فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14087
 بازدید امروز : 45
 کل بازدید : 29993
 بازدیدکنندگان آنلاين : 2
 زمان بازدید : 1/5781
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

امام حسین علیہ السلام خداوند متعال پرقربان

موضوع سخن: امام حسین علیہ السلام خداوند متعال پرقربان

اہل بیت علیہم السلام کے لیے بامعرفت گریہ

کتاب کامل الزیارات میں آیا ہےکہ امام حسین علیہ السلام پرگریہ کرنے سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورحضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا خوش ہوتےہیں۔یہ بہت  اہم  مطلب ہے۔بہت سی احادیث میں ہے کہ اگرکوئی انہیں خوش کرے اس نے خدا وندکریم کوخوش کیاہے اورہم اہل بیت علیہم السلام کے حق کوادا کیا ہے۔البتہ شرط یہ ہے کہ حقیقی اورواقعی گریہ ہونا چاہیے،نہ یہ کہ جب ذاکرکہے کہ اے مصیبت زدہ  لوگو، اس وقت گریہ کرو۔

امام حسین علیہ السلام پرگریہ کرنے کے حوالے سے  دونکتوں کی مراعات کرنی چاہیے۔ایک ولایت  اوردوسری محبت۔امام حسین علیہ السلام کی محبت اوراہل بیت علیہم السلام پرآنے والے مصائب کی وجہ سے گریہ ہونا چاہیے۔فقط رونا کافی نہیں  ہے اورباعث نجات نہیں ہے  کیونکہ اس طرح توعمرسعد نے بھی گریہ تھا،اس کے لشکروالوں نے بھی گریہ تھا۔جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی  کی مقتل گاہ کے سامنے کھڑے ہوکرذکرمصیبت پڑھا تو راوی کے بقول دشمنوں نے بھی گریہ کیا تھا۔یا شام میں جب امام سجاد علیہ السلام نے خطبہ پڑھا توشام کے لوگ گریہ وزاری کرنے لگے، یعنی جولوگ پہلے خوشیاں اورجشن منارہے تھے ،انہوں نے گریہ کرنا شروع کردیا۔لہذا محبت کی بنا پرگریہ کرنا چاہیے نہ کہ شامی  عوام  کی طرح  کہ جنہوں نے رحم کھا کرگریہ کیا۔

خدا کےلطف میں شامل ہونے کا راستہ

امام حسین علیہ السلام ،خدا کے محبوب ہیں«حسين منى و انا من حسين. احب اللَّه من احب حسينا» [1] یہ ایک زیبا ترین روایت ہے کیونکہ اس میں  خدا کے محبوب ہونے کا راستہ  بتایا گیا ہے کہ جوانتہائی اہم ہے اوریہ ایک عظیم مقام ہے۔ہم زیارت امین اللہ میں پڑھتے ہیں«محبوبة في ارضک و سمائک» یعنی خدایا ہمیں زمین وآسمان میں محبوب قراردے۔مقام محبوبیت بہت بلند ہے۔ «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنينَ[2]،فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقينَ» [3] خداوند متعال ،نیک کام کرنے والوں اورباتقویٰ افرادسے محبت کرتا ہے۔خداوند متعال  ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔«وَ اللَّهُ لايُحِبُّ الظَّالِمينَ» [4]ظلم ،ہمیں خدا کی نظروں میں گرادیتا ہے اورظالم ،مبغوض  خدا بن جاتا ہے۔لہذا ہمیں خدا سے ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ ہم پراپنا لطف وکرم نازل فرمائے اوراس کا راستہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام سے محبت کرنی چاہیے۔

