فارسی | عربی | اردو | English
السلام علیکم ۔ فقہ کے اعلیٰ تعلیمی کمپلیکس کے مبلغین کی سائٹ پرخوش آمدید۔ سائٹ پہ کام جاری ہے، برائے کرم انتظار کیجئے۔ شکریہ
پہلا صفحہ تبلیغ ناب سائٹ تبلیغی جرائد لائبریری تبلیغی واقعے ہم سے رابطہ
اخبار مهم


  • اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے لئے اس مبارک مہینہ کو رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے

صفحه اصلی 
آمار بازدید
 بازدید این صفحه : 14757
 بازدید امروز : 8
 کل بازدید : 31072
 بازدیدکنندگان آنلاين : 4
 زمان بازدید : 1/4280
نظرسنجی
تبلیغ ناب سائٹ بارے آپ کی کیا رائے ہے؟

بہت اچھی
اچھی
درمیانی
نچلی سطح کی ہے



  چاپ        ارسال به دوست

اهداف عزاداری

موضوع : اهداف عزاداری

عزاداري کے اہداف اورکچھ ذ مہ داریاں

بسم الله الرحمن الرحیم . الحمدلله رب العالمین و الصلوة و السلام علی حقیقة الوجه الاتم، العارف بما فی اللوح و القلم ،الواقف علی جمیع سیاسات و الحکم، العبد الموید، والرسول المسدد، المصطفی المحمود الاحمد، حبیب اله العالمین ، ابی القاسم محمد صلی الله علیه و آله وسلم و علی آله الطیبین الطاهرین علیه السلام ، المعصومین المنتجبین ، سیما بقیة الله فی الارضین ؛ و اللعنة الدائمة علی اعدائهم اجمعین ، من الان الی قیام یوم الدین

اگر هم عزاداري کرتے هيں تو اس کا کوئي هدف اور مقصد هونا چاہئے، کيونکہ هر عمل کا کوئي نہ کوئي مقصد ضرور هوتا هے، لہٰذا اگر هم مجالس برپا کرتے هيں ، آنسو بھاتے هيں ، سينہ زني کرتے هيں، وقت صرف کرتے هيں اور پيسہ خرچ کرتے هيں تو اس کا مقصد کيا هے؟ هميں اس بات پر توجہ دينا چاہئے کہ اگر يہ سب کچھ انجام ديتے هيں تو کس مقصد کے تحت؟

چنانچہ اگر هم عزادري کا مقصد سمجھنے چاهيں تو سب سے پھلے هميں حضرت امام حسين عليہ السلام کے قيام کا مقصد سمجھنا هوگا، کيونکہ جس مقصد کے تحت همارے مولا و آقا حضرت امام حسين عليہ السلام نے اتني بڑي قرباني پيش کي کہ جس کي تاريخ ميں مثال نهيں ملتي، اپني اور اپنے عزيز و اقارب کے قرباني پيش کي، تو ضرور کوئي مقصد رها هوگا، آپ نے مدينہ سے روانگي کے وقت وہ مقصد لوگوں کے سامنے واضح کرديا تھا، چنانچہ امام حسين عليہ السلام کا فرمان هے:

"وانما خرجت لطلب الاصلاح في امة جدي محمد صلی الله علیه و آله وسلم  اٴريدان آمر بالمعروف وانهي عن المنکر، اٴسير بسيرة جدي، و ابي علي بن ابي طالب" (1)

"ميں اپنے جد رسول اللہ کي امت کي اصلاح کے لئے نکل رها هوں، ميں امر بالمعروف اور نھي عن المنکر کرنا چاهتا هوں،اورميں اپنے نانا اور اپنے والد گرامي علي بن ابي طالب عليہ السلام کي سيرت پر عمل کروں گا“۔

