فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14089
 بازدید امروز : 48
 کل بازدید : 29996
 بازدیدکنندگان آنلاين : 4
 زمان بازدید : 1/9844
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

غیبت کبری ٰ امام زمانہ علیہ السلام

موضوع : غیبت کبری ٰ امام زمانہ علیہ السلام

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی  غیبت صغریٰ کے اسباب

قم کے ایک  بزرگ عالم دین اورگیارہویں امام کے   نمائندے احمدبن اسحاق قمی کہ جنہوں نے  گیارہویں امام کے حکم سے قم میں  امام حسن عسکری علیہ السلام مسجد کوتعمیر کیا۔آپ نے سامراء کی طرف متعدد سفرکیے۔وہ اپنے آخری سفر کے دوران، ایران کے شہرقصرشیریں اوراسلام آباد کے درمیانی علاقے میں اس دنیا سے چلے گئے۔انہوں نے  اپنے ایک سفرکے دوران امام حسن عسکری علیہ السلام سے سوال کیا کہ یابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بعد امام اورخلیفہ کون ہیں؟البتہ  آپ جانتے  ہیں کہ امام عسکری علیہ  السلا م ہمیشہ اپنے بیٹے کومخفی رکھا کرتے تھے۔ کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی بہت سی روایات  پہنچی ہوئی تھیں جن میں  آپ نے فرمایا  ہوا تھا کہ میرا بارہواں  جانشین،ظالموں اورطاغوتوں کا تختہ الٹ دے گا۔دشمنوں نے بھی ان روایات کوسنا ہواتھا لہذ ا وہ اس بات کےدرپے تھے کہ اگرامام عسکری علیہ السلام کا بیٹا پیدا ہو تواسے شہید کردیں گے۔اسی بنا پرامام علیہ السلام کسی کواپنا بیٹا نہیں دکھاتے تھے اورلوگوں سے مخفی رکھتے  تھے۔لیکن بعض اوقات اپنے خاص اصحاب کودکھاتے تھے۔انہیں اصحاب میں سے ایک صحابی کہ جسے بارہویں امام علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی ہے وہ یہی احمد بن اسحاق تھے، کہ امام  عسکری علیہ السلام نے  فرمایا: اگرتمہاری شخصیت ہمارے سامنے  آشکاراورواضح نہ ہوتی توہم تمہیں اپنا بیٹا نہ دکھاتے۔

غیبت کبریٰ میں  شیعوں کی نجات کی دو شرطیں

گیارہویں امام نے اپنے  بیٹے کے بارے احمد بن اسحاق کوایک  جملہ  ارشاد فرمایا: وَاللَّهِ لَيَغِيبَنَّ غَيْبَةً لَا يَنْجُو فِيهَا مِنَ التَّهْلُكَةِ إِلَّا مَنْ يُثْبِتُهُ اللَّهُ عَلَى الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ وَفَّقَهُ لِلدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ فَرَجِهِ (مجلسی/ بحارالأنوار/ ج52/ ص:1)۔ خدا کی قسم میرے بیٹے  مہدی علیہ السلام   پردہ غیبت میں چلے جائیں گے اوران کی غیبت کے دورمیں کوئی بھی  ہلاکت اورگمراہی سے نجات نہیں پائے  گا مگروہ شخص جس میں دوشرطیں پائی  جائیں گی۔پہلی یہ کہ خدا اسے امام زمانہ  پراعتقاد میں ثابت قدم رکھے اوردوسری یہ کہ خدا اسے امام زمانہ  علیہ السلام کے ظہورکی دعا کی  سعادت نصیب فرمائے۔اگراس کا اعتقاد ثابت رہے اورحضرت کے ظہورکے لیے دعا کرنے کی سعادت نصیب ہو تو ایسا شخص ہلاکت اورگمراہی سےنجات پاجائے گا۔وگرنہ وہ  ہلاک ہوجائے گا۔