کائنات میں ترقی وکمال

کسی بزرگ نے کہا:خداوند متعال نے  امام حسین علیہ السلام پرقربان ہونے کے لیے یہ جان مجھے  عطاکی ہے۔یہ جان اورروح ان کی ہے۔آقای دولابی فرمایا کرتے تھے اس کائنات میں جوچیز پست اورحقیر ہےا سے اعلیٰ اورکامل چیزپرقربان ہوجانا چاہیے۔مٹی کوجڑی بوٹیوں اورنباتات پرقربان ہونا چاہیے اوراس کے نتیجے میں   یہ پودا درخت اورپھل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔پودے اورجڑی بوٹیاں، حیوان پرقربان ہوجاتی ہیں اورحیوانات انہیں کھاجاتے ہیں اورحیوانات ،انسانوں پرقربان ہوجاتے ہیں اورانسان کوکامل انسان پرفدا ہونا چاہیے۔ایک مومن کواپنے امام پرقربان ہونا چاہیے۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب ایک حیوان کواہل بیت علیہم السلام اورخدا کے لیے قربان کیا جاتا  ہے توکیونکہ حیوان  ذبح ہونے کے بعد کمال کی منزل پرفائزہوجاتا ہے لہذا وہ بہت خوش ہوتا ہے۔وہ اپنے  آپ سے کہتا ہے کہ میں مومنین کے بدن کا  حصہ بنوں گا اورترقی کرکے کمال کی منزل پرفائزہوں گا۔

امام حسین علیہ السلام ،خدا پرقربان

امام حسین علیہ السلام بھی خدا پرقربان ہوگئے۔ یعنی انسان کا کام بھی  خدا پرقربان ہوجائے۔بعض ذاکرین  اورمقررین  کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نمازیاکعبہ پرقربان ہوگئے۔ جبکہ یہ بات  غلط ہے اوریہ بات معرفت کے نہ ہونے کی وجہ سے کی جاتی ہے۔امام حسین علیہ السلام،دین کی اصل ہیں،امامت،اصول دین میں سےہے۔دین کی حقیقت ہے۔لیکن نماز،روزہ،زکوٰۃ اورحج فروعات دین میں سے ہیں لہذا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اصل ،فرع پرقربان ہوجائے بلکہ فرع کواصل پرقربان ہونا چاہیے۔

کعبه يک سنگ نشانی است که ره گم نشود         حاجي احرام دگر بند ببين يار کجاست

کعبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے اورسب انبیاء اورائمہ اطہارعلیہم السلام  خدا کے عشق میں اس کعبہ کے گرد طواف کیا کرتے تھے لیکن  گھرکے مالک کی قدروقیمت اس سے کہیں زیاد ہ ہے۔لہذا ہمیں گھرکے مالک کی تلاش میں ہونا چاہیے۔ا مام حسین علیہ السلام بھی خدا پرقربان ہوئے نہ کہ کعبہ پر قربان ہوئے ہوں۔« نَحْنُ أَصْلُ كُلِّ خَيْرٍ وَ مِنْ فُرُوعِنَا كُلُّ بِرّ» [5] یعنی ہم اہل بیت علیہم السلام تمام اچھائیوں کی بنیاد  ہیں ۔جب حضرت اباالفضل  العباس علیہ السلام کا دایاں بازو کٹ گیا توفرمایا: «وَاللَّهِ إِنْ قَطَعْتُمُوا يَمينى ، إنّى أُحامى أَبَداً عَنْ دينى» [6] اگرتم نے میرا دایاں بازو کاٹ دیا ہے  توخد ا کی قسم میں  ہمیشہ اپنے دین کی حمایت کرتا رہوں گا۔حضرت عباس علیہ السلام کا کمال یہ تھا کہ وہ امام حسین علیہ السلام پرقربان ہوجائیں اورامام حسین علیہ السلام  اپنی جان کانذرانہ پیش کرکے "ثاراللہ"(خون خدا) کے مقام پرفائزہوگئے۔یعنی امام حسین علیہ السلام کے خون کی قیمت فقط خود ذات خداوند متعال ہے۔اس کائنات میں  کسی  معیارکے ذریعے امام حسین علیہ السلام کے خون کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے  فقط ایک  ذات ہے اوروہ خدا ہے۔

