خدمت کریں اوراسے  خوش کریں۔

اہل بیت کی مجالس میں خدمت کرنے کی اہمیت

میں ،سامعین کوایک  نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس جہان میں  جوچیزبہت کام آتی ہے اوربہت زیادہ  فائدہ مندہے اورمیں نے شاید کئی باراسے عرض کیا ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ  کے بیٹے  جناب آقای  احمد نے اپنے والدگرامی کوخواب میں دیکھا  توآپ سے سوال کیا کہ اس جہان میں کونسی چیزبہت  زیادہ فائدہ مند ہے اورنفع دیتی ہے اوراس کا ثواب زیاد ہے۔امام خمینی  نے فرمایا: اس جہان میں دوچیزوں کا ثواب بہت زیاد ہے ان میں سےایک محمدوآل محمد کی ولایت اورمحبت ہے،اس پرکام کرنےکی ضرورت ہے،اس پرسرمایہ کاری کرو،اپنے آپ کواوراپنے گھروالوں کو اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ کردو،اہل بیت کی پناہ میں آجاو،اہل بیت علیہم السلام کے گھرکی نوکری اختیارکرو۔میں ہرسال ا پنے سامعین کونصیحت کرتا رہتا ہوں کہ ہم ہرسال مجالس امام حسین علیہ السلام میں شرکت کرتےہیں،وہاں پرنذرونیازکھاتےہیں،لیکن عزیزو،کوشش کریں کہ  ان مجالس میں خدمت بھی کریں،چائے پیش کریں،برتن دھوئیں، جاڑو لگائیں۔جوکام بھی کرسکتے ہوانجام دو۔ایک   سید بزرگوار نے کہا  کہ میں مسجدا ورامام بارگاہ کے ٹائلٹ کو صاف کرتاہوں اوراس پرفخرکرتا ہوں کہ امام حسین علیہ السلام کی نوکری کررہا ہوں۔

اہل بیت علیہم السلام کی مجالس میں نوکری کرنے کی اہمیت

میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ اصفہان میں ایک عالم تھے کہ جن کے گھرمیں صبح کے وقت  مجلس امام حسین علیہ السلام منعقد ہوا کرتی تھی،وہ چائے دیتے ،ناشتہ کاانتظام کرتے،خود وہ بیٹھ جاتے اورآنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے اوران کے بچے،شاگرد اورہمسائے مہمانوں کی خدمت کیا کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دن مہمان آنا شروع ہوگئے لیکن ان کی خدمت کرنے والا کوئی شخص بھی موجود نہیں تھا،یعنی چائے دینے والا اورناشتہ دینے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا اسی بنا پرا  س عالم دین نے اپنی عبا اتارکر مہمانوں کوچائے  پلانا شروع کردی۔رات کوخواب میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کودیکھتے ہیں کہ حضرت فرماتی ہیں کہ آج تم ہمارے  نوکربن گئے ہو یعنی اب تک فقط ایک جگہ پربیٹھ کرخوش آمدید کہتے تھے لیکن آج ہماری نوکری کی ہے۔

اہل بیت کی مجالس میں شریف ترین کام

خدا کی قسم  اہل بیت علیہم السلام کے گھرکی نوکری دنیا کے تمام پیشوں سے  اعلیٰ اوربرترہے،آپ بھی امام حسین علیہ السلام کے گھرمیں جاکرخدمت کیا کریں،جاڑو لگائیں، جانورذبح کریں،فقط مہمان  نہ بنا کریں  بلکہ مالی تعاون بھی کریں، اگرمالی تعاون نہیں کرسکتے تووہاں پررکھے برتن دھویں،مہمانوں کوچائے پیش کرو۔میں ایک دکاندارکوجانتا ہوں کہ جوگزشتہ تیس چالیس سالوں سے اپنی دکان کوبند کردیتا ہے اورکہتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کوامام حسین علیہ السلام کے لیے وقف کردیا ہے۔عزیزو،میں نے دیکھا ہے کہ اس کی دکان پرگاہکوں کی بھیڑہوتی ہے۔وہ دکاندارکہتا ہے کہ میں شام کوجاتا ہوں اوررات  نو ،دس بجے تک امام حسین علیہ السلام کے  عزاداروں کوچائے پلاتا ہوں اورمیں یہ کام کسی توقع اورکسی لالچ کے بغیر انجام دیتا ہوں،وہ دکاندارجانتا ہے کہ یہ کام فائدہ مند ہے۔