ظہورکے  وقت کومشخص کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں

 روایات کے مطابق امام زمانہ علیہ السلام کی  غیبت کی مدت مشخص نہیں  ہے اورمعلوم نہیں ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کتنی مدت تک پردہ غیبت میں رہیں گے۔ فقط خدا اس وقت کوجانتا ہے ہم نہیں جانتے اورکوئی بھی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہورکے وقت کومشخص نہیں کرسکتا ہے۔ ظہورکے لیے دعا کرنا، التماس کرنا اورمنتظررہنا ،بہت ہی اچھا اورپسندید ہ کام ہے ۔لیکن وہ افراد کہ جوظہورکا وقت مشخص کرتے ہیں اورکہتےہیں کہ مثلا دوسال، پانچ سال یا چند مہینے تک امام ظہورکریں گے،یہ بہت سی  روایات کے  خلاف ہے۔جولوگ حضرت کے ظہورکا وقت معین کرتے  ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔روایا ت کی تعبیرکچھ اس طرح ہے: كَذَبَ الْوَقَّاتُونَ كَذَبَ الْوَقَّاتُونَ كَذَبَ الْوَقَّاتُونَ (مجلسی/ بحارالأنوار/ ج52/ ص:101)۔جولوگ ظہورکے وقت کی تعیین کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ان کی تکذیب کریں۔کیونکہ کوئی بھی حضرت کے ظہورکے وقت کی تعیین نہیں کرسکتا ہے۔یہاں تک کہ ہماری روایات میں ہے کہ بالفرض اگرکوئی ظہورکے وقت سے آگاہ بھی ہوجائے تو خداوند  اس وقت کوتبدیل کردیتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کوئی ظہورکے وقت کومشخص نہیں کرسکتا اگرکوئی کسی  طریقے سے سمجھ بھی لے أَبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ وَقْتَ الْمُوَقِّتِينَ (الشیخ کلینی/الكافي/ ج1/ ص:368). تو خدا ظہورکے وقت کوتبدیل کردیتا ہے۔ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم  وقت کی تعیین کریں اوراگرتعیین کریں گی تو خدا وند متعال اس وقت کوتبدیل کردیتا ہے تاکہ کوئی نہ سمجھ سکے۔یہ جووقت کی تعیین کرتے ہیں وہ بہت غلط کام کرتےہیں اورہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی بات کومستردکریں۔ لیکن امید رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ انشاءاللہ  بہت جلد امام ظہورکریں،ہمیں امید ہے کہ ہمارے زمانے میں ہی ظہورہو۔سابقہ  دورمیں بعض شخصیات نے وقت تعیین کیا تھا مثلا ایک عالم نے اپنے سے کہا کہ تم  امام زمانہ کومیرا سلام پہنچا دینا۔ ایک معتبرشخصیت تھی لیکن ایسا نہ  ہوا۔ شاید اس دورکوگزرے ہوئے چندسال ہوگئے ہیں لیکن ظہورکی کوئی خبرنہیں ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام کا اپنے شیعوں کے اعمال پراحاطہ اوران کے بارے علم

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ امام زمانہ سے ہمارا ارتباط اورہمارا ان سے ارتباط مکمل طورپرمنقطع ہے۔غیبت ایک نسبی  موضوع ہے ،یعنی امام زمانہ کودیکھیں اورپہچان لیں یہ دروازہ بند ہے،لیکن اتفاقا ایک عالم   ،امام زمانہ  علیہ السلام کودیکھ لیتا ہے۔ہم امام زمانہ کونہیں دیکھ سکتے لیکن امام زمانہ اپنے علم امامت سے ہرجگہ پر ہم پراحاطہ کیے ہوئے  ہیں۔امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید کے نام جوخط لکھا ہے اس میں فرماتے ہیں: فَإِنَّا يُحِيطُ عِلْمُنَا بِأَنْبَائِكُمْ وَ لَايَعْزُبُ عَنَّا شَيْءٌ مِنْ أَخْبَارِكُمْ (مجلسی/ بحارالأنوار/ ج53/ ص:150)۔ ہم تمہارے تمام کاموں سے باخبرہیں اورتمہاری کوئی چیزہم سے   مخفی نہیں ہے۔ کیونکہ وہ امام زمانہ کہ جوایک کونے میں بیٹھ جائے اوراپنی امت کے  حالات سے بے خبرہو کہ ان پرکیا گزررہی ہے،ہم ایسے امام زمانہ کوقبول نہیں کرتے۔ہم اس امام زمانہ کوقبول کرتے ہیں کہ جوہمارے اعمال پراحاطہ کیے ہوئے ہیں اوروہ   تمام جہانوں اورزمین کے بارے خبررکھتے ہیں۔ہم عرفاء اورعلمائے ربانی کے بارے عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ افراد کے ضمیرسے باخبرہوتے ہیں۔افرادکے گھرکی خبریں دیتے تھے۔چہ جائیکہ قطب عالم امکاں ،امام زمانہ علیہ السلام تمام چیزوں اورپوری کائنات کے بارے علم وآگاہی رکھتے ہوں۔