مومن کے احترام کی اہمیت

روایت میں آیا ہے کہ حضرت کی نظرخانہ کعبہ پرپڑی توفرمایا:تیرا بہت زیادہ احترام ہے لیکن مومن اوراہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنے والے شخص  کا احترام تجھ سے زیادہ ہے۔ایک اورروایت میں ہے کہ اگرکسی نے ایک مومن کوآزارواذیت پہنچائی توگویا اس نے خانہ کعبہ کومنہدم کردیا ہے۔جب ایک مومن اوراہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنےوالے کواذیت کرتے ہیں توپیغمبراکرم،حضرت زہرا اورائمہ اطہارعلیہم السلام اورخدا کوناراض کرتے ہیں۔«مَنْ آذَى مُؤْمِناً فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَ مَنْ آذَى اللَّهَ فَهُوَ مَلْعُونٌ فِي التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الزَّبُورِ وَ الْفُرْقَانِ» [7] ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:جس نے کسی مومن کواذیت کی اس نے مجھے اذیت کی ہے لہذا ہمیں کسی مومن کے دل کونہیں توڑنا چاہیے۔خداوندمتعال کے نزدیک ایک مومن کی اتنی قدروقیمت ہے کہ فرماتاہے کہ  اپنے مومن بندے سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ اپنے نام کواپنے بندے کے لیے انتخاب کیا ہواہے۔خدا کاایک نام "مومن" ہےلہذا اگرکوئی کسی مومن کوتھپڑمارتا ہے توگویا وہ  خدا کے مقابلے میں  کھڑا ہے۔

ہمارےمعاشرے  میں بھی اس موضوع کی ترویج ہونی چاہیے کہ اگرہم نے کسی کومارا توہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ خدا کومارا ہے۔اپنے امام زمانہ  عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کوماراہے،قرآن کومارا ہے،خانہ کعبہ کوویران کیا ہے اوریہ بہت  سخت جرم ہے۔

خدا سےمحبت کرنے کا لازمہ

آقای دولابی  فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن اس کے بندوں سے محبت نہیں کرتے۔ایسا نہیں ہوسکتا۔خدا اپنے بندوں سے الگ نہیں ہے۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تومحبت ہولیکن اس کی اہل بیت علیہم السلام سے محبت نہ ہو۔رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ زہرا سلام اللہ علیہامیرا ٹکڑا ہے،میری روح ہے،میری جان ہے۔حضرت علی علیہ السلام میری جان ہیں«عَليٌ کَنَفسي»۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک شخص سےتومحبت کریں لیکن اس کی اولاد اوراس کے دوستوں سے محبت نہ کریں۔ اس اتحادویگانگت کی شعاع بہت پھیلی ہوئی ہے" شيعتنا جزء منا" شیعہ ہماراحصہ ہیں۔ مومنین کا چودہ معصومین علیہم السلام کے ساتھ ایک تعلق  ہے۔«قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلّم: من سرّ مؤمناً فقد سرّني ، ومن سرّني فقد سرّ الله»:( الكافي ج 2 ص 188) اگرکوئی مومن کوخوش کرے توگویا اس نے خدا کوخوش کیا ہے۔

مخلوق خدا کی خدمت

حضرت موسی  علیہ السلام نے خداوندمتعال سے عرض کیا:اگرتم مخلوق ہوتے  توکیا کرتے؟خداوند متعال نے فرمایا:میں لوگوں کی مشکلات حل کرنے اوران  کی حاجات پورا کرنے کی کوشش کرتا۔یعنی یہ کام ،خدائی کام ہے۔جوبھی یہ کام کرے وہ یداللہ اوراللہ کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ ہم بھی یداللہ بن سکتے ہیں۔لوگوں کی مشکلات حل کرنا فقط مال اوراموال کے ذریعے ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ممکن ہے کہ ایک لفظ، دعا،ایک نیک قدم کے ذریعے ہی لوگوں کی مشکلات کوحل کیا جاسکتا ہے۔خداوندمتعال ،خیرخواہی کی صفت کوبہت زیادہ پسند کرتاہے۔«مَنْ سَعَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ- فَكَأَنَّمَا عَبَدَاللَّهَ تِسْعَةَ آلافِ سَنَةٍ صَائِماً نَهَارَهُ قَائِماً لَيْلَه»[8] جوشخص اپنے مومن بھائی کی حاجت پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو سترسال خدا کی عبادت کرتا ہے اس طرح کہ دن کو روزے رکھتا ہے اوررات کوعبادت کرتاہے۔مخلوقات کی خدمت،اللہ تعالی اورچودہ معصومین علیہ السلام کے قرب اوران کی خوشنودی کا سبب ہے۔