اہل بیت کی مجالس  کی خدمت میں علماءکی سیرت

آیت اللہ بہجت کے استاد مرحوم آیت اللہ کمپانی کے گھرمیں ہرجمعرات کو صبح کے وقت مجلس عزا منعقد ہوا کرتی تھی۔ ہمارے علماء کی ایک اچھی سنت یہ تھی کہ وہ ہرہفتے مجلس عزا منعقد کیا کرتے تھے۔ہمارے موجودہ مراجع بھی جمعرات اورجمعہ اورعشرہ محرم الحرام اوردیگرایام کی مناسبت سے اپنے گھروں میں مجلس عز ا منعقدکرتے ہیں۔آیت اللہ کمپانی  حقیقت میں علمائے نجف کے درمیان اعلمیت کے مقام پرفائزتھے۔لیکن جب ان کے گھرمیں مجلس ہوتی  تووہ خود چائے پلاتے،جوتوں کو ٹھیک کرکے رکھتے،مہمانوں کی خاطرتواضع کرتےیعنی وہ شخصیت کہ آیت اللہ میلانی جن کے شاگردتھے،وہ ان سے کہتے قبلہ صاحب،چھوڑدیں ہم یہ کام کرتےہیں،تووہ مرحوم کمپانی  فرماتے :نہیں یہ فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی مجلس ہے،امام حسین علیہ السلام کی مجلس ہے۔عزیزو،ممکن ہے کہ ایک وقت نمازشب قبول نہ ہو،دوسرے اعمال قبول نہ ہوں ،لیکن میں جانتا ہوں یہ عمل قابل قبول ہے۔

اہل بیت کی راہ میں قدم اٹھانےکی اہمیت

ایک شخص  نمازپڑھ کرسجدے گاہ اٹھا کرفورا بھاگ جاتا،اس کے کہا گیا کہ تم نمازکے بعد فورا بھاگتے کیوں ہو۔اس نے کہا بعض لوگ ایسے ہیں  کہ  نمازگولی کی طرح ان کے سروں پرلگتی ہے،میں اس لیے فرارکرتا ہوں تاکہ میرے سرپروہ نمازنہ لگے۔یہ کیسی نمازہے کہ جس میں  خضوع وخشوع اوراخلاص نہ ہو۔اس قسم کی تمام عبادتوں سے استغفارکرتےہیں۔لیکن جوچیز اہل بیت علیہم السلام سے مربوط ہے اوراس  پرامام حسین علیہ السلام کا نام مبارک موجود ہے  اس کے بارے میں  ایسا نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ ہماری روایات کہتی ہیں کہ اگرایک کافر،عیسائی، مجوسی اوریہودی یہاں تک ایک ریاکاربھی اہل بیت علیہم السلام کے لیے کوئی کام کرتا ہے توکوئی نہ کوئی چیزاسے عطا  کی جاتی ہے ،میں یہ نہیں کہتا کہ اسے کامل ثواب دیاجائے گا۔اس بارے میں  روایات موجود ہیں لیکن  اب بیان کرنے کی  فرصت نہیں ہے۔