کیا امام زمانہ علیہ السلام کودیکھا جاسکتا ہے یاان کی خدمت میں حاضرہوا جاسکتا ہے؟

مرحوم آیت اللہ انصاری ہمدانی سے سوال کیا گیا کہ کیا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کودیکھا جاسکتا ہے یا ان کی  خدمت میں حاضرہوا جاسکتا ہے؟توآپ نے فرمایاتھا: اندھی ہوجائے دل کی وہ آنکھ کہ جوہرجگہ پرامام  زمانہ کوحاضرنہ دیکھے۔ ہمارا عقید ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک کی شعاع ہرجگہ پرحاضرہے۔ وَ بِأَسْمَائِكَ الَّتِي مَلَأَتْ [غَلَبَتْ ] أَرْكَانَ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ بِعِلْمِكَ الَّذِي أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ (الشیخ عباس قمی/ مفاتيح الجنان/ ج1/ ص:62)۔ہم دعائے کمیل میں پڑھتےہیں کہ خدایا: تجھے تیرے اسماء کی قسم کہ جنہوں نے تمام موجودات پراحاطہ کررکھا ہے۔یعنی یہ  کائنات میں اسمائے الہی ہیں اورموجودات کا رکن انسان کامل اورامام معصوم سے متصل ہے۔ اشیاء کی قیومیت،انسان کامل سے وابستہ ہے، جیسا کہ روایت  میں ہے کہ اگر زمین پرحجت اورخلیفہ خدا نہ ہوتوزمین اپنے اہل کےساتھ غرق ہوجائے گی۔ موجودات کی حیات ،امام زمانہ علیہ السلام کےوسیلے سے  ہے۔اگرامام زمانہ نہ  ہوں تو تمام موجودات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جس کےوجود کی برکت سے ہمارا وجود اورزمین وآسمان کا وجود قائم ہے کیا  ایسا امام غایب ہےیاکہ ہم غایب ہیں؟درحقیقت ہم غایب ہیں،ہم نہیں دیکھتے۔ہمارے گناہوں اورجہالت نے ہماری آنکھوں کے سامنے پردہ  ڈال دیا ہوا ہے۔وگرنہ امام زمانہ علیہ السلام توہرجگہ پراحاطہ کیے ہوئے  ہیں۔آپ زمین پرموجود ہیں۔کئی روایا ت میں ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام حج کے اعمال میں شرکت کرتے ہیں،خانہ کعبہ کے گردطواف کرتے ہیں،عرفات اورمدینہ میں  حاضرہوتے ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کےمقام اورآنحضرت کے ساتھ ارتباط قائم کرنے کے بارے ایک حدیث