پس معلوم يہ هوا هے کہ حضرت امام حسين عليہ السلام امت اسلام کي اصلاح، امر بالمعروف اور نھي عن المنکر ، حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور حضرت علي عليہ السلام کي سيرت بتانے کے لئے مدينہ سے روانہ هوئے ، لہٰذا هميں بھي امت اسلاميہ کي اصلاح کے لئے قدم بڑھانا چاہئے، معاشرہ ميں پھیلي هوئي برائيوں کو ختم کرنا چاہئے، اور امر بالمعروف اور نھي عن المنکر جيسے اهم فريضہ پر عمل کرنا چاہئے، نيز سيرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور سيرت علي عليہ السلام پر عمل کرتے هوئے اس کو لوگوں کے سامنے پيش کرنا چاہئے، اور جب هماري مجالسوں ميں ان باتوں پر توجہ دي جائے گي تو يقينا عزاداري کے مقاصد پورے هوتے جائيں گے همارا معاشرہ نمونہ عمل قرار پائے گا، اور معنوي ثواب سے بھرہ مند هوگا، ليکن اگر هم نے معاشرہ ميں پھيلتي هوئي برائيوں کو ختم کرنے کي کوشش نہ کي، اور لوگوں کو نيکيوں کا حکم نہ ديا تو مقصد حسيني پورا نہ هوگا،هم برائيوں ميں مبتلا رهيں اور خود کو امام حسين عليہ السلام کا ماننے والا قرار ديں،همارے معاشرے ميں برائياں بڑھتي جارهي هوں اورهم خود کو امام صادق عليہ السلام کے مذھب کا پيرو کار قراديں، واقعاً هميں شرم آنا چاہئے، چنانچہ امام صادق عليہ السلام نے فرمايا:  ”کونوا لنا زيناً و تکونوا  علينا شيناً “  (2)

 (اےهمارے شيعوں همارے لئے زينت کا باعث بنو، هماري بدنامي کا باعث نہ بنو) واقعاً يہ غور و فکر کا مقام هے !!

کتنے افسوس کا مقام هے کہ قوم ميں بعض بدعتيں پيدا هورهي هيں اورهم خاموش بيٹھے هيں ، اگر هم نے ابھي سے ان پر توجہ نہ کي تو وہ بدعتيں، بدعتيں نهيں رہ جائيں گي بلکہ وہ دين کا جزبن جائيں گي، اور اس وقت ان کا ختم کرنا مشکل هوگا، ليکن جو لوگ بدعت ايجاد کرتے هيں کيا وهي عند اللہ و رسولصلی الله علیه و آله وسلم  جواب دہ هوں گے، علماء اور ذاکرين کي کوئي ذمہ داري نھيں هے، هرگز ايسا نهيں هے، بلکہ هم سب ذمہ دارهيں۔

چنانچہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم بدعت کے سلسلہ ميں علماء کو ذمہ داري کا احساس دلاتے هوئے فرماتے هيں : "جب ميري امت ميں بدعتيں ظاهر هونے لگيں تو علماء کي ذمہ داري هے کہ وہ اپنے علم و دانش کے ذريعہ ميدان ميں آئيں (اور ان بدعتوں کا مقابلہ کريں) اور اگر کوئي ايسا نھيں کرتا تو اس پر خدا کي لعنت اور نفرين هو  (3)

علماء کی ذ مہ داری

علماء کی سب سےبڑی ذمہ داری امربا لمعروف اورنہی عن المنکرہیں ۔ میں يهاں پر امر بالمعروف اور نھي عن المنکر کي اهميت کے سلسلہ ميں معصومين عليهم السلام سے منقول چند احاديث کو بيان کرتا هو ں، تاکہ اس کي اهميت کا اندازہ لگايا جاسکے، کيونکہ همارے معاشرہ کے بعض ذ مہ دار حضرات بھي اس فريضہ الٰهي کي نسبت کم توجہ ديتے هيں، جبکہ همارے يهاں جس طرح فروع دين ميں نماز واجب هے، اسي طرح امر بالمعروف و نھي عن المنکر بھي واجب هے، هم خود تو نيکياں انجام ديتے رهيں اور جنت ميں جانے کي کوشش کرتے رھيں ليکن اپنے بھائي بہنوں کے سلسلہ لاپرواهي کريں، هم خود تو برائيوں سے دور رهتے هوں اور خود جہنم کي جلتي هوئي آگ سے ڈرتے هوئے برائيوں سے دور رهيں ليکن اپنے رشتہ داروں اور اپني قوم والوں کے بارے ميں توجہ نہ کريں.