اہل بیت علیہم السلام کی  غیرمسلم خادموں پرتوجہ

 ہمارے ایک دوست نےمجھے کہا کہ   کرمان میں  ایک مجوسی  ہے کہ جوامام حسین علیہ السلام کا عاشق ہے اورمحرم الحرام  کےپہلے عشرے میں مجالس عزا منعقد کرتا ہے اورنذرونیاز بھی دیتا ہے۔اللہ اکبر،امام حسین علیہ السلام نے کیا کیا ہے۔امام ہادی علیہ السلام کے دورمیں بھی ایک  عیسائی شخص آپ سے محبت کرتا تھا اورآخردم تک وہ مسلمان نہیں ہوا ہے۔وہ امام علیہ السلام کے  لیے نذرکرتا،امام کی خدمت میں تحائف لے کرآتا۔منتہی الآمال،سفینہ البحار اورخود بحارالانوارمیں  یہ حدیث موجود ہے۔ آپ امام ہادی علیہ السلام کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں۔اس وقت بعض خشک مقدس اورجاہل لوگ ،امام علیہ السلام پراعتراض کیا کرتے تھے۔ مولا یہ عیسائی ہے اسے کیا فائدہ ہوگا۔امام علیہ السلا م نے فرمایا: «ان اقواماً يزعمون انّ حبنا لا ينفع هذا و امثالُ کذب والله ان حبنا ينفع هذا و امثالُ» (بحارالانوار ج50ص144) بعض لوگ خیال کرتےہیں کہ ہماری محبت غیرمسلموں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی،خدا کی قسم یہ لوگ غلط سوچتےہیں،ہماری محبت غیرمسلموں کوبھی  فائدہ پہنچائے گی ۔اب یہ فائدہ یاتو عذاب میں کمی یا عاقبت بخیری کی صورت میں ظاہرہوگا،یا عمرکےطولانی یا رزق میں اضافے کی صورت میں ظاہرہوگا۔خدا  اسے کوئی نہ کوئی چیزضروردے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ  ثواب کہ جوایک مخلص مومن کودیا جاتا ہے اسے بھی دیا جائے گا۔

لوگوں کی مشکلات حل کرنے کی اہمیت

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے  اپنے بیٹے سے فرمایا:کہ پہلی چیزکہ جو اس جہان میں انسان کے لیے بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے وہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت اورولایت ہے لہذا ان کے فرامین پرعمل کرنا چاہیے۔امام نے فرمایا:دوسری چیز کہ اس جہاں میں انسان کے کام آتی ہے وہ خدا کے بندوں کی مشکلات کا حل کرنا ہے۔جہاں تک ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو خوش رکھو، ان کی مشکلات حل کرو۔کوئی مالی مشکلات کا شکارہے،کسی کوبیٹی  کے جہیز کی فکرہے،کوئی بیروزگارہے،کوئی سکول وکالج میں مشکل رکھتا ہے،کسی کوگھرکے کرائے کی مشکل ہے۔یادرکھیں ،خدا نے مال ودولت دے  کردولتمندوں کا امتحان لیا ہے۔کم ازکم اپنے رشتہ داروں کی مشکلات توحل کی جاسکتی ہیں۔

خدا کے بندوں کےساتھ نیکی کرنے کا ثواب

خداکے مخلص بندوں کے ساتھ نیکی کرنے کا اتنا زیادہ ثواب ہے کہ وہ مستحبی نمازوں، مستحبی حج وعمرہ اورروزہ کےثواب سے زیادہ ہے۔آپ ذرا مومن کی حاجت پورا کرنے کے بارے روایت کا ملاحظہ فرمائیں۔روایت میں ہے کہ اگر کوئی مشکل کوحل کرکے مومن کوخوش کرے توخدا کی قسم اس نے بارہ اماموں کوخوش کیا ہے اورخدا کواپنے آپ سے راضی کیا ہے۔(الکافي ج2 ص188)۔اس کے مقابلے میں اگرکوئی کسی مومن کواذیت کرے تواس نےبارہ اماموں کو اذیت پہنچائی ہے،پیغمبرکواذیت پہنچائی ہے اورخدا کوناراض کیا ہے۔(مستدرک الوسائل ج9 ص99)