زائرین کی خدمت کا ثواب

امام صادق علیہ السلام ایک مرتبہ خانہ کعبہ  کا طواف کررہے تھے اورایک شخص بھی امام علیہ السلام کے ساتھ طواف کررہا تھا وہ جب بھی ایک چکرلگاتا توایک شخص اشارے سے اسے بلاتا لیکن وہ شخص نہ جاتا اوراپنے طواف کوجاری رکھتا۔طواف کے ختم ہونے کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: تم کیوں نہیں گئے؟اس نے عرض کیا:میں طواف میں مشغول تھا۔امام علیہ السلام نے فرمایا:اگرتم جاکراس شخص کی مشکل حل کرتے تو اس کا م کا ثواب تمہارے دس طوافوں سے زیادہ تھا۔خدا کے بندوں کی مشکلات  کوحل کرنے کا بہت زیادہ  ثواب ہے۔روایت میں ہے کہ  ایک زائرکی خدمت،خود زیارت سے زیادہ ہے،گویا کہ خادم،اما م رضا  علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کا ہاتھ بن جاتاہے۔جوانسان ،خدمت گزارہے وہ اسماء اللہ بن جاتا ہے۔کیونکہ ایک اسم الہی"«يَا قَاضِيَ الْحَاجَاتِ»[9] ہے۔یعنی خدمت کرنے والے قاضی الحاجا ت کے مظہرہیں اوران کے کاموں سے خدا کی خوشبوآتی ہے۔خدمت فقط مادی خدمت میں ہی منحصرنہیں ہے بلکہ معنوی خدمت بھی ہے۔مثا ل کے طورپرایک انسان کو سیدھے راستے کی ہدایت کردیں۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم لِعَلِيٍّ عليهالسلام: لَئِنْ يَهْدِاللَّهُ بِكَ عَبْداً مِنْ عِبَادِهِ خَيْرٌ لَكَ مِمَّاطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ مِنْ مَشَارِقِهَا إِلَى مَغَارِبِها»[10] یعنی اگرکوئی شخص تمہارے ہاتھوں سےہدایت یافتہ ہوجائے تویہ تمہارے لیے  ہراس چیز سےبہتر ہےجس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔روایت میں ہےکہ جس نے کسی ایک مومن کی حاجت پوری کی  توگویا اس نے نوہزار سال عبادت کی ہے وہ بھی ایسی عبادت کہ راتوں کوعبادت اوردن کوروزے رکھے۔«سَمعتُ أبی یقُولُ مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ كَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ تَعَالَى تِسْعَةَ آلَافِ سَنَةٍ صَائِماً نَهَارَهُ قَائِماً لَيْلَهُ»[11]

خدمت خلق میں ائمہ اوربزرگوں کی سیرت

ائمہ معصومین علیہم السلام آدھی رات کے وقت فقراء اورمساکین کے گھروں میں جایا کرتے تھے اوران کی مشکلات حل کیا کرتے تھے۔ہمارے بزرگان بھی ایسے ہی تھے اورانہوں نے اپنے آپ کواللہ کے بندوں کی خدمت کےلیے وقف کررکھا تھا۔اس سے  بالاترکوئی  کام نہیں ہے کیونکہ اس کا اجروثواب خود خدا کی ذات کے پاس ہے۔