هميں معصومين کے کلام پر توجہ کرنا هوگي، تاکہ هميں معلوم هوجائے کہ امر بالمعروف و نھي عن المنکر کي کتني زيادہ اهميت هے، چنانچہ امام محمد باقر عليہ السلام نے اس سلسلہ ميں فرمايا :

"ان الامر بالمعروف والنهي عن المنکر سبيل الانبياء،  ومنهاج الصالحين، فريضة عظيمة بها تقام الفرائض، و تاٴمن المذاهب، وحل المکاسب، وترد المظالم وتعمر الارض، وينتصف من الاعداء ويستقيم الامر، فانکروا بقلوبکم، والفظوا بالسنتکم، وصکّوا بها جباههم، ولا تخافوا في الله لومة لائم۔۔۔ (4)

"امر بالمعروف اور نھي عن المنکر انبياء (عليهم السلام) کا راستہ اور صالحين کا طريقہ کار هے، يہ ايسا عظيم فريضہ هے جس کے ذريعہ دوسرے تمام واجبات برپا هوتے هيں، ان دو واجبوں کے ذريعہ راستہ پُر امن، درآمد حلال اور ظلم و ستم دور هوتا هے، ان کے ذريعہ زمين آباد هوتي هے اور دشمنوں سے انتقام ليا جاتا هے اور صحيح امور انجام پاتے هيں، لہٰذا اگر تم کسي برائي کو ديکھو تو (پهلے) اس کا دل سے انکار کرو اور پھر اس انکار کو اپني زبان پر لاؤ ، اور پھر اپنے هاتھوں سے (برائيوں سے باز نہ آنے والے کے) منھ پر طمانچہ ماردو، اور راہ خدا ميں کسي طرح کي سرزنش اور ملامت سے نہ گھبراؤ " (5)

اسي طرح امام باقر عليہ السلام معاشرہ ميں پھيلتي هوئي برائيوں کے سامنے خاموش رہنے والے افراد کو متنبہ کرتے هوئے فرماتے هيں :

"اوحي الله تعالي الي شعيب النبي(ع) اني لمعذب من قومک مائة اٴلف: اربعين اٴلفا من شرارهم، وستين الفاً من خيارهم، فقال يارب هوٴلاء الاشرار، فما بال الا خيار؟

          فاوحي الله عزّ وجلّ اليه: اٴنهم داهنوا اهل المعاصي، ولم يغضبو الغضبي" (6)

"خداوندعالم نے جناب شعيب نبي عليہ السلام پر وحي نازل کي کہ ميں تمھاري قوم کے ايک لاکھ آدميوں پر عذاب نازل کروں گا، جس ميں چاليس ہزار بُرے لوگ هوں گے، اور ساٹھ ہزار اچھے لوگ، يہ سن کر حضرت شعيب عليہ السلام نے خداوندعالم کي بارگاہ ميں عرض کي: بُرے لوگوں کا حال تو معلوم هيں ليکن اچھے لوگوں کو کس لئے عذاب فرمائے گا؟

خداوندعالم نے دوبارہ وحي نازل فرمائي کہ چونکہ وہ لوگ اهل معصيت اور گناھگاروں کے ساتھ سازش ميں شريک رهے، اور ميرے غضب سے غضبناک نهيں هوئے".