مرحوم مجلسی نے بحارالانوارمیں ایک عجیب روایت نقل کیا  ہے۔ عزیزو بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ فقط ذکر،دعا، عبادت  ہی کرنی چاہیے۔نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اپنے مال  وجان سے جہاد بھی کرو،کیونکہ  ظاہری دعا، عبادت پراتنا خرچ نہیں ہوتا ہے اوریہ آسان کام ہے لیکن ا س کے ساتھ ساتھ اگرخمس بھی دو،زکواۃبھی  دو،صلہ رحم بھی کرو،مومن کے دل کوخوش بھی کرو۔اللہ کی راہ میں کس قدر خرچ کرتےہو،اپنے بدن کوکتنی زحمت دیتے ہو۔روایت یہ ہے: «من قضا حاجه اخيه المؤمن فکانما عبد الله تسعه الاف سنه صائما نهاره قائماً ليله» (مستدرک الوسائل ج7 ص564)۔اللہ اکبر،ان سینکڑوں  روایات میں سے یہ ایک روایت ہے کہ جو خدا کے بندوں کی مشکلات کوحل  کرنے کے بارے بتاتی ہے۔خدا کی قسم اگرہم ان دینی دستورات پرعمل کرتے توآج کوئی فقیر نہ ہوتا،کوئی انسان مشکل میں گرفتارنہ ہوتا۔ہم دیکھتےہیں کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جودنیا کےمال ودولت میں غرق ہیں لیکن ان کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جوکسمپرسی کی حالت گزاررہے ہیں۔یہ دولتمندان افراد کی مدد کیوں نہیں کرتے۔ہم کیوں ایسےہوگئے ہوئےہیں۔روایت کہتی ہے کہ اگرکوئی ایک مومن بھائی کی حاجت پوری کرے تو وہ ایسا ہےکہ جیسے اس نے نولاکھ سال راتوں کوعبادت اوردن کوروزوں میں گزار ے ہوں، نولاکھ سال یعنی کیا؟یعنی کئی حضرت آدم اورحوا آئیں اورچلے جائیں ،حضرت آدم اورحوا سے لے کرآج تک تقریبا  دس ہزارسال کا عرصہ گزرا ہے۔نولاکھ سال یعنی حضرت آدم اورحوا کی کئی نسلیں آئیں اورگزرجائیں۔ہم حقیقت میں ٖ اس  عظیم عمل سے غافل ہیں۔ مثال کے طورپراگرکسی گمراہ انسان کی ہدایت کردیں،بے نمازکونمازی بنادیں۔بے پردہ خواتین کوباپردہ  بنادیں۔کسی نشئی سے نشہ چھڑوادیں۔فرمایا:میرے بیٹے دوسری چیز کہ جواس جہان میں  بہت زیادہ ثواب رکھتی ہے وہ لوگوں کی مشکلات کا حل کرنا  اورخدا کے بندوں کے  ساتھ نیکی کرنا ہے۔

زندگی کے آخری لمحات میں امام حسین علیہ السلام کا شمرملعون سے مطالبہ

اولیائے الہی اگر کسی کوکوئی چیزکہتے ہیں یا مدد مانگتےہیں  تووہ اس کا  ہاتھ تھامنا چاہتےہیں،اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔امام حسین علیہ السلام اگرفرماتےہیں کہ کوئی ہے جومیری  مدد کرے یعنی کوئی ہے کہ میں جس کی مدد کروں۔اگرفرماتےہیں کہ  کوئی  ہے کہ جومجھے پانی پلائے یعنی کوئی ہے کہ جسے میں پانی پلاوں،اس پررحم کروں،اس کی شفاعت کروں۔امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے استاد مرحوم آیت اللہ شاہ آبادی نے فرمایا:امام علیہ السلام کا پانی کا مطالبہ  ایک درست اقدام تھا اگرچہ وہ شمرملعون سے ہی کیوں نہ ہو،لیکن اس کی جہت کودیکھنا چاہیے کہ  وہ کیا ہے؟حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے اس آخری لمحے شمرملعون سے فرمایا کہ مجھے پانی  پلاو میں اپنے نانا رسول خدا کے سامنے تمہاری شفاعت کروں گا۔وہ  امام کہ جس نے اتنے سارے مصائب اورآزاراذیتوں کو برداشت کیا ہے اس آخری مصیبت کوبھی تحمل کرسکتے تھے پس  کیوں شمرسے  مطالبہ کررہے ۔اس کی وجہ  یہ ہے کہ اس کی مدد کریں اوراس کی شفاعت کریں۔اگرشمرملعون،ان آخری لمحات میں امام کوپانی دے دیتا تو وہ امام حسین علیہ السلام کوقتل نہ کرسکتا اوررحمت خدا اس کے شامل حال ہوجاتی: «ارحم ترحم» (مستدرک الوسائل ج9 ص55)۔اگررحم کروگے توتم پررحم کیا جائے گا۔اگرآپ  علیہ السلام حضرت علی اصغر علیہ السلام کولے کرآئے تا کہ لوگ اس پررحم کریں توآپ کا مقصد یہ تھا کہ خدا کی رحمت ان کےشامل حال ہوجائے۔آپ نے  شفاعت کا دسترخوان بچھایا ہواہے اورچاہتے ہیں کہ شمر کی بھی شفاعت ہوجائے:

ترسم که شفاعت کند از قاتل خود                      از بس که کرم دارد و آقا است حسين

میرا دسترخوان بچھا  ہوا ہے،میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے تم پانی پلادو میں  اپنے نانا کے نزدیک تمہاری شفاعت کروں گا۔لیکن اس ملعون نے کہا :میں یزید کے ایک درہم کو تمہارے نانا کی شفاعت کے ساتھ تبدیل نہیں کرتا ۔ خدا اس پرلعنت کرے،خدا  اس کے عذاب میں اضافہ کرے۔ہم زیارت عاشورا میں پڑھتے ہیں: «و لعنۀ الله شمراً و لعنۀ الله ال زياد و آل مروان».

امام حسین علیہ السلام کی عظمت اورآپ کا  لطف وکرم

یہ لوگ صلاحیت نہیں رکھتے تھے وگرنہ ان کا دسترخوان بچھا ہوا تھا۔جوہستی اتنی مہربان کہ جس کا دسترخوان ،شمراوراس جیسوں  کےلیے بچھا ہوا تھا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے:

      دوستان را کجا کني محروم                             تو که با دشمنان نظر داري

امام حسین علیہ السلام  کی طرح اورکون اتنا مہربان اورخیرخواہ ہوسکتا ے۔یعنی وہ  حقیقت میں  تمام لوگوں کی دستگیری کرنا چاہتے ہیں۔خدا کی قسم اگرامام حسین علیہ السلام نہ ہوتے  نہ دین ہوتا ،نہ ہی اسلام اورنہ ہی پیغمبرہوتے۔اسی لیے پیغمبرنے فرمایا: "انا من حسين و حسين مني» (بحارالانوار ج37 ص74)۔ یہ بات توسب کومعلوم  ہے کہ حسین علیہ السلام ،پیغمبرکے بیٹے ہیں،آپ کا گوشت اورجسم پیغمبر کی وجہ سے ہے۔یہ بہت  واضح مطلب ہے لیکن عالم اسلام کی عظیم شخصیت فرماتی ہے:"انا من  حسین"۔ایک عالم دین نے کہا ہے کہ اس کا معنی نہیں کیا جاسکتا۔اس کا معنی نہ کریں توبہترہے"انامن حسین"۔ پیغمبرفرماتےہیں:میں  حسین سے ہوں اورحسین مجھ سےہے۔یعنی اگرحسین نہ ہوتے توپیغمبربھی نہ ہوتے،لاالہ الا اللہ بھی نہ ہوتا،مکتب  نہ ہوتا ،دعا نہ ہوتی، قرآن  نہ ہوتا،۔امام  خمینی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:محرم اورصفرنے اسلام کوحفظ کیا ہوا ہے۔یہ اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کا خون تھا کہ جس نے اسلام کے درخت کی آبیاری کی، توحید کے درخت کی آبیاری کی اوراس وقت بھی اس لہر نے پوری دنیا کواپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے۔آپ ذرا پوری  دنیا میں دیکھیں کہ کس طرح امام حسین علیہ السلام اورمحرم نے لوگوں کوایک جگہ پرجمع کررکھا ہے۔