کوئی بھی امام زمانہ علیہ السلام کی زندگی  کے مقام کومشخص نہیں کرسکتا۔لیکن ایک احتما ل یہ ہے کہ حضرت مدینہ میں کچھ مدت کے لیے قیام پذیرہوں۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: نِعْمَ الْمَنْزِلُ طَيْبَةُ وَ مَا بِثَلَاثِينَ مِنْ وَحْشَةٍ (الشیخ کلینی/ الكافي/ ج1/ ص: 335).مدینہ شہرایک مناسب مقام ہے۔چھ معصوم ،مدینہ میں دفن ہیں۔خاتم الانبیاءپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ،امام حسن مجتبیٰ،امام سجاد ،امام باقراورامام صادق علیہم السلام کی قبریں بھی مدینہ میں  موجود ہیں۔ہمارے اکثرائمہ  علیہم السلام  مدینہ میں  ہی  پیدا ہوئے تھے۔لہذا جس جگہ پرامام زمانہ علیہ السلام کی سکونت کا احتمال دیا جاسکتا ہے وہ شہرمدینہ  ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: جب تک تیس مخصوص افراد امام زمانہ سے رابطہ رکھتے ہوں،مشکل پید ا نہیں ہوتی  ہے روایات میں ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے کچھ ساتھی،غلام اورکارندے،غیبت کے دورمیں  آپ  سے  ارتباط رکھتے تھے اورآنحضرت کےکام انجام دیا کرتے تھے۔یقینا ایسا نہیں ہے کہ امام زمانہ ،غیبت کے دورمیں کسی  جزیرے  یا بیاباں میں زندگی بسرکریں اورکسی انسان سے کوئی ارتباط  نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ بعض مخصوص افراد ہیں کہ جنہیں ہم نہیں پہچانتے اورانہیں بھی ظاہرکرنے کا حق نہیں ہے اورامام زمانہ علیہ السلام کی مدد کرتےہیں۔لہذ احضرت نے فرمایا:اگرتیس افراد ارتباط رکھتے ہوں تو یہ چیزامام زمانہ کی غیبت کے ساتھ منافات نہیں رکھتی۔یہاں تک  کہ روایات میں  ہےکہ امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کے ساتھ ارتباط میں  ہیں۔یعنی مجالس اوربازاروں میں آمدورفت رکھتے ہیں۔جوشخص اخلاص کے ساتھ اپنے گھرمیں امام حسین علیہ السلام،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا،اہل بیت علیہم السلام یا گیارہویں امام  کے لیے مجلس برپا کرتا ہے شایدامام زمانہ علیہ السلام اپنی نظرکے مطابق ایک نامعلوم شخص کے عنوان سے اس مجلس میں  شرکت کریں۔کیونکہ روایت کہتی ہےکہ بعض اوقات امام زمانہ تمہارے  قالینوں پرقدم رکھتے ہیں۔امام زمانہ علیہ السلام تمہارے بازارمیں آمدورفت کرتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ  امام زمانہ کسی ایک جگہ پرزندگی گزاریں لیکن اپنے ساتھیوں سے ارتباط نہ رکھتے ہوں۔

حسن بن مثلہ جمکرانی فرماتے ہیں: مَنْ صَلَّاهَا فَكَأَنَّمَا صَلَّاهَا فِي الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (محدث نوری/ مستدرك الوسائل/ ج3/ ص:435).جوشخص اس مسجد مقد س میں نمازپڑھتا ہے  وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے خانہ کعبہ میں نمازپڑھی ہے۔یہ مقدس مکان ایک انتہائی اہم مکان ہے۔امام زمانہ علیہ السلام اس مکان میں آمدورفت رکھتےہیں۔لیکن ممکن ہے کہ ہم دیکھیں لیکن پہچان نہ سکیں۔بہت کم لوگ ہیں جوپہچان سکتے ہیں۔غیبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امام کا لوگوں سےارتباط بھی  ختم ہوجائے۔روایت میں ہے کہ جب امام ظہورکریں گے توبعض لوگ کہیں گے کہ ہم نے انہیں کئی مرتبہ دیکھا ہوا تھا۔یعنی اس سے پہلے انہیں دیکھا ہوا تھا لیکن انسان کے ذہن اوردل میں یہ  خیال نہیں آتا ہےکہ یہ امام زمانہ ہوں۔