يعني برے لوگوں کو برائي کرتے ديکھتے رهے اور انہیں خدا کے قهر و غضب سے نہ ڈرايا۔

علماء کی ایک اور ذ مہ داری کی طرف توجہ دلاتا هوں وہ یہ کہ ذاکروں اور ادنی طالب علموں کو متوجہ کریں کہ وہ ضعیف روایتوں سے استفادہ نہ کریں

امام حسين عليہ السلام اور خاندان عصمت و طهارت کے مصائب پر گريہ کرنا اور آنسوں بهانا بهت عظيم ثواب رکھتا هے، جيسا کہ متعدد احاديث ميں اس مسئلہ کي طرف اشارہ هوا ، لہٰذا هميں چاہئے کہ امام حسين اور هل بيت عليهم السلام کے مصائب پر روئيں اور آنسوں بهائيں، همارے ذاکرين کو اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ رونے اور رلانے کے سلسلہ ميں معتبر مقاتل سے روايات بيان کريں، اور ضعيف روايتوں کے بيان سے اجتناب کريں، کيونکہ يہ بات مسلم هے کہ هماري احاديث کے درميان بعض جعلي روايات بھي شامل کردي گئي هے، يہ هماري مجبوري هے، ليکن خداوندعالم نے هميں عقل جيسي عظيم الشان نعمت سے نوازا هے، لہٰذا هميں اپني عقل سے کام لينا چاہئے، مثال کے طور پر جب هم نے ائمہ معصومين عليهم السلام کو مستحکم دلائل کے ذريعہ معصوم مان ليا اور يہ قاعدہ ثابت کرديا کہ معصوم سے کوئي غلطي اور خطا سرزد نهيں هوسکتي، چاهے وہ نبي هو يا امام، تو پھر اسي کسوٹي پر هميں روايات کو ديکھنا هوگا، اگر کسي روايت ميں کسي معصوم کي طرف خطا يا غلطي کي نسبت دي گئي هے تو وہ روايت صحيح نهيں هوسکتي، لہٰذا درايت کو روايت پر قربان نهيں کيا جاسکتا۔

جيسا کہ بعض ذاکرين بيان کرتے هيں کہ رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اپني آخري عمر ميں لوگوں کو جمع کرکے کها کہ جس کسي کا مجھ پر کوئي حق هو وہ آئے اور اپنا حق لے لے، چنانچہ مجمع سے ايک شخص نے کها: يا رسول اللہ! ايک مرتبہ جنگ ميں آپ نے کوڑا هوا ميں لهرايا ليکن وہ مجھے لگ گيا، ميں اس کا بدلہ لينا چاهتا هوں، تو آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے کها: آؤ اور مجھ سے بدلہ لے لو، وہ شخص اٹھا اور آپ کے پاس آيا اور رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اپني پيٹھ حاضر کردي، اس نے کها: يا رسول اللہ! جس وقت ميري پيٹھ پر کوڑا لگا تھا تو اس وقت ميري پيٹھ برہنہ تھي، چنانچہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اپني قميص نکال دي، ليکن وہ شخص کوڑا مارنے کے بجائے آپ کي پيٹھ کا بوسہ لينے لگا۔۔۔۔۔

جيسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمايا کہ اس حديث ميں رسول اسلام کو لوگوں کے حقوق پر توجہ رکھنے والا قرار ديا هے ليکن اس روايت ميں بڑے سليقہ سے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي طرف خطا اور غلطي کي نسبت دي گئي هے کہ راستہ ميں غلطي سے کوڑا لگ گيا، تو اگر هم معصومين عليهم السلام کو معصوم مانتے هيں تو اس قاعدہ کے تحت اس روايت کو صحيح نهيں مان سکتے کيونکہ اس ميں پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي طرف غلطي کي نسبت دي گئي هے، لہٰذا هميں روايات نقل کرنے سے پهلے مسلم اصول اور قواعد کے تحت تجزيہ و تحليل کرنا چاہئے تاکہ عوام الناس سے ايسي ضعيف روايتيں نہ پہنچیں، اور ان کے عقائد ميں تزلزل پيدانہ هو۔                                 