دونجات بخش عمل

مرحوم کل احمد کہ جوامام حسین علیہ السلام کی عنایت سے تبدیل ہوگئے ہوئےتھے۔میں  کئی مرتبہ انہیں مرحوم آیت اللہ بہاء الدینی کی خدمت میں لے کرگیا ہوں۔آیت اللہ بہاء الدینی بھی ان کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔یہ مرحوم رجب علی  خیاط کے شاگردوں میں سے تھے۔ان کے  حالا ت زندگی کے بارے ایک کتاب بھی لکھی گئی ہے جس کا نام ہے"رند عالم سوز"۔مرحوم آیت اللہ بہاء الدینی نے مجھے فرمایا:ان کے کلمات کولکھ لو۔بہت پکی اورمستحکم باتیں کرتےہیں۔ان کی  ایک بات یہ تھی کہ اگرہمارے اوپرولایت کا ہاتھ نہ ہو توہم سب طلحہ وزبیر بن جائیں گے۔ ہمارا نفس باغی ہے۔امیرالمومنین علیہ السلام کوہماری مدد کرنی چاہیے۔کل احمد دوچیزوں کی بہت زیادہ تاکید کیا کرتے تھے۔ایک امام حسین علیہ السلام سے ارتباط۔دوسری اللہ کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ ان دومسائل کےحوالے سے میرے بہت تجربات ہیں۔کسی کے دل کونہ توڑواور خدا کے بندوں کے ساتھ نیک برتاوکرو اورایک یہ کہ جیسا بھی ہوامام حسین علیہ السلام کےخدمت گزاروں میں شامل ہوجاو۔

بچوں کوآزارواذیت پہنچانے سے اجتناب

انہوں نے کہا کہ  چھوٹے بچے گھرمیں شورشرابہ کررہے تھے،ایک دوسرے کومارتے ہیں،برا بھلا کہتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ بچے شورشرابہ کرتے ہیں،ہم جوبھی کہتے ہیں وہ خاموش نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میں کھڑا ہو اورمکا بنایا تاکہ ان کے سرپرماروں اورانہیں  خاموش کروں کہ ایک مرتبہ مجھ پرمکاشفے کی حالت طاری ہوگئی تومیں نےدیکھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام مکا کر بنا کرمیرے سرپرکھڑے ہوئے ہیں اورفرمارہے ہیں کہ "کل احمد"اگرتم نے مارا تومیں بھی تمہیں ماروں گا۔میں نے ہاتھ نیچے کرلیا اورعرض کیا مولا میں نے غلط کیا ہے۔

عفوودرگزرکی اہمیت

میرے ایک دوست کہے رہے تھے کہ میرے جاننے والوں میں سے ایک ایسا شخص تھا کہ جوبہت زیادہ سعہ صدررکھتا تھا اورعفو ودرگزراس کا ملکہ بن گیا ہواتھا۔جب بھی اس سے کوئی برا پیش آتا تو وہ کہتا اسے چھوڑدو۔یہ شخص جب فوت ہو ا توکسی نےاسے خواب میں دیکھا کہ جنت کےایک اعلیٰ مقام پرہے۔اس سے پوچھا گیا  کہ قبلہ کیا خبرہے؟اس نے کہا کہ جب مجھے قبرمیں  رکھ دیاگیا تومجھ سے میرے اصول دین  پوچھے گئے جب بعض کا جواب نہ دے  سکا تو منکرونکیر فرشتوں نے ایک دوسرے کی طرف  دیکھا اورایک نے دوسرے سے کہا اسے چھوڑدو۔اس نے پوری زندگی کسی کواذیت نہیں کی ہے۔ہم بھی اسے اذیت نہیں کرتے۔جب تم لوگوں کے گناہ سے درگزرکرو گے تو خدا بھی تمہارے گناہوں کومعاف کردے گا۔جب تم لوگوں کو اذیت پہنچاوگے تو تمہیں بھی  اذیت پہنچائی جائے گی۔

امیرالمومنین علیہ السلام کاعفوودرگزر

قرآن کریم فرماتاہے:اے پیغمبرتم سےپوچھتے ہیں  کہ کیا انفاق کریں توان سے کہہ دو،عفوودرگزر ۔«يَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ»[12] درگزرکرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے،اگرکوئی درگزر کرتا ہوتوجنت میں اس کا اعلیٰ مقام ہے۔حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:اگرمیں زندہ رہا توابن ملجم کومعاف کردوں گا اوراگرمیں اس دنیا سے چلا گیا توتم معاف کردینا«فَالْعَفْوُ لِي قُرْبَةٌ وَ هُوَ لَكُمْ حَسَنَةٌ فَاعْفُوا ألاتُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَاللَّهُ لَكُمْ»[13] عفوودرگزرمیرے لیے قرب الہی کا سبب  ہے اورتمہارے لیے نیکی ہے کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تمہیں معاف کردے۔