غیبت کبری ٰ میں امام زمانہ علیہ السلام کی امامت پراعتقاد

گیارہویں امام فرماتے ہیں:اللہ کی قسم،میرا بیٹا پردہ غیبت میں چلا جائے گا اورغیبت کے اس دورمیں فقط وہ شخص ہلاکت اورگمراہی سے نجات  حاصل کرپائے گا جس میں دوشرطیں پائی جائیں گی:پہلی یہ کہ يُثْبِتُهُ اللَّهُ عَلَى الْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ (مجلسی/ بحارالأنوار/ ج52/ ص:1). خداوند متعال اسے امام زمانہ علیہ السلام کی امامت پراعتقادکوثابت قدم رکھے۔کیونکہ  غیبت کے طولانی ہونے اورآنحضرت علیہ السلام کونہ دیکھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ گمراہ ہوجائیں گے اورامام زمانہ علیہ السلام کی امامت پراعتقاد کے مسئلے میں  سست ہوجائیں گے۔ثقافتی یلغار بہت زیاد ہ ہے۔ جوانوں کے مابین شکوک وشبہات پیدا کرنا بہت زیادہ ہوگیا ہوا ہے۔ایسےلوگ کہتے ہیں کہ پس امام زمانہ علیہ السلام کیوں  نہیں آتے؟کیوں ہماری مدد کونہیں آتے؟ کیوں ہماری حاجت روائی نہیں کرتے؟ ہماری مشکل کیوں  نہیں حل کرتے؟عزیزو،کہیں یہ چیزیں امام زمانہ علیہ السلام سے دل سردی کا سبب نہ بن جائے۔امام زمانہ علیہ السلام جس چیزکوبہترسمجھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ جوچیزہم مانگے وہ ہمیں دے دیں۔ایک جوان ایک عورت کا عاشق  ہوگیا تھا۔وہ بہت زیادہ جمکران آیا  کرتا تھا اورنمازامام زمانہ پڑھ کربہت زیادہ دعا کیا کرتا تھا کہ اے امام زمانہ علیہ السلام میرے لیے اس مسئلے کوحل کریں۔اس کی دعا اورراز ونیاز قبول نہ ہوئی اوراس عورت نے کسی اورمردسے شادی کرلی۔یہ  جوان بہت پریشان ہوگیا۔لیکن ایک مدت کے بعد اس نےدیکھا کہ یہ لڑکی ،اچھی نہیں ہے اوراس نے اپنے شوہرکے گھروالوں کی عزت وآبرو خاک میں ملاد ی ہے اوران کی زندگی تباہ ہوکررہ گئی ہے۔اس واقعہ کے بعدیہ جوان جب جمکران آیا تواس نے خدا اورامام زمانہ کا شکریہ اداکیا کہ  مولاجان میں آپ کا شکرگزارہوں کہ اس موضوع کومیرے لیے   حل نہیں کیا ہے۔لہذا عزیزو یاد رکھیں کہ جب حاجات مانگتے ہوتواس طرح دعا کریں کہ خدایا اگریہ میرےلیے بہتراورمناسب ہے تومیری حاجت پوری فرما۔

ایک شخص نے خواب میں امام زمانہ علیہ السلام کودیکھا تواس نے آنحضرت سے عرض کیا کہ مولا آپ کیوں ظہورنہیں کرتے؟آپ کے چاہنے والے بہت زیادہ ہیں۔مولا  نے فرمایا:یہاں پرآنے والے بہت سےافراد مجھے نہیں چاہتے۔ان میں سے بہت سے مریض ہیں،مقروض ہیں اورمشکلات کا شکارہیں لہذ ا  یہ تواپنی حاجات کی خاطرآتے ہیں۔

         گر از دوست، چشمت دراحسان اوست                 تودر بند خویشی نه دربند دوست

عزیزو،کتنے لوگ ہیں کہ جوحقیقت میں  اپنے امام کوچاہتے ہیں۔آپ کتنے افراد کوجانتے ہیں کہ جوامام زمانہ علیہ السلام کے آگے سرتسلیم خم ہوں، یعنی امام زمانہ جوکچھ کہیں ،اطاعت کریں۔بہت سے لوگ مسجدجمکران میں آتے ہیں لیکن خمس وزکوٰۃ  نہیں دیتے،ان کی بیوی یا بیٹی بے پردہ ہے۔جھوٹ بولتے ہیں،غیبت کرتےہیں۔سودکا مال کھاتے ہیں۔عزیزان محترم،امام زمانہ علیہ السلام کی رضایت ہرچیزسے بالاترہے۔امام زمانہ علیہ السلام کے امراورفرمان پرعمل کریں۔دیکھیں کہ امام زمانہ علیہ السلام ہم سےکیا چاہتےہیں،کیا ہماری ،ہمارے گھروالوں کی زندگی ،امام زمانہ علیہ السلام کی پسند کے مطابق ہے؟ امام زمانہ علیہ السلام کے فرمان کی اطاعت کرتےہیں؟بہت سے لوگ ہیں کہ زیارت کرتےہیں۔زیارت عاشورا پڑھتے ہیں،نمازامام زمانہ پڑھتے ہیں،امام حسین علیہ السلام کی ضریح کا طواف کرتےہیں لیکن ان کی بات نہیں مانتے۔امام علیہ السلام کے چاہنے والوں میں اس طرح کے بہت سے لوگ موجود ہیں۔