شاعر اور ماتمي انجمنوں کي ذمہ داري

شاعر اهل بيت(ع)، نوحہ خوان يا مرثيہ خوان اور ماتمي انجمن بھي هماري مجالس ميں اهم کردار ادا کرتے هيں، اور ان سب کا عظيم ثواب روايات ميں بيان هوا، معصومين عليهم السلام کي سيرت بھي يهي رهي هے کہ اهل بيت عليهم السلام کي مدح خواني کرنے والے شاعروں کو تحفہ اور انعامات سے نوازتے تھے، لہٰذا همارے شعراء کي بھي ذمہ داري هے کہ وہ اپنے اشعار کے لئے ديني اهم کتابوں کا مطالعہ کريں تاکہ انھيں سے حاصل شدہ مطالب کے تحت ان کے اشعار هوں، اور اس ميں بھي صرف معتبر روايات کي بنا پر اشعار کھيں، اهل بيت عليهم السلام کي مدح ميں غلو سے کام نہ ليں، کيونکہ خود معصومين عليھم السلام نے هميں غلو سے روکا هے۔ چنانچہ  حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہ السلام نے غلو کے بارے ميں فرمايا:

"ان مخالفينا وضعوا اٴخباراً في فضائلنا وجعلوها علي ثلاثة اقسام: احدها: الغلو، و ثانيها: التقصير في امرنا،  و ثالثها التصريح مثالب اعدائنا " (7)

 "همارے مخالفوں نے همارے فضائل کے سلسلہ  ميں بهت سي رواتيں گڑھي هيں، جن کو تين حصوںميں تقسيم کيا هے، ان روايات کا ايک دستہ غلوّ پر مشتمل هے، اور دوسرے دستہ ميں ايسے مطالب بيان هوئے هيں جن ذريعہ هماري قدر و منزلت کھٹائي جاتي هے، اور تيسرا دستہ وہ روايت هے جن ميں همارے دشمنوں کو بُرا بھلا کها گيا هے اور ان کے عيوب کو آشکار اور برملا کيا گيا هے".

لہٰذا هميں اهل بيت  کے فضائل بيان کرنے ميں غلو سے کام نهيں لينا چاہئے، نيز نہ هي اهل بيت عليهم السلام کي مدح ميں کمي کرنا چاہئے، جو حق هے وهي بيان هونا چاہئے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زيادہ۔ نيز هماري ماتمي انجمنوں اور نوجوانوں کو بھي شهداء کربلا کے ماتم کے لئے آگے بڑھنا چاہئے اور غم حسين علیه السلام   منانا چاہئے، کيونکہ غم حسين منانے کا بهت عظيم ثواب هے، ليکن اگر همارا مقصد غم حسين منانا هے تو پھر هميں دوسرے غلط کاموں سے دور رہنا چاہئے، اختلافات اور لڑائياں ماتم حسين ميں! نھيں هرگز نهيں! در حقيقت ماتم کرتے وقت هماري آنکھوں سے آنسو بہنا چاہئے ليکن بعض نوجوانوں کو ماتم ميں ہنستے هوئے ديکھا جاتا هے تو عجيب لگتا هے کہ ايک طرف سے يا حسين کھا جارها هے اور سينہ پر ماتم هورها هے ليکن آنکھ ميں آنسوں نهيں تو کوئي بات نهيں ، کم از کم هماري صورت رونے والوں کي طرح تو هو، اور اگر کوئي ماتم کرتے هوئے مسکرائے تو کتنے افسوس کي بات هے!