ميـزند پـس لـب او کاسـه شـيـر                     مي کند چـشـم اشـارت به اسـير

چـه اسيـري که هـمان قـاتـل اوست       تو خدايي مگر اي دشمن دوست

شب روان مست ولاي تو علي              جان عـالـم بـه فـداي تـو علي

در جهاني همه شور و همه شر              ها عـلـي بـشـر کـيـف بـشـر

افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اگرکوئی  تھوڑی سی بھی بے احترامی کرے توہم اسے ناراض ہوجاتے ہیں جبکہ حضرت فرماتے ہیں کہ میں ابن ملجم کومعاف کردوں گا۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی ایک کرامت

آج  ہم حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی تین سالہ دختر حضرت رقیہ بنت الحسین علیہا السلام کے دروازے پرجاتے ہیں کہ جو باب الحوائج ہے۔اس  واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔وہ دمشق کہ جوکبھی بنی امیہ کی حکومت کا مرکزہوا کرتا تھا آج ان کا نام ونشان تک نہیں ہے لیکن ایک  تین یا چارسالہ لڑکی کہ جوانتہائی مظلومیت کی حالت میں اس دنیا سےچلی گئی تھیں، آج ان کی ایک عظیم الشان  بارگاہ بنی ہوئی ہے۔دوسرے ممالک سے لوگ یہاں آکراپنی حاجات لے کرجاتے ہیں اوراپنی مشکلات کوحل کرتےہیں۔نذرونیازلے کے آتے ہیں،تحائف لے کرآتے ہیں۔ایک شخص کہہ رہے تھے کہ شام کے  ایک سفرکے دوران میں نے ایک بوڑھے عالم کودیکھا توان سے پوچھا کہ  قبلہ صاحب کیا یہاں کوئی غیرمعمولی چیز دیکھی ہے۔انہوں نے کہا:ایک عیسائی خاتون کہ جولبنان میں رہتی تھی اس کی  ایک فالج زدہ بیٹی تھی ،اس نے اس کا بہت علاج کروایا تھا لیکن وہ ٹھیک نہیں  ہوئی تھی اورڈاکٹروں نے بھی اسے جواب دیے دیا تھا۔وہ خاتون کہتی ہے کہ ایک دن کہ جب میری بیٹی سورہی تھی،میں  ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے باہرنکلی تودیکھا کہ کچھ ساہ کپڑوں میں ملبوس افراد حسین، حسین کررہے ہیں۔وہ پوچھتی  ہے کہ کیا ہوا ہے،اسے کہا جاتا ہے کہ یہ امام حسین علیہ السلام کے شیعہ اورچاہنے والے ہیں اوران کی مظلومیت پرگریہ وماتم کررہے ہیں۔وہ اس قدراس ماتمی دستے میں مگن ہوجاتی ہے کہ اسے گھرمیں موجود اپنی مریض بیٹی بھول جاتی ہے۔وہ ماتمی دستے کے ساتھ حرم حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا میں جاتی ہے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس دن روزعاشورتھا۔یہ عورت بھی حرم حضرت رقیہ علیہا السلام میں بہت زیادہ گریہ کرتی ہے اوراس بی بی سے استغاثہ کرتی ہے کہ  میری بیٹی فالج زدہ ہے۔اچانک متوجہ ہوتی ہے کہ ظہرکا وقت ہے اوراس کی بیٹی گھرمیں  اکیلی ہے۔فورا اپنے آپ کواپنے کرائے کے گھرمیں  پہنچاتی ہے ،جونہی دروازہ کھولتی ہے تودیکھتی ہےکہ اس کی بیٹی اٹھی ہوئی ہے اورکمرے میں  ٹہل رہی ہے۔وہ عورت اپنی بیٹی کواپنی آغوش میں لے پوچھتی ہے کہ میری بیٹی  کیا ماجرا ہو اہے؟۔بیٹی کہتی کہ یہ خاتون کہ جوابھی میرے کمرے  سے نکلی ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا۔ماں نے کہا : میں نے کسی  خاتون کونہیں دیکھا۔بیٹی نے کہا: جب میں نیند سے اٹھی تودیکھا کہ آپ نہیں ہیں تومیں بہت روئی۔اچانک میں نے دیکھا کہ ایک تین یاچارسالہ لڑکی نے آکرکہا کہ پریشان مت ہو،تیری ماں نے مجھ سے توسل کیا ہے۔میں نےکہا  کہ آپ کون ہیں؟تواس لڑکی نے کہا کہ میں رقیہ بنت الحسین ہوں۔آج تیری ماں نے مجھ پربہت گریہ کیا ہے۔اس  لڑکی نے کہا کہ اس  بی بی نے  چند گھنٹے میرے ساتھ کھیلا  تومیں اٹھ کربیٹھ گئی اوراس کےساتھ کھیلتی رہی  اورمیرے پاوں ٹھیک ہوگئے ہیں۔