آیت اللہ حائری پرامام حسین علیہ السلام کی نظرلطف

حوزہ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری کے شاگرد مرحوم آیت اللہ سید اسماعیل ہاشمی نے میرے سامنے نقل کیا ہے کہ  نمازشروع کرنے سے پہلے آپ تین مرتبہ امام حسین علیہ السلام پرسلام کیا کرتے تھے۔آپ امام حسین علیہ السلام کے حقیقی عاشق تھے؛آپ کومرنے سے دوتین دن پہلے اپنی وفات کو علم ہوگیا تھا۔ وہ  مفصل داستان لکھتے ہیں اورآخرکارزندہ  رہنے کی امید ختم ہوجاتی ہے اورانہیں قبلہ رخ  کردیا جاتاہے۔ آپ فرماتے ہیں  کہ ملک الموت ان کی روح کوقبض کرنا چاہتا تھا  تومیں  نے اس آخری لمحے اپنے سرکوکربلا کی جانب کرکے عرض  کیا:یااباعبداللہ  ،میں موت سے خوفزدہ نہیں ہوں لیکن میں آپ کے دین اورمکتب میں ایک اہم کام کرکے جانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے  یہ التماس کی تودیکھا کہ ایک فرشتہ  نے ملک الموت سے کہا ہے مولا اباعبداللہ الحسین علیہ السلام  نے فرمایا  ہے کہ عبدالکریم نے ہم سے توسل کیا ہے لہذا  اسے مہلت دے دو۔اس کے بعد ملک الموت چلا گیا اورمیں  ہوش میں آیا تودیکھا کہ مجھ پرکپڑا ڈال دیا گیا ہے اورگریہ کررہے ہیں ،کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ میں  مرگیا ہوا ہوں۔اب میں  اٹھنا چارہا تھا کہ دیکھا کہ  حرکت نہیں کرسکتا۔انہوں نےکہا کہ میں  نے بہت سختی سے اپنے بدن کوحرکت دی، تومیرے اطراف میں کھڑے ہوئے لوگوں نے کہا کہ یہ مرے نہیں  ہیں،ان کا بدن حرکت کررہا ہے۔ کپڑے کوہٹادیا گیا اورمیں دوبارہ زندہ ہوگیا۔آپ کے بیٹے نے اس داستان کومفصل بیان کیا ہے اوروہ لکھتے ہیں کہ اس کے بعد آپ نے امام حسین علیہ السلام کے اس معجزے کی برکت سے حوزہ علمیہ قم کی  تاسیس کی۔آپ امام حسین علیہ السلام کے بہت زیادہ عاشق تھے۔عاشور کےدن  علماء اورطلباء کواکٹھا کرکے مدرسہ رضویہ سے ماتمی دستہ لے کرحرم مطہرامام حسین علیہ السلام کی طرف جاتے تھے، نوحہ  پڑھتے  تھے،  ماتم  کرتے تھے۔آپ ہردرس سےپہلے امام حسین علیہ السلام کا ذکرمصیبت کیا کرتے تھے اوراس کے بعد درس شروع کیا کرتے تھے۔یہی وہ درس تھا کہ جس کے نتیجے میں آیت اللہ گلپائیگانی  بنے،امام خمینی  بنے، آیت اللہ بہاء الدینی بنے، آیت اللہ مرعشی نجفی بنےاورآیت اللہ خوانساری بنے،یعنی مراجع کرام آپ کے اس درس میں شرکت کرتے تھےجس میں  امام حسین علیہ السلام کا ذکرمصیبت کیا جاتا تھا۔آپ کی وفات کے بعد کئی افراد نے آپ کو خواب  میں دیکھا ہے۔

حاج شیخ مرتضی کے بیٹے مرحوم آیت اللہ حائری کی ایک کتاب ہے سردلبران کہ آیت اللہ استادی نے اسے  جمع کیاہے۔انہوں نے وہاں پرلکھا ہے کہ آپ  امام حسین علیہ السلام کے عاشق تھے،آپ بڑھاپے میں  مسکرا کرکہتے کہ  جوانوں کے لیے آرزو کرنا عیب نہیں ہے۔میر ا اتنا جی چاہتا ہے کہ کربلا جاوں،جب آپ فوت ہوئے توکربلا اورقم میں بہت سے لوگوں  نے خواب میں دیکھا کہ  حاج شیخ عبدالکریم  حائری کربلا گئے ہوئے ہیں اور فرشتے،شہرکربلا کے دروازے پرآپ کی روح کے استقبال  کے لیے آئے ہوئے ہیں۔آپ نمازکےشروع کرنے سے پہلے تین مرتبہ امام حسین علیہ السلام پرسلام کیا کرتے تھے۔ان سے کہا گیا  کہ کیا کوئی روایت ہے توفرماتے کہ نہیں کوئی روایت نہیں ہے۔لیکن  میں اس  نماز،ذکر اوریاد خدا کو امام حسین علیہ السلام کے مرہون منت جانتا ہوں یہ مکتب امام حسین علیہ السلام کے خون کی برکت سے زندہ ہے۔