خواتين کي ذمہ داري

هماري مائيں اور بہنيں اس عزاداري ميں برابر کي شريک هيں ، مجالس ميں عورتوں کي تعداد بھي کم نهيں هوتي اور ان کي اپني مخصوص زنانہ مجالس بھي هوا کرتي هيں بسا اوقات تو ايسا بھي هوتا هے کهيں اگر مردانہ مجالس برپا نهيں هوتيں تو کم ازکم زنانہ مجالس تو هوتي هي هيں، اور مجالس ميں جتنا ثواب مردوں کو ملتا هے اتنا هي ثواب عورتوں کو بھي ملتا هے، کيونکہ ثواب ميں مرد و عورت برابر هيں، چنانچہ وہ بھي ذاکر سے ديني مسائل، اعتقادي دلائل اور فضائل و مصائب اهل بيت عليهم السلام سنتي هيں،  ليکن هماري بہنوں کو اس بات کا خيال رکھنا چاہئے کہ مجالس ميں جاتے وقت اهل عزاء جيسے لباس پہنيں، پردہ کا خيال رکھيں، کسي نامحرم مرد پر نگاہ نہ ڈاليں، تاکہ ثواب کي غرض سے مجالس ميں جاتي هيں تو ثواب ھي حاصل کريں ايسا نہ هو کہ ظاهري طور پر تو مجلس جانے کا ارادہ کيا هے ليکن راستہ ميں گناہوں کي مرتکب هوجائيں، لہٰذا پردہ کا پورا پورا خیال رکنی چاہیے چونکہ جب سیدہ زینب یذید کی دربار پہنچ گی تواپ نے پردے کا یہ سبق دنیا کی عورتوں کو سکھایا اور  یزید سے مخاطب ہوکرکہتی ہیں کہ ای آزادشدہ مردوں کابیٹا آپنی عورتوں اورکنیزوں کوپردوں میں جگہ دیاہیں اوررسول (ص) کی بیٹیاں ایک شیر سے دوسرے شہرمیں بے پردہ پھراتے ہو آیا یہ عدالت ہیں؟ یعنی اتنی ظلم کے باوجود بھی آپ کے پاس پردہ کا سوچ تھا ۔

آخر کلام ميں هم خداوندعالم کي بارگاہ ميں دست دعا بلند کرتے هيں کہ وہ هميں ديندار بننے کي توفيق عنايت کرے، اور هر طرح کے گناہوں سے دور رہنے کي توفيق دے، نيز هماري عزاداري ”مقصد حسيني“ کي تکميل کا سبب قرار پائے۔(آمين يا رب العالمين)

سید یوسف حسین

....................................................................................................................

 

 

۱ -   المناقب، ج۴، ص۸۹۔

2-  وسائل الشيعہ، ج ۱۲، ص ۸۔ ۲

۳ -  ميزان الحکمة، ح ۱۶۴۹۔

۴ -  تھذيب الاحکام، ج۶، ص۱۸۰۔

5 -  امر بالمعروف اور نھي عن المنکر کے مراتب اور درجات کے سلسلہ ميں فقهي کتابوں (توضيح المسائل وغيرہ )  کي طرف رجوع فرمائيں۔      

6 -  تھذيب الاحکام، ج۶، ص۱۸۱۔

7-   عيون اخبار الرضا ، ج۱ ، ص ۳۰۴۔


١٢:٢٩ - پنج شنبه ٦ اسفند ١٣٩٤    /    شماره : ٧١٢٣٩    /    تعداد نمایش : ٢٠١


نظرات بینندگان
این خبر فاقد نظر می باشد
نظر شما
نام :
ایمیل : 
*نظرات :
متن تصویر:
 





منبرهای مکتوب
مصائب
تبلیغ کے بارے میں
شهداء
 
بیداری اسلامی
 
فریب والی سیاست
چند رسانه ای
کلیه حقوق این سایت متعلق به مدیریت ارتباطات و بین الملل مجتمع آموزش عالی فقه می باشد.