حضرت رقیہ سلام للہ علیہا  کا  ذکرمصیبت

میری جان قربان ہویہ خاندان،لوگوں کی مشکلات حل کرتاہے۔لیکن اس تین یا چارسالہ لڑکی کے دل پرکیا گزری۔جب کپڑے کوہٹایا اورباپ کے کٹے ہوئے سرکودیکھا۔آپ مجھے بتائیں کہ کونسی بیٹی اس  منظرکودیکھ سکتی ہے۔اپنے بابا کے  سرکواپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے سینے  سے  لگایا۔

 

عمـه بيا گـمشده پيدا شده         کنج خـرابه شـب يـلدا شده

بس که دويدم عقب قافله                   پاي من از ره شده پر آبله

آوازدی بابا جان کس ظالم نے آپ کی گردن کی رگوں کوکاٹا ہے۔کس ظالم نے مجھے اس چھوٹی عمرمیں یتیم کیا ہے۔امام حسین علیہ السلام کی  چھوٹی سی لاڈلی بیٹی  مصائب پڑھ رہی تھیں اورسب گریہ کررہے تھے۔لیکن ایک مرتبہ دیکھتے ہیں  کہ رقیہ خاموش ہوگئی ہیں جب آکردیکھا تو رقیہ  اپنے بابا کی جدائی میں  وفات پاچکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]  زندگانى حضرت امام حسين عليه السلام / محمدجواد نجفي / 290 / بخش چهل و ششم راجع به عذاب دنيوى قاتلين امام حسين عليه السلام ... / ص: 290.

[2]  البقرة: 195.

[3]  آل عمران: 76.

[4]  آل عمران: 57.

[5]  الكافي / شيخ کليني / 8 / 242 / حديث القباب... / ص: 231.

[6]  عاشوراشناسى / جمعي ازنويسندگان / 288 / 20 - حمايت از ولى امر... / ص: 288.

[7]  مستدرك الوسائل / محدث نوري / 9 / 99 / 125- باب تحريم إيذاء المؤمن... / ص: 99.

[8]  بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار / مجلسي / ج 71 / 315 / باب 20 قضاء حاجة المؤمنين و السعي فيها و توقيرهم و إدخال السرور عليهم و إكرامهم و ألطافهم و تفريج كربهم و الاهتمام بأمورهم... / ص: 283.

[9]  مفاتيح الجنان / شيخ عباس قمي / 1 / 76 / دعاى مشلول... / ص: 74.

[10]  مستدرك الوسائل / محدث نوري / 12 / 241 / 18- باب استحباب الدعاء إلى الإيمان... / ص: 238.

[11]  مستدرك الوسائل / محدث نوري / 7 / 564 / 7- باب وجوب إقامة المعتكف واجبا في المسجد... / ص: 564.

سَمِعْتُ أَبِي ع يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص يَقُولُ مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ كَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ تَعَالَى تِسْعَةَ آلَافِ سَنَةٍ صَائِماً نَهَارَهُ قَائِماً لَيْلَهُ.

[12]  البقرة: 219.

[13]  نهج البلاغة / امام علي عليه السلام / 378 / 23- و من كلام له ع قاله قبل موته علي... / ص: 378


٠٩:٤٨ - سه شنبه ١٧ تير ١٣٩٣    /    شماره : ٥١٧١٣    /    تعداد نمایش : ١٣٤٦


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.