شب عاشور کو امام حسین علیہ السلام کے اس جملے"انی احب الصلوۃ" کا  مطلب

کائنات کی  عظیم ہستی  فرماتی ہےکہ میں حسین سے ہوں پس اگر پانی یا مہلت کا  مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ،ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔آپ اس  قافلے سے پیچھے رہ جانے والے افراد کی مدد کرنا چاہتے تھے۔حضرت  نے دشمن  سے مہلت لی کس چیز کے لیے،فرمایا: میں نمازسے محبت کرتا ہوں،میں قرآن سے محبت کرتا ہوں،دعا سے محبت کرتا ہوں،استغفارسے محبت کرتاہوں۔ میں خدا کی خاطرلوگوں کو فیض پہنچانا چاہتا ہوں اوراس طرح دوسروں کو مہلت دی لہذا  اس  نیت سے مہلت مانگنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

حضرت زہراسلام اللہ علیہا کا ذکرمصیبت

عزادارو،ذراآئیں  صدیقہ کبری  فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے دروازے پرجائیں کیونکہ ان مجالس کی حقیقی عزادار حضر ت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔امام حسین علیہ السلام پررونے والی ہستی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ  علیہا ہیں۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے خون  سے رنگین  قمیض کوخدا کی بارگاہ میں  پیش کرکے  شکوہ کریں گیں : خدایا تومیرے اورمیرے بیٹوں پرظلم کرنے والوں کے درمیان فیصلہ فرما ، اس کے بعد دعا کریں  گی: «اللهم اشفعني في من بکی علي الحسين عليه السلام»۔

آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے دل کوخوش کررہے ہیں۔فرمایا کہ جوشخص امام حسین علیہ السلام پرگریہ کرتاہے وہ فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کے دل کوخوش کرتا ہے وہ پیغمبراکرم اوراہل بیت علیہم السلام کے دل کوخوش کرتا ہے۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  خون سے رنگین ایک قمیض لے  کرخدا کی بارگاہ میں عرض کریں گی۔خدایا  جس نے میرے حسین پرگریہ کیا ہے میں اس کی شفاعت کرنا چاہتی ہوں،پھرخدا کے حکم سے شفاعت کریں گی۔(بحارالانوار ج45ص132)۔ لیکن خود اباعبداللہ الحسین علیہ السلام  کی اپنی ماں کے جنازے  کےپیچھے پیچھے کیا حالت تھی، چارسالہ زینب کبری ٰ سلام اللہ علیہا کی کیا حالت تھی۔امیرالمومنین علیہ السلام نے جب فاطمہ کے جسم اطہرکوقبرمیں رکھا توفرمایا:

   تو نقش زمين گرديدي و من ترسيدم                   تو ناله زدي و من به خود پيچيدم

    بند کفنت را به لحد بگشودم                              رويت که نشان من ندادي ديدم

امیرالمومنین علیہ السلام نے زہراسلام اللہ علیہا کے پریشان چہرے کو قبرمیں رکھا اورمٹی کوڈالا لیکن  مقاتل نے لکھا ہے کہ جب  امام علی علیہ السلام فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دفن سے فارغ ہوئے تو غموں کا ایک پہاڑآپ پرٹوٹ پڑا،اب کیا  کرے کہ مولا کےدل کوسکون ملے،ایک مرتبہ دیکھا کہ مولا قبرزہراپرجھکے اور اپنے چہرے کو قبرپررکھ دیا ۔عزادارو ،یہاں پرامیرالمومنین علیہ السلام نے زہرا کی قبرپراپنے چہرے کورکھا،آپ  کے بیٹے اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنے چہرے کو علی اکبرکے چہرےپررکھا اورفرمایا: «علي الدنيا بعدک العفا» (بحارالانوار ج 45 ص44)۔

لا حول و لا قوه الا بالله العلي العظيم


٠٩:٤٤ - سه شنبه ١٧ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٧١١    /    تعداد نمایش : ٨٨٩


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.