بہت سے لوگ،وقت کے غلام ہیں نہ  کہ امام زمانہ کے،یعنی اگراس وقت سب جھوٹ بولتے ہیں تویہ بھی جھوٹ بولتا ہے۔ا گرسب لوگ سود کھاتےہیں تویہ بھی سود کھاتا ہے۔اگرشادی کے  وقت گانے گاتے ہیں اورعورتیں بے حجاب ہوتی ہیں تویہ بھی بے پردہ ہوجاتی ہے۔عزیزو، وقت کے غلام نہ بنیں ،یہ امام زمانہ سے محبت نہیں ہے۔بہت سے لوگ جمکران آتے ہیں لیکن اپنے مال کوحلال نہیں کرتے۔ پس امام زمانہ کوکس لیے پکارتے ہو۔آتا ہے یابن الحسن کہتا ہے،امام زمانہ کی نمازپڑھتا ہے لیکن خمس نہیں دیتا ہے،دینی مسائل سے  باخبرنہیں ہے،اس کی بہن،بیوی اوربیٹی کا پردہ  صحیح  نہیں ہے۔لہذ ا عزیزو ہمیں ایسا ہونا چاہیے کہ امام زمانہ ہم سے راضی ہوں۔ہمیں دیکھ کرمسکرائیں اورہم سے اظہاررضایت کریں۔

دعا برائے ظہوروفرج امام زمانہ  علیہ السلام

گیارہویں امام حضرت عسکری علیہ السلام فرماتےہیں: میرا بیٹا حضرت مہدی علیہ السلام طولانی مدت تک پردہ غیبت میں رہیں گے اوراس دورمیں کوئی  شخص ہلاکت سے نجات حاصل نہیں کے گا مگروہ شخص کہ جسے خدا نے امام زمانہ کی امامت پراعتقاد مستحکم کرنے کی سعادت نصیب فرمائی ہو اورامام زمانہ کے ظہورکےلیے دعا کرے۔امام زمانہ علیہ السلام کے فرج کی دعا کوفراموش نہ کریں إِلَهِي عَظُمَ الْبَلاءُ وَ بَرِحَ الْخَفَاءُ وَ انْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَ انْقَطَعَ الرَّجَاءُ (الشیخ عباس قمی/ مفاتيح الجنان/ ج1/ ص:115). زیارت آل یاسین کوفراموش نہ کریں۔اگرتم اپنے کاموں میں امام زمانہ کویاد رکھو تویقینا امام زمانہ بھی تمہارے کاموں میں  شریک ہوں گے۔تم امام زمانہ علیہ السلام کے لیے  دعا کرو تویقینا امام زمانہ علیہ السلام بھی  کئی گنا زیادہ تمہارے لیے دعا کریں  گے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کا ذکرمصیبت

عزادارو،اپنے دلوں کوسامرا کی طرف متوجہ کرو۔وہ سامرا کہ جہاں پرآپ کے حرم مطہرکومنہدم کردیا گیا ہے۔امام  عسکری علیہ السلام اٹھائیس سال کی عمر میں اپنے وقت کے خلیفہ کے ہاتھوں زہرسے  شہید کردیے گئے تھے۔ابوصل کہتا ہے کہ میں نے سنا کہ گیارہویں امام کی حالت انتہائی خطرناک ہے۔میں امام علیہ السلام کی عیادت کےلیے آپ کی خدمت میں پہنچا تودیکھا کہ امام علیہ السلام بسترپرپڑھےہوئے ہیں۔حضرت نے اپنے خادم سے فرمایا: شربت تیارکرو۔میں نے امام کی خدمت میں شربت پیش کیا،دیکھا کہ زہراس قدرامام کے بدن میں اثرکرگیا ہو اہے کہ آپ کے ہاتھ مبارک لرزرہے تھے۔لہذا آپ  اس شربت کوپی نہ سکے۔پھراپنے خادم سے فرمایا: جاو کمرے سے میرے بیٹے کوآوازدو۔عقید کہتا ہے کہ جب میں کمرے میں داخل ہوا تودیکھاکہ ایک نوجوان سجدے کی حالت میں ہے۔میں نے عرض کیا آپ کے والد گرامی آپ کوبلا رہے ہیں۔امام زمانہ علیہ السلام نمازمیں مشغول تھے،سجدے سے اٹھ کرنمازکوختم کیا۔ابوصل کہتاہےکہ میں نے دیکھاایک جوان کہ جوانتہائی خوبصورت،دلربا، اورگھنگھریالے بالوں والے اورروشن اورپاکیزہ چہرے کے ساتھ  کمرے میں داخل ہوئے۔گیارہوں امام علیہ السلام نے فرمایا: : يَا سَيِّدَ أَهْلِ بَيْتِهِ اسْقِنِي الْمَاءَ فَإِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي وَ أَخَذَ الصَّبِيُّ الْقَدَحَ الْمَغْلِيَّ بِالْمُصْطُكَى بِيَدِهِ ثُمَّ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ ثُمَّ سَقَاهُ (مجلسی/ بحارالأنوار/ ج52/ص:1)۔اے میری اہل بیت کے سردارمجھے شربت دیجیے۔میں اس دنیا سے جانے والاہوں۔امام زمانہ علیہ السلام کہ جواس  وقت پانچ سال کےتھے، نےشربت کوامام عسکری علیہ السلام کے  منہ کے قریب کیا۔امام علیہ السلام نے شربت پی کرفرمایا:مجھے وضوکرواو(کیونکہ خود اٹھ کروضوکرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے)۔امام زمانہ علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کووضو کروایا۔امام عسکری علیہ السلام نے اس آخری وقت فرمایا:میرے بیٹے آپ مہدی ہیں،آپ زمین پرحجت خدا ہیں۔گیارہویں امام نے اپنے بستراوراپنے بیٹے کی آغوش میں  شہادت پائی،آپ کے بیٹے نے انہیں شربت پیش کیا  اوروضو کروایا۔عزادارو،میں عرض کرتا ہوں لايَوْمَ كَيَوْمِكَ يا اباعَبْدِاللَّه (مولفین کی ایک جماعت/ عاشورا شناسى/ص:205)۔ یا امام عسکری علیہ السلام آپ نے  شہادت کے وقت،شربت  نوش فرمایا۔آ پ کے بیٹےآپ کےسرہانے کھڑے تھے۔لیکن  ہائے افسوس آپ کے  غریب جد حسین علیہ السلام پرکہ جنہوں نے اپنےجوان بیٹوں، بھائیوں اورعزیزوں کے زخم دل  میں لے کرشہادت پائی۔اباعبداللہ الحسین علیہ السلام نے قتل گاہ میں جتنی بھی فریاد بلند کی کہ پیاس سے میرا جگرجل رہا ہے ،لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ایک مرتبہ امام علیہ السلام نے دیکھا کہ آپ کا سینہ مبارک ،بھاری ہوگیا ہے،جب آنکھیں کھولی تودیکھا: والشّمر جالس على صدرك(مولفین کی ایک جماعت/مقالات/ص:809).

وَ سَيَعْلَمُ الَّذينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (الشعراء: 227)

خدایابحق اباعبداللہ الحسین علیہ السلام وبحق دل زینب کبری سلام اللہ علیہا،امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورمیں تعجیل فرما۔بحق امام حسین علیہ السلام ،امام زمانہ کو ہم سے راضی فرما۔ہم سب کواہل بیت کے حقیقی شیعوں میں سے قراردے۔دنیا وآخرت میں ہمیں ایک لمحہ بھی  قرآن واہل بیت سے جدا نہ فرما۔قرآن کریم،اس اسلامی ملک کی خدمت کرنےوالوں،قائدانقلاب اسلامی اورہمارے جوانوں کوامام زمانہ علیہ السلام کی پناہ میں محفوظ رکھ۔


٠٩:٤٦ - سه شنبه ١٧ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٧١٢    /    تعداد نمایش : ٨٥٩


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.